دہلی:۔ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس میں ایڈہاک ججوں کی تقرری کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ ایڈہاک ججوں کو مجرمانہ ، سول اورکارپوریٹ کے پرانے مقدمات سے نمٹنے کے لیے مقرر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کی تقرری کے لیے عمل کا آغاز کرسکتے ہیں۔ وزارت قانون ہائی کورٹ کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور چار ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔ مقدموں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تقرری کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھاہے کہ کیاایسی کوئی شق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی مجوزہ تعداد پر تقرری مکمل کیے بغیر ججوں کی تقرری روک دی جاتی ہے ۔ مرکز کی جانب سے سالیسیٹر جنرل (ایس جی ) ایس کے سوری نے کہا کہ ایڈہاک ججوں کی تقرری کے بغیر عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر مجوزہ ججوں کی تقرری ہوتی ہے تو پھر ایڈہاک ججوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن ایڈہاک ججوں کی تقرری اسی وقت ہوسکتی ہے جب باقاعدہ ججوں کی تقرری مکمل ہوجائے۔ جسٹس ایس کے کول نے کہاہے کہ چیف جسٹس کو یقین ہے کہ ایڈہاک جج جب تک مجوزہ تقرری کی تکمیل تک ہائی کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں مددکرسکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کالجیم اور وزارت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہاہے کہ صدر کے ذریعہ کسی فائل تک رسائی حاصل نہیں کی جاسکتی جب تک کہ وہ وزارت کے ذریعے نہیں جاتی ہے اور جب تک کہ وزارت سپریم کورٹ کالجیم سے سفارشات حاصل نہیں کرتی ہے۔ اس عمل کو آسان بنایا جاسکتا ہے لیکن کوئی دوسرا راستہ متعین نہیں کیا جاسکتا۔
