خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
مولانا علی میاں ندوی نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ جب کسی بستی میں ماں کے گود سے اس کا بچہ چھین لیا جائے تو ماں چیخنا چلانا شروع کرتی ہے اور بستی میں کہرام مچ جاتا ہے۔لیکن آج ہمارے اپنے بچوں کو ہماری گودوں سے چھینا جارہا ہے لیکن ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہورہا ہے۔دراصل مولاناعلی میاں ندوی نے جو کہا تھا وہ آج کے دورمیں دو سو فیصد درست ثابت ہورہا ہے،ہمارے بچے اسلامی ادب وثقافت سے نکل کر مغربیت و یہودیت کے دلدادہ ہوتے جارہے ہیں،ان بچوں کی پرورش و رہنمائی میں جو کردار پیش کیا جارہا ہے وہ ناقابل قبول ہے،ہم اپنے بچوں کو قابل انسان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس کیلئے ہم ان کی تعلیم کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہ رہے ہیں۔بڑے سے بڑے اسکولوںمیں ان کا داخلہ دلوا رہے ہیں،ان کے شوق و پسند کی چیزسے انہیں آراستہ کیا جارہا ہے تاکہ ہمارے بچے مایوس نہ ہوںاور اپنے آپ کو دوسروں کو کمتر نہ سمجھیں۔ہم ان کی اس سوچ کو لیکر اپنی ہر قربانی کو پیش کررہے ہیں،لیکن کیا ہم نے سوچا ہے کہ ہمارے بچے جو تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ کس حدتک انہیںبلندی تک لے جاسکتے ہیں،یا ہمارے بچے ماسٹر ڈگری و ڈاکٹریٹ تو حاصل کررہے ہیں،ایم بی اے اور انجینئرنگ کی سرٹیفکیٹ ہمارے بچوں کے پاس موجود ہے،لیکن اخلاقیات اور اسلامی سوچ ہمارے بچوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ہم کچھ ایسے بچوں کو دیکھا ہے جو آٹھویں ونویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں لیکن ان کے ہاتھوںمیں جو اسمارٹ فون موجود ہیں اُن میں فحاشی و عریانیت کی ایسی گندی تصاویر ہیں جسے ایک جوان انسان بھی دیکھنا گوارا نہیں کریگا ۔سیلفی کے نام پر جو تصویر کشی کا سلسلہ جاری ہے اس میں لڑکے و لڑکیوں کا مخلوط ہونا عام ہوچکا ہے۔جو بچے جواں ہوکر بیڑی سگریٹ کے عادی ہوتے ہیں وہی بچے پرائمری اسکول و ہائی اسکول میں پہنچ کر ان چیزوں عادی ہورہے ہیں۔ اسکولوں و کالجو ں میں الگ رویہ ہے، گھروں میں ان کا رہن سہن الگ ہے، ماں بچے سے یہ پوچھنے سے کتراتی ہے کہ رات دیر تک تو کہاں تھا اور وہ یہ سوچتی ہے کہ کہیں میرا بیٹا ناراض نہ ہوجائے اور اسے ڈسٹرب نہ ہو۔ایک باپ کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ اس کے بیٹے کی سرگرمیوں کے تعلق سے وہ نگاہ رکھ سکے۔بیٹی دن رات فون پر مصروف رہتی ہے لیکن ماں یہ سوال کرنے سے گریز کرتی ہے کہ آخر وہ کونسے دوست ہیں جو اتنی دیر تک بات کرتے رہتے ہیں۔باپ کبھی بیٹی کا موبائل لیکر نہیں دیکھتا کہ اس میں کس کس کے نمبرات ہیں۔ماں باپ دونوں ہی اپنے بچوں کو آزادی دینے کو ہی ترقی کام نام دیتے ہیں۔لیکن یہ ترقی تنزلی کی جانب لے جاتی ہے اس کا انہیں احساس بھی نہیں ہے۔آئے دن ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلاں مسلم لڑکی ہندو لڑکے کے ساتھ گھوم رہی ہے،فلاں مسلم لڑکا ہندو لڑکی کو اپنے ساتھ گھمانے کے الزام میں شر پسندوں کو شکار ہورہا ہے۔اس آزادی کی وجہ سے ہی ہماری نسلیں تباہ ہورہی ہیں ۔ دوسری جانب ہم مسجدوںمیں نوجوان نسلوں کوجمعہ کے دن جم کر بیٹھے ہوئے بھی دیکھا ہے ،یہ نوجوان لڑکے مسجدکو کلب کی طرح بنا لیتے ہیں،نہ ان میں مسجد کے آداب کا علم ہے اور نہ ہی مسجد کا احترام کرنا ان کے پاس کوئی اہمیت رکھتا ہے۔ہماری مسجدوںمیں ہم ہر جمعہ دین کی راہ میں نکلنے کی باتیں سنتے ہیں،پیغمبروں صحابہ کے واقعات کو سنتے ہیں،اولیاءاللہ کی شان میں بیان کی جانے والی باتیں ہماری گوش و گذار سے گذرتی ہیں،ہر جمعہ ہم نماز کے بعد دعا میں اپنے آپ کو ایمان پر چلنے والا ،نمازوں کو ادا کرنے والا،مسجدوں کو آباد کرنے والابنانے کیلئے اللہ کے سامنے دعا کرتے ہیں،لیکن جب تک علمائے کرام نوجوانوںکی کردارسازی نہیں کرتے اُس وقت تک ان نوجوانوںمیں نہ مسجد کا احترام پیدا ہوگا اور نہ ہی انہیں نمازوں کی اہمیت معلوم ہوگی۔ہم مسجدکو آبادکرنے کادعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ان مسجدوں کا احترام کرنے والانہیں بن رہے ہیں۔اگر کوئی غیر غلطی سے بھی مسجد کی جانب تھوک دے تو ہم مسلمان اس کا منہ توڑ دیتے ہیں،لیکن مسجد کے اندر داخل ہوکر ہم جو رویہ اختیار کررہے ہیں وہ عین اسلام کے مخالف ہے،ہماری تربیت گھروں سے شروع ہونی چاہیے ،ہماری رہنمائی مسجدوںمیں ہونی چاہیے ،جب گھر اور مسجد ہمارے لئے کردارسازی کے مرکز بن جائینگے تو یقیناًمسلمانوں میں بدکرداری ختم ہوجائیگی اور آنے والی نسلیں اسلام کے ضابطوں پر زندگی گذارانے والی بنے گیں۔مولانا علی میاں ندوی نے اپنے قول میں جو کہا ہے کہ” ہمارے بچے ہماری گودوں سے چھینے جارہے ہیں لیکن ہمیں اس کاا حساس بھی نہیں ہے “۔تو اس بات کا یہی مطلب ہے کہ ہمارے بچوں کو غیر اُن کے تعلیمات پر عمل کروارہے ہیں اور مسلمانوں کو اس کا احساس نہیں ہورہا ہے۔اب صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں اور ہمارے کرداروں پوری طرح سے غیروں کی طرح مشابہت کرنے لگے ہیں۔بس ہم بارگاہِ الہٰی میں اتنی دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ رب العزت ہمیں باکردار بنائے اور ہماری نسلوں کوتباہ ہونے سے بچائے۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ