دھرادون۔ کہاجاتاہے کہ جب چیونٹی کی موت قریب آتی ہے تو اُس کے پر نکل آتے ہیں،اسی طرح سے اسلام سے خارج کئے گئے وسیم رضوی جو اب جتیندر تیاگی بنا پھررہا ہے وہ اپنی حدیں پارکرتے ہوئے شر پھیلا رہاہے۔اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کا سابق چیرمن ملعون وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی نے پیغمبر اسلام ﷺاور تین خلفائے رسول مقبولﷺ سیدنا ابوبکرؓ‘ سید نا عمرؓ اور سیدنا عثمان ؓ کے خلاف ایک شکایت درج کرائی ہے۔اس نے ان تمام کواسلام قبول نہیں کرنے والے افراد کے خلاف تشدد کا ذمہ دار ٹہرایاہے۔تیاگی وہ ہے جس پر حالیہ نفرت پر مشتمل تقریر کے ضمن میں ہری دوار پولیس میں ایک شکایت درج کی گئی ہے۔انڈین ایکسپریس کی خبر ہے کہ پولیس نے اس شکایت کو تولے لیاہے مگر اب تک کوئی بھی ایف ائی آر درج نہیں ہوئی ہے۔اس نے مزید یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وسیم رضوی‘ یاتی نرسنگ آنند گری اور دیگر جنھوں نے دھرم سنسد منعقد کیاتھا کومارنے کی کوشش کی گئی ہے۔اپنی شکایت میں اس نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن شریف کا بغیر کسی بنیاد کے اللہ سبحان وتعالیٰ کی کتاب کے طور پر پروپگنڈہ کیاگیاہے۔اس ماہ کے اوائل میں وسیم رضوی نے ہندو مذہب اختیار کرلیاہے۔ اس کا نیا نام جتیندر نارائن سنگھ تیاگی ہے۔ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد اس نے شیعہ وقف بورڈ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیاتھا۔ ہری دوار نفرت انگیز تقریر کے معاملے کے ملزمین میں ایک نام تیاگی کا بھی ہے۔یاتی نرسنگ آنند کی جانب سے 16-19ڈسمبر کے روز ہری دوار میں منعقد ہونے والے تین روز دھرم سنسد میں کھلے عام مذہبی اقلیتوں کے خلاف کھل کر نفرت انگیز تقریریں کی گئیں اور ”شاستر مے وجیتے“ کے نعرے لگائے گئے۔
