بھارت میں اومیکرون: لاک ڈاؤ ن کا نفاذ سمجھداری نہیں، NTAGI  کا  موقف 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ ہندوستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی، پنجاب میں ریاستی حکومت نے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ کیسز بڑھنے پر ممبئی میں بھی لاک ڈاؤن لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں انفیکشن کے کیسز میں بہت زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آف امیونائزیشن (NTAGI) کے رکن ڈاکٹر این کے اروڑا کا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ کنٹین منٹ کی ضرورت ہے۔ہندوستان میں ایک دن میں کرونا انفیکشن کے 33 ہزار 379 نئے مریض سامنے آچکے ہیں،اس دوران 124 کی موت بھی ہوچکی ہے۔ نئے اعداد و شمار سمیت ملک میں مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 49 لاکھ 60 ہزار 261 تک پہنچ گئی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے بات چیت میں ڈاکٹر اروڑہ نے بتایا ہے کہ ملک میں کرونا کی تیسری لہر ہے۔جب ان سے سوا ل کیا گیا کہ ملک میں کرونا کی تیسری لہر ہے؟تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کورونا کی تیسری لہر ہے۔پچھلے ایک ہفتے میں کرونا کیسز تین گنا بڑھ گئے ہیں اور یہ تیسری لہر ہے، جس میں اومیکرون نامی ویری ینٹ کا بڑا رول ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ اس لہر کی یہ آخری حدہے، لیکن آنے والے دنوں میں کیسز بہت تیزی سے بڑھیں گے۔ ان سے یہ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اومیکرون کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے کے کیسز بڑھ رہے ہیں؟تو اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پچھلے کچھ دنوں میں لوگوں کے اسپتال میں داخل ہونے میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ملک میں کرونا کے 90 سے 95 فیصد بیڈ خالی ہیں، یہ سچ ہے کہ دوسری لہر ڈیلٹا کے وقت، کیس بڑھتے ہی بیڈبھرتے گئے، اس بار علامات کے بغیر زیادہ کیسز ہیں یا کوئی ہلکا کیس ہے۔ان یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا اس بار لاک ڈاؤن جیسی صورتحال آسکتی ہے؟تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن لگانا سمجھداری نہیں ہے، بلکہ ا سمارٹ کنٹین منٹ کی ضرورت ہے، ضلعی سطح پر کچھ پابندیاں ہو سکتی ہیں۔