ہم دوسروں کیلئے کیا کررہے ہیں!!!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اداریہ:آج ہم تین الگ الگ معاملات کا تذکرہ کریںگے۔ پھر آپ کو سوچنا ہوگا کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟اورکون اسکے ذمہ دار ہیں؟۔ ایک نوجوان لڑکی جو مختلف بیماریوں کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ اسے علاج کیلئے معقول رقم درکار تھی، یہ نوجوان لڑکی جس کے والدین اسکا علاج کرانے سے قاصر تھے وہ زندگی کو ختم ہوتے ہوئے بہت ہی نزدیکی کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ اس لڑکی کا علاج کرانے کیلئے جہاں ماں باپ پریشان تھے وہیں کچھ خیرخواہ اس کیلئے پیسے اکٹھا کررہےتھے۔یہ رقم بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے چند نوجوانوں نے محلوں میں گھوم پھر کر چندہ اکٹھاکررہےتھے۔ آخرکار پیسے تو جمع ہوگئے، لیکن لڑکی کا علاج نہ ہوسکا اوروہ فوت ہوگئی۔ دوسراواقعہ ، ایک طالب العلم جو اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا ہے اسکے ساتھ اسکے بھائی بہن بھی زیر تعلیم ہیں، حکومت سے مالی امداد تو مل رہی ہے لیکن سرکاری زمرے میں داخلہ لینے کے باوجوداس طالب العلم کو مزید مالی امداد کی ضرورت ہے۔ اگر اس طالب العلم کو بروقت مالی امداد نہیں ملتی ہے تو اس بچے کو امتحان دینے سے روک دیا جائیگااوراسکا ایک سال یا یوں کہئے کہ زندگی بھر کی محنت بے کار ہوجائےگی اورجس قوم سے وہ طالب العلم تعلق رکھتا ہے اس سے وہ بدگمان ہوجائےگا، ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ تیسرا واقعہ، ایک ایسی عورت کا ہے جس کی دو جڑوا بیٹیاں ذہنی اورجسمانی طور پر مفلوج ہیں۔ یہ ماں اپنے ان بچیوں کی پرورش کیلئے جہاں مزدوری کرتی ہے وہیں اسکے دو بچے زیر تعلیم ہونے کے باوجود محنت کرتے ہوئے اپنی بہنوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے پورا زور لگارہے ہیں۔ یہ تینوں واقعات محض دلچسپی پیدا کرنے یا پھر میری تحریر کی واہ واہی بٹورنے کیلئے نہیں ، بلکہ سماج کی ایک تصویر دکھائی جارہی ہے۔ جسے لوگ دیکھتے تو ہیں مگر ردعمل کچھ نہیں ہوتا۔ سماج میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مشکلات سے گھر ے ہوئے ہیں مگر ان مشکلات سے گھر ہوئے لوگوں کی مدد کرنے کیلئے شاید ہی کسی کے پاس من ہو ۔ حالانکہ ہمارے معاشرے میں کار خیر کرنے والوں کی بھی کمی نہیں، مگر بیشتر لوگ اپنی استطاعت ہونے کے باوجود بھی بار بار انہیں لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو جوپہلے سے ہی دوسروں کی مدد کرتے آرہے ہیں۔جو لوگ دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سلسلہ جاری کئے ہوئے ہیں انہی کی طرف اشارے کئے جاتے ہیں۔ کیا عام لوگ بھی اپنی استطاعت کے مطابق ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے، کیا مدد کرنے کیلئے سیٹھ ہونا ، مالدار ہونااوربڑا بزنس مین ہونا ضروری ہے؟۔ چھوٹی چھوٹی امداد اپنے ہاتھوں سے کیجئے ، دیکھئے کہ کتنی خوشی ہوتی ہے۔ چھوٹے پیمانے پر اپنے لوگوں کی مدد کریں، دیکھیں کہ کسطرح سے سماج کے مسائل حل ہوںگے۔ ایک گلی میں اپنے جان پہچان کے لوگوں کو اکٹھا کریں۔ انکے پاس سے چندے کے نام پر کچھ رقم لیں، اسے جوڑ کر بڑا کام بھی کیا جاسکتا ہے۔ اپنے موبائل پر نظرڈالیں ، کتنے ہی واٹس ایپ گروپ ہیںجس میں ضروری غیر ضروری مقاصد کے تحت تشکیل کئے گئے ہیں۔ اگر ایسا گروپ بھی بنالیا جائے جو کسی کی مدد کیلئے فوری طور پر اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرے ۔ کام کرنے کیلئے بہت سے راستے ہیں مگر ہمارے ذہن ایک طرح سے مفلوج ہوچکے ہیں ، ہم دوسروں پر زیادہ منحصر ہونے لگے ہیں، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جس کی مدد کرنی ہے اس سے چھٹکارہ کیسے پائیں، ہم یہ دیکھتے ہیںکہ مدد کرنے والے کے پاس مدد چاہنے والے کو کیسے بھیجیں ، یقیناً جو مدد کررہا ہے وہ بڑا کام کررہا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی مدد کرنے کی ذمہ داری ہماری اپنی بھی ہوتی ہے۔ آخرکیوں نہیں ہم دوسروں کی مدد کرنے کیلئے اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے۔ یہ نہ دیکھیں کہ کون دوسروں کیلئے کیا کررہا ہے یہ دیکھیں کہ ہم دوسروں کیلئے کیا کررہے ہیں ۔ تبھی جاکر تبدیلی ممکن ہے۔