چنگیری:۔سماجی کارکن دوا بیج اور کھاد کے کاروباری ضلع کنڑا ساہتیہ پریشد کنوینر ،سابق ضلع وقف مشاورتی کمیٹی نائب چیرمن،چنگیری تعلق صحافی انجمن کے اعزازی صدر سنتے بنو ر کے سراج احمدنے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ میکے داٹو اسکیم سے متعلق چند ضروری پہلوؤن پر نظر ڈالی جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے،سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق بہتر بارش کے موسم میں کرناٹک سے تمل ناڈو کو 177 ٹی یم سی پانی بہانہ ہوگا ریاست میں موجود کاویری ندی جو بہتے میکے داٹو ہوتے ہوئے تمل ناڈو پہنچتی ہے،باقی پانی کرناٹک کو استعما ل کی اجازت ہوگی ۔اس میں سے تمل ناڈو کو اس کے حصہ کا 177 ٹی یم سی پانی مہیا کرانے کے بعد مزید ابزُود پانی بھی تمل ناڈو کو بہا یا گیا ،سال 2011 میں ’48 ‘ٹی یم سی 2012ء میں ’67’ ٹی یم سی 2014ء میں ’37’ ٹی یم سی2018 میں 221 ٹی یم سی 2019 میں 98 ٹی یم سی 2020ء میں ’34’ٹی یم سی روان سال 2020ء اور 2021ء ’95’ ٹی یم سی پانی تمل ناڈو کو زائد بہا گیا ہے،تمل ناڈو کو ریاست کی کاویری ندی سے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق دئے جانے والے پانی سےزائد پانی دیا گیا ،یہ زائد پانی تمل ناڈو حکومت کی نااہلی کا سبب استعما ل میں لائے بغیر سمندر کو چھوڑ دیا گیا ۔جب یہ معاملہ ہورہا ہے کہ بارش کی وجہ جمع زائد پانی کو چھوڑ دینا پڑرہاہو اور اس کو محفوظ کرنے کے لئے کوئی معقول انتطام نا ہونے کے سبب یہ پانی ضایع ہورہا دیکھ کر ریاست کی پچھلی کانگریس حکومت نے سال 2017ء میں میکے داٹو کے مقام پر ساڑے پانچ ہزار کروڑ روپیئے کی لاگت سے ایک ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایاا اور منصوبہ کو مرکز کی منظوری کے لئے بھیج دیا گیا ،پھر مزید کچھ تبدیلوں کے ساتھ سال 2018ء سال 2019ء میں اس منصوبہ کو ساڑے پانچ ہزار سے نوہزار کروڑ روپیئے بڑھاکر روانہ کی گئی، مگر اس کے بعد ریاست اور مرکز میں بھاچپا کی حکومت ہوتے ہوئے ریاست کی عوام کےمفادات تعین لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ،جبکہ میکے داٹوکے معاملہ کو لے کر کسی بھی قسم کی کوئی تکرار کہیں سے بھی نہیں کیونکہ بارش کے موسم میں جمع زائد پانی کو محفوظ کرنا اور ریاست کی عوام کو ادھر تقریبا چار سےپانچ ضلعوں تک اس کو پہنچا کر پینے کے پانی کا مسلہ حل کیا جاسکتا ہے، تیزی کے ساتھ ترقی پزیر اور بڑھ رہے ،ریاستی دارالحکومت بنگلورو کے لئے بھی یہ ایک پانی پہنچانا ہوا تو میکے داٹو میں ڈیم تعمیر ہونے سے بڑی راحت میسر ہوگی،پانی عوام کی ضرورت سے مظابق مہیا کرنا یہحکموت کا فرض ہے ،اور زائد پانی کو محفوط کرتے ہوئے استعمال میں لانا ہمارا حق اور حکومت کی دانشمندی میں سے ہے، اس حق کے لئے کانگریس پارٹی کی جانب سے اُٹھایا گیا پیدل یاترا کا اقدام قابل ستائش ہے،گفتگو کو بڑھاتے ہوئے سراج احمد نے مزید کہا کہ کیا کہا جائے عوام کے ووٹون سے منتخب جمہوری حکومت عوام کے مسائل سے لاتعلقی برت رہی ہے جو قابل تشویش ہے،عوام حکومت کی ان غلط پالیسوں کی وجہ تنگ آچکی ہےبڑھتی مہگائی بڑھتی شرح بے روزگاری نوجوان طبقہ کو روزگا ر مواقع میسر نہیں، کسانوں سے متعلق پریشان کن فیصلوں پھر مہینوں تک کسانوں کو احتجاج کے لئے بے یارو مددگا ر راستہ پر پڑا رہا چھوڑ دینا کئی مہینوں کے بعد کچھ اپنی سیاسی پارٹی کو سیاسی بقاء کی مشکل گھڑی سے بچانے کی فکر لاحق ہونے پر ہٹلر طرز پر نافذ قوانین کی واپسی پنجاب کے فیروز پور میں ایک ریلی میں شریک ہونے پہنچے وزیر اعظم کی توقع کے مطابق عوام کے جمع نا ہپونے پر مخالف پاڑٹی پر سکیورٹی کا بہانہ بناکر الزام لگانا کیا ملا ملک کی عوام کو وزیر اعظم کے ان تما م کمالات پر کیا کسی ملک کے وزیر اعظم کی سرف تقریر سے عوام کا پیٹ بھر جاتا ہے ایساء نہیں ہے تو پھر اپنی تقریروں میں حقائق کی تلاش ضروری ہے ورنہ اب اس وقت ہی ملک ترقی کی راہوں سے ہت چکا ہے مزید عوامی لاپرواہی اور وزیر اعطم کی تقریر پر نعرہ بازی یقینا ملک کی ترقی کو متاثر کریگی ۔جمہوریت میں عوام کے مفادات مقدم رکھنا بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار اور کسان ، کسان جو اس ملک کی ریڑھ ہے ان کے مسائل پر حکومت کو پوری سنجیدہ ہونا ہی حکومت کی اصل ذمہ داری ہونی چاہیے ۔
