نومنتخب ڈپٹی کمشنرمنافع خوری، دبائو، سیاسی اثرورسوخ کو بلائے طاق رکھیں ! عوام کا مطالبہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:شیموگہ ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار کا تبادلہ ہوچکا ہے ۔لیکن اس بات کی امید نہیں تھی کہ نئے ڈپٹی کمشنر کے طور پرڈاکٹر آر سلوامنی چارج سنبھالینگے۔ دراصل ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار کے تبادلے کی خبریں زوروں سے گردش کررہی تھی، اسی کے ساتھ داونگیرے ڈپٹی کمشنر مہانتیش بیلگی کو شیموگہ ڈپٹی کمشنر کے طور پر عہد سنبھالنے کی خبریں بھی چھائی ہوئی تھی، لیکن اچانک اس فیصلے کو بدل کر وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی نے کولارڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ڈاکٹر آرسلوامنی کو شیموگہ ضلع کیلئے تعینات کردیااوراتناہی نہیں فوری طور پر شیموگہ پہنچ کر اپنا عہدہ سنبھالنے کے احکامات بھی صادر کردئے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دنوں ہی ڈاکٹر آرسلوامنی نے کولار ضلع سے تبادلہ کرکے شیموگہ پہنچ کر اپنی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ شیموگہ ضلع نہ صرف سیاسی اثرورسوخ بہت زیادہ ہےبلکہ یہاں منافع خوری،سیاسی دبائو اورپوشیدہ طاقتوں میں دب کر کئی اعلیٰ افسران انتظامیہ باگ ڈور مافیا کے ہاتھوںمیں سونپ دیتے ہیں اوروہ محض انکے ہاتھوں کی کٹھپتلی بن کر کام کرتے ہیں۔اس وقت نومنتخب ڈپٹی کمشنر آرسلوا منی سے شیموگہ کی عوام اس بات کی امیدیں لگارہی ہیں کہ وہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے شیموگہ ضلع میں اپنی خدمات غیر جانبدارانہ اور پوری شفافیت کے ساتھ انجام دیںگے ۔ ڈپٹی کمشنر کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔ جیسے کہ ضلع میںکئی آبی ذخائر موجود ہیں اور ان میں ہزاروں مسائل بھی حل کرنے ہیں۔ سب سے ضروری مسئلہ اس وقت ضلع کے متعدد علاقوں میںزیر تعمیرہزاروں کروڑوں کی مالیت والے منصوبوںکا نفاذ ہے ۔ضلع میں جاری ترقیاتی کاموں کو لیکر عوام کی جانب سے کئی طرح کی شکایتیں بھی موصول ہوچکی ہیں ۔ڈپٹی کمشنر کو ان سب سے بھی واسطہ پرسکتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کو چاہئے کہ وہ کسی بھی مفاد ، دبائو اور سیاسی سازشوں کا شکار ہوئے بغیرمناسب فیصلےلیں۔ عوام ان سے امیدیں لگائی ہوئی ہیں کہ وہ عوام کی ان امیدوں پر کھرے اُتریں گے اورضلعی مسائل کو مناسب سوجھ بوچھ کے ساتھ حل کرینگے۔ اس وقت شیموگہ شہر میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکوز اسمارٹ سٹی پروجیکٹ بن چکا ہے۔ شیموگہ سٹی کارپوریشن کے تحت نافذ ہورہے اسمارٹ سٹی کے ترقیاتی کام عوام کیلئے باعث سردرد بن چکے ہیں۔ کئی جگہوں پر غیر ذمہ داری ، غیر معیاری کام ہورہے ہیں۔ کئی جگہوں پر زیرالتواء کاموں کی وجہ سے عوام عذاب سہہ رہی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اتنی بڑی غیر ذمہ داری اورلاپرواہیوں کے باوجود ان پر سوال اٹھانے والاکوئی نہیں ہے۔ اسمارٹ سٹی کاموں سے مایوس مقامیوں نے جگہوں پر احتجاجات بھی کرچکے ہیں اورعوامی نمائندوں کو آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں۔ واضح ہوکہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی عملی کمیٹی میں ڈپٹی کمشنربھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نومنتخب ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر آر سلوامنی کو اسمارٹ سٹی کی سرگرمیوں پرتوجہ مبذول کرنا ضروری ہے۔ انہیں شہر کے مختلف علاقوں کا جائزہ لینا ہوگا اور عوام کے مطالبات کو قبول کرنا ہوگا۔