تبدیلی مذہب مخالف ایکٹ کو منسوخ کیا جائے: بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کا احتجاج 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ: تبدیلی مذہب کی پابندی ایکٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئےبھارتیہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکس وادی) کی ضلع کمیٹی نے آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اورضلع انتظامیہ کے ذریعہ وزیر اعلیٰ کو درخواست پیش کی گئی ہے۔ مظاہرین نے احتجاج کے دوران بتایا کہ تبدیلی مذہب کی ممانعت ایکٹ مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کوپامال کرنے والااورآئین کے برخلاف ہے۔ یہ قانون مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے محروم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذہبی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کا شہری اپنی پسند کے مذہب کی پیروی کر سکتا ہے، کسی بھی مذہب کے نظریات کی تشہیر کرنے کا حق حاصل ہےاوریہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔لیکن بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت کے منظور کردہ یہ ایکٹ ایک حراسانی سے کم نہیں ہےیہ ایک خودمختاراقدام ہے جومساوات، سماجی انصاف کی مخالفت کرنے جیسا ہے۔ انہوںنے غصے کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ بھارت کو ذاتی امتیاز، غیر مساویت کی بنیاد پر منووادی ہندو اشٹر میں تبدیل کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ اس اقدامات کو دیکھتے ہوئےترمیم شدہ ایکٹ کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ فوری طور پر اس ایکٹ کومنسوخ کرنے پر مظاہرین نے زور دیا ہے۔ مظاہرین نے ریاستی گورنر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ایکٹ کیلئے دستخط نہ کریں۔ احتجاج میں سی پی آئی (ایم) کے ضلعی سکریٹری ایم نارائن، آننت رامو، ہنومما، لکمشی نارائن وغیرہ موجودتھے۔