دہلی:۔ بھگوڑا تاجر وجے مالیا کے توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس یو یو للت اور جسٹس ہرشی کیش رائے کی بنچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی۔ سپریم کورٹ کوہندوستان سے فرار ہونے کے بعد برطانیہ میں مقیم صنعت کار وجے مالیا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے معاملے کی سماعت کرنی تھی۔ عدالت نے یہ فیصلہ 30 نومبر 2021 کو وزارت خارجہ سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر لیا۔ سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا نے وزارت خارجہ کا ایک نوٹ جسٹس ادے امیش للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ کو پیش کیا، جس کے مطابق مالیا کی حوالگی آخری مراحل میں ہے۔مالیا نے برطانیہ میں اپنے تمام قانونی چارہ جوئی مکمل کرلی ہے ۔ مزید خفیہ معلومات دی گئی ہیں۔ عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ جے دیپ گپتا اور امیکس کیوری کو بھی مقرر کیا ہے۔ جسٹس للت نے کہا کہ ہم نے طویل انتظار کیا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر اس شخص کوکارروائی میں حصہ لینا ہوتا تو وہ یہاں آتا لیکن اس نے اپنا وکیل بھیج دیا ہے۔ مالیا چاہیں تو اپنا تحریری جواب دے سکتے ہیں۔ اگر مالیا خود نہیں آتے ہیں تو ان کے وکیل بحث کریں گے۔اس سے قبل 9 مئی 2017 کو سپریم کورٹ نے مالیا کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا تھا، کیونکہ اس نے اثاثوں کی مکمل تفصیلات نہیں دی تھی۔ عدالت نے 10 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ دراصل9 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے وجے مالیا کے خلاف توہین عدالت اور ڈیاگو ڈیل سے مالیا کو ملنے والے 40 ملین امریکی ڈالر پر اپنا حکم محفوظ کر لیا تھا۔ بینکوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیاگو ڈیل سے حاصل ہونے والے 40 ملین امریکی ڈالر سپریم کورٹ رجسٹری میں جمع کرائے جائیں۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مالیا سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے عدالت میں اپنی جائیدادوں کے بارے میں جو معلومات دی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں؟ کیا آپ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی؟ کیونکہ کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ مالیا عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی لین دین نہیں کر سکتے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ مالیا کے خلاف عدالت کے حکم کو کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ مالیا کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایس بی آئی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مالیا پر 9200 کروڑ روپئے واجب الادا ہیں۔
