ممبئی:۔کیا کرناٹک کیلئے جاری کئے گئے انتخابی منشور میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے ساتھ ساتھ بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا وعدہ کر کے کانگریس نے غلطی کی اور بی جے پی کو موقع دے دیا ہے؟بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے مگر کانگریس کا کہنا ہے کہ اس سے فرق نہیں پڑیگا۔ اگر تھوڑا بہت فرق پڑا بھی تو ساحلی کرناٹک میں پڑ سکتا ہے مگر وہ بھی چند سیٹوں تک محدود ہے گا مگر بقیہ تمام کرناٹک میں اس وعدے سے کانگریس کو فائدہ ملے گا کیونکہ اقلیتیں اور شہری سماج کی جانب سے اس کا خیر مقدم ہوگا، جو نقصان ساحلی کرناٹک میں ہو سکتا ہے اُس کی بھر پائی بہت آسانی سے بقیہ کرناٹک میں ہو جائے گی۔واضح رہے کہ کانگریس نے انتخابی منشور جاری کیا جس میں کئی وعدوں، جو انتخابی تقاریر کے ذریعہ منظر عام پر آچکے ہیں، کے علاوہ یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر کر ناٹک میں اس کی حکومت بنی تو نفرت پھیلانے والی تنظیموں مثلاً پی ایف آئی اور بجرنگ دل پر پابندی عائد کر دیگی۔ بی جے پی نے منشور جاری ہوتے ہی کانگریس کے اس وعدے کو اُچک لیا اور پروپیگینڈہ شروع کر دیا کہ کانگریس ہنومان بھکتوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔روزنامہ’’ ڈیکن ہیرالڈ ‘‘نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کانگریس میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بجرنگ دل کا نام لئے جانے سے مطمئن نہیں ہے مگر دیگر ارباب اقتدار کا خیال ہے کہ تنظیموں کا نام لئے بغیر کچھ کہنا مناسب نہیں تھا۔ اخبار مذکور نے کرناٹک کےانتخابی امور سے وابستہ ایک کانگریسی لیڈر سے معلومات حاصل کرنے کے بعد کہا کہ بجرنگ دل کا نام لینا فرقہ پرستی کے خلاف کانگریس کے موقف کو مزید تقویت دینا ہے۔ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق اس سے واضح ہے کہ کانگریس پارٹی اقلیتوں اور سول سوائٹی کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ بجرنگ دل کی دہشت گردی سے نمٹنے کا عزم رکھتی ہے۔اس پیغام کی وجہ سے کانگریس کا فائدہ ہی ہوگا، نقصان ہوا تو وہ بہت محدود ہوگا کیونکہ ریاست میں بجرنگ دل کا اثر محدود ہے۔ اگر منشور میں نام لینے سے کوئی فرق پڑا بھی تو موداری بدری جیسے چند حلقوں میں ہو سکتا ہے مگر کانگریس کو بقیہ ریاست میں فائدہ ملنے کی بھر پور امید ہے، ساحلی کرناٹک میں بھی فائدہ مل سکتا ہے کیونکہ بجرنگ دل کا نام لینے سے اس تنظیم کے ستائے ہوئے رائے دہندگان کانگریس کے حق میں ہموار ہو سکتے ہیں۔کانگریس کے دو لیڈروں سے گفتگو کی بنیاد پر شائع ہونے والی اس خبر کے مطابق کانگریس نے پارٹی کے انتخابی منشور کی تیاری پر کافی مغز پاشی کی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے اور فائدہ نقصان کا اندازہ کئے بغیر بجرنگ دل کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ پی ایف آئی اور بجرنگ دل کا نام لئے بغیر بات نہیں بن سکتی تھی۔ ایک اور لیڈر کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ نام لئے بغیر اگر صرف یہ لکھا جاتا کہ اقلیتی اور اکثریتی طبقات کی تخریب پسند تنظیموں پر پابندی عائد کی جائیگی تو اس سے بی جے پی کواشیو بنانے کا زیادہ موقع ملتا، تب وہ اس وعدہ کو تمام ہند و تو اوادی تنظیموں سے جوڑ لینے میں تاخیر نہ کرتی۔یادر ہے کہ کانگریس کوسیلف گول کا ماہر قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ عین انتخابی ماحول میں کسی نہ کسی بیان کی شکل میں وہ بی جے پی کو موقع فراہم کر دیتی ہے اور بی جے پی اس سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی،مگر ، مذکورہ لیڈروں کے مطابق بجرنگ دل کو بین کرنے کا وعدہ کر کے اس نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔
