دہلی:۔سپریم کورٹ نے منگل کو مرکز سے پوچھاہے کہ اس کے حکم کے باوجود، سال 2022 کے لیے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) میں خواتین امیدواروں کی تعداد پچھلے سال کے برابرکیوں ہے۔سپریم کورٹ نے مرکزسے کہاہے کہ وہ راشٹریہ انڈین ملٹری کالج (آر آئی ایم سی) اور راشٹریہ ملٹری اسکول (آر ایم ایس) میں داخلے کے لیے این ڈی اے امتحان 2021 میں خواتین سمیت امیدواروں کی کل تعداد سے متعلق ڈیٹا عدالت کے سامنے پیش کرے۔جسٹس سنجے کشن کول اور ایم ایم سندریش کی بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی سے کہا کہ حکومت کو یہ بتانا پڑے گا کہ یو پی ایس سی نوٹیفکیشن کے مطابق سال 2022 کے لیے خواتین کی تعداد 19 کیوں مقرر کی گئی۔بنچ نے کہاہے کہ یہ 2021 کے اعداد و شمار کے برابرہیں۔ پچھلے سال آپ نے کہا تھا کہ انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے خواتین کو کم داخلہ دیا جا رہا ہے۔ اب آپ نے پھر سال 2022 کے لیے خواتین امیدواروں کے لیے وہی نمبر تجویز کیا ہے۔ آپ نے یہ اعداد و شمار کیوں مرتب کیے؟ آپ کو یہ واضح کرنا ہوگا۔ 19 نشست ہمیشہ کے لیے وہاں نہیں ہونی چاہیے۔ یہ صرف ایک ایڈہاک اقدام ہے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اس معاملے میں حلف نامہ داخل کرنے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا اور باقی فریقوں کو اس کے بعد دو ہفتے کے اندر اپنے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے اس معاملے کو 6 مارچ کو سماعت کے لیے درج کر دیا۔
