اِس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے;یکساں سول کوڈکے نفاذکیلئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر; عرضی دائر کرنے والے عرضی گذار مولاناابولکلام آزادیونیورسٹی کے ہیں چانسلر

سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز

دہلی :۔لگتاہے ،فیروزبخت بھی وسیم رضوی کے نقش قدم پرچل نکلے ہیں۔فیروزبخت خودکو مولانا آزادکانواسہ یاپوتا بتاتے ہیں،لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہوسکاہے۔اس نام پروہ کانگریس کے ساتھ بھی رہ چکے ہیں۔مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی کا چانسلر بھی انھیں ظاہرہے،یوں ہی نہیں بنایا گیا ہوگا۔چانسلربنائے جانے کے بعداس وقت کے وائس چانسلر سے ان کے کئی مالی اختلافات بھی رہے ۔اب انھوں نے یکساں سول کوڈ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائرکی ہے ۔ ظاہر ہے، اردونام ایسے کام کے لیے استعمال ہوتے ہیں،جیسے طلاق ثلاثہ پرعرضی داخل کروائی گئی تھی۔ فیروزبخت نے درخواست میں کہا ہے کہ پرسنل لاء خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ تمام شہریوں کے لیے یکساں سول قانون ملک میں اتحاد کو بھی فروغ دے گا۔فیروز بخت احمدنے بتایاہے کہ 2019 سے اس معاملے پر ان کی عرضی دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ جب کہ طلاق ثلاثہ پربھی مسلم پرسنل لاء بورڈکی عرضی اب تک کورٹ میں زیرالتواء ہے،لیکن اس پرکوئی بات نہیں ہوتی۔لیکن کچھ مسلم نام سے ایسے شوشہ چھوڑوائے جاتے ہیں تاکہ آسانی سے کہاجائے کہ یہ مطالبہ تومسلمانوں کی طرف سے ہوا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ یہ شوشہ یوپی الیکشن کے وقت چھوڑاگیاہے۔ فیروزبخت نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کو خود طے کرے۔ ان سے پہلے 3 مزید درخواست گزار عنبرزیدی، نکہت عباس اور دانش اقبال بھی سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی طرح کے پرسنل لاز کی موجودگی قانونی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔ بہت سے معاملات میں خواتین اور بچوں کو ان کے آئینی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔فیروز بخت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لاء مردوں کو تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے۔ آبائی جائیداد میں لڑکیوں کا حق لڑکوں کے مقابلے بہت کم ہے۔ عیسائی اور پارسی برادری کے بہت سے سول نظام بھی جدید معاشرے کی ضروریات سے میل نہیں کھاتے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 14 قانون کی نظر میں ہر شہری کی برابری کی بات کرتا ہے۔ آرٹیکل 44 حکومتوں سے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول قوانین بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن اب تک ان چیزوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ مرکز کو یکساں سول کوڈ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کرے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں اس معاملے پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ فی الحال اس کا یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کے بعد سے 4 عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت کرنے کامطالبہ کیا ہے۔