بے مہار یوپی کا مسلمان ، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا

مضامین
از:۔نقاش نائطی۔966562677707+
جو بھی قافلہ بغیر لیڈر کے اپنی منزل کی طرف  رواں دواں پایا جاتا ہے راستے کی سعوبتوں مصیبتوں کی تاب نہ لاکر بکھر کر، صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنچنے سے رہ جاتا ہے۔ یوپی کی آبادی کم و بیش 25 کروڑ کے آس پاس ہے  اس حساب سے 20% مسلمان 5 کروڑ کے آس پاس یوپی  میں رہتے ہیں یوپی میں موجود مختلف ذات برادری کے ان کی ذات برادری کے اعتبار سے نہ صرف  سیاسی پارٹیاں ہیں بلکہ ہر ذات برادری کی  پشت پناہی کے لئے اس ذات برادری کے متاثر کن سیاسی لیڈران موجود ہیں اور تمام ذات برادریاں، اپنے موجود سیاسی لیڈروں میں ہزار کمیوں خامیوں کے باوجود، اپنے اپنے سیاسی لیڈروں کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے پائے جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ انتخاب سے قبل ان ذات برادریوں کے ووٹوں کے حصول کے لئے مرکزی سیاسی پارٹیاں،ان سے آنتخابی سمجھوتے کرتی پائی جاتی ہیں اس لئے وہ اپنا اپنا سیاسی مقام حاصل کرتے ہوئے،  خود کے لئے نہ صرف سیاسی عہدے حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں بلکہ،اپنی اپنی ذات برادری کے لئے حکومتی مراعات بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔اسی یوپی کے یادو کورمی  کی آبادی میں  9% حصہ داری باوجود انکے لوگ،کئی کئی مرتبہ  یوپی کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں لیکن  یوپی کے مسلمان 19% سے 20% حصہ داری میں رہنے کے باوجود،ایک منظم سازش کے تحت، ہم مسلمانوں کو مختلف نام نہاد سیکیولر پارٹیوں میں بانٹتے ہوئے، ہمیں اب تک ایک مرتبہ بھی وہ وزارت اعلی نہ دئے، ہمیشہ سے  حکومتی مراعات سے محروم رکھا گیا ہے
جون 1975سے مارچ 1977 ایمرجینسی بعد جہاں مرکزی کانگریس پارٹی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی  جنتا پارٹی شکل، سیاسی پارٹی وجود میں آئی، وہیں پر مختلف ذات برادری کی پارٹیوں نے، آبادی میں اپنی حصہ داری کے بل پر حکومتی مراعات حاصل کرنے سیاسی پارٹیاں بنائیں، وہیں پر آنجہانی دلت نیتا کانشی رام ایک مضبوط و موثر  دلت نیتا کے طور ابھرےاور  اس وقت کے اپنے مقبول سیاسی نعرہ” جس کی جتنی جن سنکھیہ(آبادی) اس کی اتنی حصہ داری” کا نعرہ دیتے ہوئے، یوپی سیاست میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اپنی پارٹی کے پہلے وزیر اعلی کے طور دلت نیتا مایاوتی کو نہ صرف سی ایم  پد پر بٹھانے میں وہ کامیاب رہے، بلکہ مایاوتی اسکے بعد 4 مرتبہ یوپی کی مسنداعلی پر براجمان رہنے والی لیڈر بن گئیں۔
یوپی کی آبادی کے 20% حصہ داری والے ہم مسلمان، اپنے کسی رہنما سے نہ رہتے، بے مہار قافلے کی طرح مختلف سیاسی پارٹیوں کے انکے نامزد دلال یا ایجنٹ ہی کو ہم مسلمان اپنا رہبر و لیڈر مانتے ہوئے، فٹ بال میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان محو مرکز رہنے والے بال کی طرح، کبھی ایک کی  (سپھا) ٹھوکر پر تو کبھی دوسرے (بھاسپا)  کی ٹھوکر پر، کبھی ادھر تو کبھی ادھر، ان ذات برادریوں کی ٹھوکروں پر ہی، اس تفکر کے ساتھ جیتے رہے کی دیکھو میچ کوئی بھی جیتے، لیکن دونوں پارٹیوں کیلئے (اس فٹ بال کی طرح) ہم کتنے اہم ہیں اور ہمارے بغیر کوئی بھی پارٹی میدان سیاست میں جیت سے ہمکنار ہو ہی نہیں پاتی ہے۔لیکن ہم عقل کے ابدھے کبھی اپنی اوقات، ان نام نہاد سیکیولر پارٹیوں کے پاؤں کی ٹھوکروں پر رکھ دئیے جانے کے احساس سے ماورا،خود دونوں پارٹیوں کی طرف سے اختتام کھیل بعد، سنبھال کر بال کو رکھ دئیے جیسا،  انتخاب بعد حکومتی من و سلوی استفادیت سے محروم، 5 سال کیلئے ایک کنارے رکھ دئیے جانے کا ہمیں احساس ہی نہ رہا۔
2012 سے 2017 خود ہمارے ووٹوں سے جیت کرحکومت کرنےوالے سپھا لیڈر اکلیش،اسے کم عمری میں یوپی کی مسند اعلی پر براجمان کرنے والے،سب سے بڑے مددگار ہم مسلمانوں کو، مظفر نگر اونچی ذات ٹھاکروں کے ہاتھوں منظم مچائے گئے قتل عام بعد بھی، ہم مسلمانوں پر ہوئے ظلم و جبر پر ہماری داد رسی کرنے کےبجائےہم مسلمانوں پر ہی ظلم کی انتہا کرنے والے ٹھاکروں کی پشت کر، انہیں بچاتے نظر آئے۔ یوپی کے اکھاڑہ کشتی پہلوان اسکے باپ کو  اپنی ذات مسلم کے 20% ووٹوں کے سہارے سی ایم پد پرتین  مرتبہ بٹھانے والے، مسلم نیتا اعظم خان کو، مسلم دشمن سنگھی نیتا یوگی آدھتیہ ناتھ کے،  اس کبار سنی میں جیل کی صعوبتوں جیسے بے جا ظلم سے بھی بچانے میں نہ صرف ناکام پائے گئے، بلکہ  انکی عمر رسیدہ بیوی اور بیٹے تک کو  ناکردہ گناہ کی پاداش میں یوگی کے ظلم و جبر سے آمان دلانے میں ناکام رہے۔ یہ اور بات ہے سماج وادی پارٹی سپھا سے منسلک رہتے، یوپی میں بعد انتخاب ممکنہ اقتدار سنبھالنے والی پارٹی سپھا سے، خود کے اور اپنے باپ اعظم خان کو حکومتی شکنجے سے آمان دلانے کی خاطر، ضمانت پر رہا ہونے والے اعظم خانے کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کےپاس،  پھر ایک مرتبہ مسلم ووٹوں کو رجھاکر انہیں، بے وقوف بنا، مسلم ووٹوں کو اکلیش والی سپھا پارٹی کی جھولی میں بن مانگے ڈالنے کے سوائے کوئی چارہ ہی نہیں بچا ہے۔ اس لئے اب ہمیں، اس مجبور اعظم خان و اسکی آل کی کسم و پرسی  پر رحم کھاکر،پھر ایک مرتبہ، قاتل مسلم مظفر نگر ٹھاکروں کے پشت پناہ اکلیش یادو کو 20% یوپی کی مسلم آبادی کے ووٹ دینے کے بجائے، 5سے 6 کروڑ یوپی کے مسلمانوں کو، انکے تابناک معاشی و تعلیمی ترقی کیلئے، اسی کے دہے کے کانشی رام کے دئیے نعرے "جس کی جتنی جن سنکھیہ(آبادی) اس کی اتنی حصہ داری” کے نعرے کو آج پوری ہمت و جوان مردی کے ساتھ یوپی انتخابی ریلیوں میں گرجتے بولنے والے، مسلم سیاسی اتحاد کی ایک چمکتی کرن، اے آئی ایم آئی والے اسدالدین اویسی کی پشت پر یوپی کے مسلمانوں کو کھڑا ہوتے اپنی  طاقت دکھانے اور درشانے کی ضرورت ہے
بعد آزادی ان 74 سالوں میں سپھا، بھاسپا، جنتا دل کانگریس سمیت تقریبا سبھی نام نہاد سیکیولر پارٹیوں کے، مسلمانوں کے ساتھ سوتیلے برتاؤکو اچھی طرح ہم دیکھ چکے ہیں۔ مسلم پرسنل میں مداخلت کرتے تین طلاق بل پر بی جے ہی کی اکثریت نہ رہنے کے باوجود،ان نام نہاد سیکیولر  پارٹیوں کے پس پردہ تائید سے راجیہ سبھا میں تین طلاق بل کو پاس ہوتے ہوئے ہم بھارت کی سب سے بڑی اقلیت 30 کروڑ مسلمان، ان نام نہاد سیکیولر پارٹیوں کے دوہرے کردار کو دیکھ چکے ہیں۔ دہلی فساد بعد ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی خموشی اور اس کورونا کال دوران تبلیغی جماعت پر نشانہ کسے، دیش کے مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کے لئے مورد الزام  ٹہراتے ہوئے، سنگھی آواز مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ پر بھی، ان نام نہاد سیکیولر پارٹیوں کے سکوت کو ہم نے سہا ہے۔ گجرات انتخاب میں بھاسپا نیتا، اپنےامیدوار انتخاب میں کھڑی کرتے ہوئے، بی جے پی کو جیتنے کی راہ ہموار کرتی پائی جائی ہے  تو کوئی کچھ نہیں کہتا، لیکن مسلمانوں کو متحد کرنے آے آئی ایم آئی، جب بھی  سیاسی میدان میں اترتی ہے تو مسلم ووٹوں  کے بٹوارے اور بی جے پی کے جیتنے کا ڈر بتاکر مسلمانوں کو خوب بے وقوف بنایا جاتا ہے۔
اس لئے تمام امور پر گہری نظر رکھتے ہوئے، وقتی سیاسی فوائد کو بالائے طاق رکھ، مسلم حق خود داریت، (ایمپورنمنٹ) اسی اصول کے تحت آبادی میں جس کی جتنی حصہ داری (حکومتی ایوانوں سمیت حکومتی مراعات میں بھی) آبادی کے تناسب سے ساجھے داری کی اپنی مانگ پر ہم 30 کروڑ مسلمانوں کو ڈٹے رہنا چاہئیے۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے یوپی کی 403 سیٹوں میں 43 اسمبلی انتخابی حلقوں میں، مسلمان اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ یک جٹ ہوکر، جس کسی بھی امیدوار کو جیت سے ہمکنار کرنا چاہیں تو انہیں جتوا یا ہروا سکتے ہیں۔ اس لئے کم از کم ان 40 یا 43 مسلم اکثریتی سیٹوں میں تو کم از ان حلقوں کے مسلمان،آے آئی اے ایم کو جیت سے ہمکنار کرتے ہیں تو تصور کیجئے ہمارے آے آئی ایم کے کم و بیس سے تیس امیدوار بھی جیت جاتے ہیں اور پرینکا گاندھی کی جوان سال قیادت میں کانگریس بھی بیس سے تیس سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو، اکلیش  کو حکومت سازی میں ممد رہتے ہوئے، مستقبل میں زندگی کے ہر شعبہ جات میں آبادی کے تناسب سے مسلم حصہ داری پر سیکیولر پارٹیوں کو جھکانے کی پوزیشن میں یوپی کے ہم مسلمان آسکتے ہیں۔اور اللہ نہ کرے اس تجربہ کے منفی نتائج اے آئی ایم آئی کو مسلم  ساتھ کی وجہ سے اکثر مسلم امیدوار شکشت سے بھی دوچار ہوتے ہیں تو ان ایام یوپی پر اکلیش کی حکومت کے رہتے، کسی بھی مسلم نامزدگی سے ماورا، سنگھی یوگی مہاراج مسلم دشمن نظریات والی، حکومت سے بھی برے حالات تو نہیں آسکتے ہیں نا؟ ذرا تصور کیا جائے ان چالیس مسلم اکثریتی حلقوں میں ہمارے باہم اتفاق سے  آے آئی ایم آئی کے 30 امیدوار بھی جیتتے ہوئے، پوپی اسمبلی میں صرف اور صرف مسلم حقوق کے لئے لڑتے پائے جائیں گے تو 5 یا 10 سالوں بعد یوپی مسلمانوں کی کتنی ترقیات(ڈیولپمنٹ) ہوگی، کتنا تعلیمی گراف اونچا ہوگا؟ ہاں البتہ ان مسلم اکثریتی 40 سیٹوں سے پرے باقی 363 سیٹوں پر سماج وادی سپھا، مایاوتی والی بھاسپھا یا پرینکا والی کانگرئس کے، کسی بھی اچھے امیدوار کو اسکے جیتنے کی استعداد دیکھتے ہوئے، اس کے ساتھ علاقائی طور مفاہمت سے، اس علاقے کے مسلم ووٹوں کو اس کے حق میں ڈالتے ہوئے، اپنے مفاہمتی امیدوار کو جتایا جاسکتا ہے۔ایسے موقع پر ہمیں نوے کے دہے میں، عام انتخاب کے موقع پر، ہر ہر اسمبلی و پارلیمنٹ حلقوں کا دورہ کرتے ہوئے،  اس حلقہ کے مسلمانوں میں انتجابی آگہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے پائے جانے والے، ملی کونسل کے اس وقت کے صدر مفتی مجاہد الاسلام قاسمی علیہ الرحمہ کی یاد آتی ہےانکا یہ کہنا تھا جہاں ہم مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں وہاں پر بھی برادران وطن کے کسی اچھے امیدوار سے باہم مشورہ کرتے ہوئے، اپنے مسلم باہم اتفاق ووٹ  دیتے ہوئے، اسے جتانے کی پوری کوشش کرنی چاہئیے۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونے کی ہمت کے ساتھ، آگے بڑھنے والے، کچھ کھونے کے بجائے صدا کچھ نہ کچھ پاتے پائے جاتے ہیں انشاءاللہ  ہم یوپی کے مسلمان متحد ہوکر ووٹ کریں تو یقینا” اب کے بعد ترقی پزیری سے کوئی ہمیں مانع نہیں رکھ سکتا  انشاءاللہ۔۔۔۔۔