شیموگہ:۔مسلمانوں کی ذہنی اصلاح اور تربیت کیلئے مسلمانوں کے پاس جمعہ کا دن بہترین موقع ہے،اس دن کا استعمال کرتے ہوئے اگر مساجد میں کم ازکم پندرہ منٹ کی تقریر کرتے ہوئے موجودہ اخلاقی، سماجی برائیوں کے تعلق سے نوجوانوں کی اصلاح کی جاتی ہے تو اس کا بہت بڑا اثراُمت مسلمہ پر پڑیگا۔قوم وملت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دانشوران کی رائے ہے کہ مسلمانوں کی ذہنی تربیت آج پیچیدہ مسئلہ بن چکاہے،بچے ماں باپ کی نہیں سُن رہے ہیں،نوجوان بے راہ روی کا شکارہوچکےہیں اور وہ کسی کے قابومیں نہیں آرہے ہیں،ایسے میں مسلمانوں کی تربیت کیلئے جمعہ کے دن کا استعمال کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے ۔ جمعہ کے خطبے میں جہاں تاریخی واقعات، قرآن وحدیث کا پیغام عام کیاجاتاہے،وہیں اس وقت معاشرے میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے ڈرگس کی وباء ،شادی بیاہ میں اسراف خرچ،غیرشرعی رسم ورواج اور جہیز جیسی لعنتیں عروج پر ہیں،اس پر بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی کرنے کی اشد ضرورت آپڑی ہے۔روزانہ کئی مسلم نوجوان ڈرگس کے استعمال کے معاملے میں، خریدو فروخت کے معاملے میں پکڑے جارہے ہیں،اس سے نہ صرف ان کی ذاتی بدنامی ہورہی ہےبلکہ ساری اُمت کا کٹکھڑے میں کھڑایا جارہاہے اور مسلمانوں کو بدنام ہوناپڑرہاہے۔کئی مسجدوں میں اصلاح کا کام تو ہورہاہے،مگر ان چند مسجدوں کے ساتھ ساتھ ساری مسجدیں ایک ہی آوازمیں ان برائیوں کے خلاف تحریک کی شکل میں آوازاٹھاتی ہیں تو بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے ۔ ثواب، گناہ، اجر، قبر،حوریں،نہریں اوردعوتِ دین کی باتیں خطبوں میں آنی ضروری ہے،لیکن ان تمام کیلئے نوجوان ہوش میں رہیں تو تبھی جاکر یہ خطبے سن سکتے ہیں،ورنہ نشہ کرنے والے کیا سُن پائینگے ؟ ۔ حالانکہ اُمت کو نشے سےپاک کرنابھی فریضہ ہے اور اُمت کو مشرکانہ وغیر شرعی سرگرمیوں سے دورکرنابھی شریعت کاحصہ ہے۔ایسے میں تقریروں میں نوجوانوں کی اصلاح،حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ اور ملک وملت کے موجودہ حالات پرروشنی ڈالنا بے حدضروری ہوگیاہے۔اگر یہ کام شروع ہوتاہے تو اس کے مثبت نتائج آئینگے۔
