26 جنوری یوم جمہوریہ : ملک ہند کا ایک یاد گار تاریخی دن

Uncategorized
26 جنوری یوم جمہوریہ ملک ہند کا ایک یاد گار تاریخی دن
جمہوریت کو انگریزی زبان میں ڈیموکریسی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے عوام کی حکمرانی۔دنیا بھر کے ماہرین دستور نے جمہوریت کی الگ الگ طرح سے تعریف کی ہے ان میں سب سے اہم اور سب سے مشہور ابراہم لنکن کا وہ جملہ ہے جس میں کہا گیا ہے.
جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت،عوام کے ذریعے قائم کی گئی حکومت اور عوام کے لئے قائم کی گئی حکومت’جمہوریت میں عوام اپنی مرضی کے حکمراں منتخب کر سکتے ہیں اور نا پسندیدہ حکومت کو اقتدار سے باہر بھی کر سکتے ہیں ہندوستان بارہا اس کا نظارہ کر چکا ہے۔ہندوستان جیسے وسیع و عریض سوا ارب کی آبادی،مختلف مذاہب رنگ ونسل،زبان اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ملک کیلئے جمہوریت سے بہترکوئی نظام حکومت نہیں ہو سکتا۔
ماہرین نے جمہوریت کی مختلف انداز میں تعریفیں کی ہیں بعض کی رائے یہ ہے
”جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جس میں ہر ایک شریک ہوتا ہے”
”جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جس میں اختیارات ایک فرد واحد یا افراد کے ایک مخصوص طبقہ یا طبقات کی بجائے معاشرے کے تمام افراد کو بحیثیت مجموعی حاصل ہوتا ہے”۔
جمہوریت کا نظام لچکدار ہوتا ہے نا پسندیدہ عناصر کو انتخابات کے ذریعے مسترد کیا جاسکتا ہے افکار و خیالات کی مکمل آزادی کے باعث عوام اپنے جزبات کااظہارکرسکتے ہیں حکومت رائے عامہ کو نظرانداز نہیں کرتی اگرحکومت عوام کے مشوروں اور ان کی منشاء کو نظر انداز کردے تو آئندہ انتخاب میں عوام ایسی حکومت کو پر امن طور پر اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیل کرسکتے ہیں اس طرح عوام کو حکومت تبدیل کرنے کیلئے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا پڑتااور ملک انقلابات سے محفوظ رہتا ہے۔
26 جنوری یوم جمہوریہ بھارت کی ایک قومی تعطیل کا دن ہے جسے ملک بھر میں بڑے ہی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے بھارت کی سرکاری تعطیلات میں یہ تین ایام مخصوص ہے ایک یوم جمہوریہ دیگر دو تعطیلات یوم آزادی بھارت اور گاندھی جینتی ہے،
اگرچہ ہندوستان، 15 اگست 1947کو برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا تھا، لیکن 26 جنوری 1950 کو ہندوستانی تاریخ میں اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس دن ہندوستان کے آئین کا نفاذ کیا گیا اور ہندوستان ایک خود مختار ملک اور ایک مکمل طور پر رپبلکن یونٹ بن گیا، جس کاخواب ہمارے رہنمائوں نے دیکھا تھا، اپنے خون جگرسے گلستاں کی آبیاری کی تھی اور اپنے ملک کی خود مختاری کی حفاظت کے لیے جام شہادت بھی نوش کیاتھا چنانچہ آئینی نفاذ کے دن کے طور پر 26 جنوری کوبطور یاد گار منانے کے لیے طے کیا گیا یہ دن آزاد اور جمہوریۂ ہند کی حقیقی روح کی نمائندگی کرتا ہے، لہٰذا اس دن ہمارا ملک ’’ایک جمہوریہ‘‘ ہونے کے ناطے اسے بطورتقریب مناتے ہیں،۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز 1857ء سے ہوا، یہ ایک غلط مفروضہ ہے جو جان بوجھ کر عام کیا گیا، تاکہ 1857ء سے سو برس پہلے جس تحریک کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں بنگال کے سراج الدولہ نے 1757ء میں حیدر علی نے 1767ء میں مجنوں شاہ نے 1776ء سے 1780ء تک اور حضرت ٹیپو سلطان شہید 1791ء میں  انگریزوں کے خلاف جو باقاعدہ جنگیں لڑیں تھیں وہ سب تاریخ کے غبار میں دب جائیں، اور اہل وطن یہ نہ جان سکیں۔
یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے جشن کے حوالہ سے مدارس کے خلاف ایک بے اصل بیان کے ذریعہ مسلسل ایک طوفان برپا کرنے کی کوشش کی جا تی رہی ہے حالانکہ تاریخ کا ادنی سے ادنی طالب علم بھی واقف ہے کہ جنگ آزادی میں مدارس کا کردار ایک سنہرے باب کی حیثیت رکھتاہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے آرایس ایس اور اس کی ہمنوا سیاسی پارٹیاں وہ دیگر تنظیموں نے ان مدارس کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دے دیکر ایک سوالیہ نشان قائم کرنے کی کوشش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر مدارس میں ترنگا نہیں لہرایا جاتا اور نہ ہی جشن منایا جا تا ہے جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ان مدارس میں ان دونوں دنوں میں چھٹی رہتی ہے اور بڑے ہی شان و شوکت سے جشن بھی منایا جاتا ہے، وطن عزیز کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار کسی سے مخفی نہیں ہے خاص طور پر علماء کرام کا، اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم پر شک کرنا ہمیں مشکوک قرار دینا انتہائی شرمناک اور بے ہودہ حرکت ہے.
شروع کی جس نے آزادی کی لڑائی وہ مسلمان ہی تھا،
دیا ہند کو تاج محل جس نے وہ شخص مسلمان ہی تھا،
جہاں لہراتا ہے ترنگا آج بھی بڑی شان سے ، کیا تعمیر جس نے لال قلعہ وہ شخص مسلمان ہی تھا،
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” لکھا جس نے ترانۂ ہند وہ اقبال مسلمان ہی تھا.
15 اگست کو انگریزوں کے ظلم و ستم اور بالا دستی سے تمام ہندوستانیوں کو آزادی ونجات ملی ہے – جس کی خاطر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی وغیرہ علمائے اہل سنت نے فتویٰ جہاد دیا تھا اور ہزاروں مسلمانان ہند نے اس کے لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں اور 26 جنوری کو جمہور ہند کا دستور مرتب کیا گیا جس میں مسلمانوں کو اپنے بعض معاملات جیسے نکاح ، طلاق ، میراث ، وغیرہا میں احکام شرعیہ کے نفاذ کی اجازت ملی ، اس لئے یہ دونوں دن مسلمانان ہند کے لئے خوشی کے دن ہیں ، اور اظہار خوشی کے لئے جلوس نکالنا عوام و خواص میں متعارف ہے ۔ بشرطیکہ اس میں کسی ممنوعات شرعیہ کا ارتکاب نہ ہو ،
مولی تبارک و تعالی ہمارے اس ملک کو دشمنوں کے شرو فساد سے محفوظ رکھے ہمارے وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائے ،اور اسے مزید ترقیوں سے نواز تاکہ وہ ہر میدان میں بلند مقام پر فائز ہو، آمین