مصر کے عجائب گھر کا ہے معاملہ:دنیا کی پہلی حاملہ حنوط شدہ لاش، پیٹ میں بغیر ہڈیوں کے 28 ماہ تک محفوظ رہا جنین

انٹرنیشنل نیوز دلچسپ نیوز سلائیڈر
قاہرہ۔ مصر میں ایک حنوط شدہ لاش کے پیٹ سے ملنے والے 28 ماہ کے جنین کا معاملہ حل ہو گیا ہے۔ یہ جنین پچھلے 2000 سال سے ماں کے پیٹ میں محفوظ تھا۔ یہ جنین بالکل ایسے ہے جیسے اچار کئی سالوں تک محفوظ رہتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مصر کی پہلی حاملہ حنوط شدہ نعش ہے۔ موت کے وقت اس عورت کی عمر تقریباً 30 سال رہی ہو گی۔ اس کی موت فرسٹ سنچری بی سی BC  میں ہوئی ہوگی۔ محققین نے حنوط شدہ نعش کو پراسرار خاتون کا نام دیا ہے۔ جنین کا پتہ لگانے کے لیے اس کا سی ٹی اسکین کیا گیا۔ اس کے بعد یہ چونکا دینے والی معلومات منظر عام پر آئیں۔
دلچسپ کھوج نے چھوڑا اہم سوال؟
2021 میں اس کی تحقیق کے بعد سے یہ سائنسدانوں کے لیے ایک مسٹری  بنی ہوئی تھی۔ اب بتایا گیا ہے کہ خاتون کے جسم کے ٹکڑے ہونے کے بعد اس جنین کو تیزاب acidification کے ذریعے محفوظ رکھا گیا تھا۔ گزشتہ سال اپریل میں وارسا یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے سی ٹی اسکین  اور ایکسرے کے ذریعے غیر پیدائشی بچے کی باقیات کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔
گزشتہ سال اپریل میں وارسا یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے سی ٹی اور ایکسرے اسکین کے ذریعے غیر پیدائشی بچے کی باقیات کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔یونیورسٹی کی ٹیم 2015 سے اس قدیم مصر کی حنوط شدہ نعش پر کام کر رہی ہے۔ جب پچھلے سال اسکین میں حنوط شدہ نعش کے پیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا پاؤں نظر آیا تب  انہیں سمجھ آیا  کہ ان کے ہاتھ کیا لگا ہے۔
ڈلیوری کے دوران نہیں ہوئی تھی خاتون کی موت:۔
محققین نے جنین کی پوزیشن اور برتھ کینال کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ اس پراسرار خاتون کی ڈلیوری کے دوران موت نہیں ہوئی۔ موت کے وقت اس خاتون کے پیٹ میں موجود جنین  26 سے 30 ہفتے کا تھا۔ ٹیم نے امید ظاہر کی  ہے کہ یہ بہت ممکن ہے کہ دیگر حاملہ حنوط شدہ لاشیں بھی دنیا کے الگ۔الگ عجائب گھروں میں رکھی ہوں۔ لہذا ہمیں ان سب کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ پراسرار خاتون اور اس کے پیدا ہونے والے بچے کا مطالعہ ماہر آثار قدیمہ اور ماہر حیاتیات مارجینا اولاریک سلکے اور پولینڈ کی وارسا یونیورسٹی کے ساتھیوں نے کیا ہے۔جب ممی( mummy )کا سی ٹی اسکین کیا گیا تو پتہ چلا کہ موت کے وقت خاتون کے پیٹ میں جنین پل رہا تھا۔ سی ٹی اسکین میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنین  صدیوں تک حنوط شدہ لاش کے پیٹ کے اندر بوگ باڈیز کی طرح محفوظ رہا۔ بوگ باڈیز کو انسانی لاشوں کو کہا جاتا ہے جب وہ قدرتی طور پر ممی( mummy )بنتے ہیں۔ یعنی ان کے حنوط شدہ لاش بننے میں بہت زیادہ تیزابا ور بیحد کم آکسیجن کا کرول ہوتا ہے۔ یہ پیٹ بوگ کہلاتا ہے۔ڈاکٹر ووجسیز ایسمنڈ نے کہا کہ ہماری تحقیق میں معلوم ہوا کہ جنین کی ہڈیاں بچ نہیں پائیں ۔ یہ اس وقت ہوا ہو جب حاملہ خاتون کو ممی حنوط شدہ لاش بنایا جا رہا ہو، یا ممی( mummy ) بننے کے کچھ دنوں بعد ہڈیاں گل گئی ہوں گی لیکن شکل برقرار رہ گئی۔