اڈپی کالج میں حجاب کامعاملہ: طالبات نے آن لائن کلاسز سے کیا انکار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کلاسوں میں جانے سے روکے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والی چھ لڑکیوں نے ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ کی حکومت کی اجازت ملنے تک آن لائن کلاسز جاری رکھنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے چہارشنبہ کو ہی طالبات کو یہ مشورہ دیا تھا۔پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی. سی.ناگیش اور بھٹ نے حجاب تنازعہ کو بین الاقوامی سازش قرار دیا ہے۔ وزیر تعلیم نے سوال کیا کہ کیا ایسے مسائل ملک کے کچھ حصوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں؟ اس کے پیچھے ملک دشمن قوتیں ہیں۔ڈریس کوڈ کے حوالے سے پورے ملک میں بحث جاری ہے۔ بزرگوں نے یونیفارم اس لیے بنایا ہے کہ کوئی بچہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔ اڈپی کالج میں اسکول کی ترقی اور نگرانی کمیٹی نے 1985 میں اسکول میں ایک یونیفارم کوڈ متعارف کرایا تھا۔ اب تک کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ والدین اور اساتذہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم کچھ طلباء احتجاج کر رہے ہیں۔حکومت نے اس پر بہت سنجیدگی سے غور کیا ہے اور یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تب تک ریاست کا کوئی بھی تعلیمی ادارہ خواہ سرکاری ہو یا پرائیویٹ یونیفارم سے متعلق قوانین میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اداروں کو اپنی سابقہ رہنما خطوط پر عمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔