ملّی مسئلہ سے زیادہ مصالحہ پک رہاہے

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بالی ووڈ کی ایک مشہورفلم نائک میں ایک منظر دکھایاگیاہےجس میں امریش پوری بطور وزیر اعلیٰ ریاست میں بگڑنے والے نظم ونسق پر عدم توجہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دکانیں جلتی ہیں تو جلنے دو،لوگ مرتے ہیں تو مرنے دو۔اسی طرح سے آج مسلمان کی حالت میں دیکھی جاسکتی ہے۔اُڈپی میں جہاں پر حجاب کو لیکر مسلم لڑکیاں احتجاج کررہی ہیں،وہیں دوسری جانب ہندوو مسلمان دونوں ہی سروں سے سیاست کا کھیل کھیلاجارہاہے۔قریب ایک مہینے سے احتجاج کررہی لڑکیوں کے سامنے حق کا مطالبہ کرنے کیلئے عدالت سے رجوع ہوناآسان کام تھا،عدالت میں انصاف کی اُمید کی جاسکتی تھی،لیکن نہ جانے ان لڑکیوں کے پیچھے وہ کونسی طاقتیں لگی ہوئی ہیں جو انہیں عدالت سے رجوع ہونے نہیں دے رہی ہیں۔اب تو ریاستی حکومت نے ڈریس کوڈکے تجاویز کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو کفن میں آخری کیل ٹھوکنے کاکام کریگی۔ایک مہینے سے جاری جدوجہد کے دوران قانونی لڑائی کو اہمیت دینے کے بجائے پوری طرح سے سیاسی اور مفاد پرستی کاکھیل دیکھاگیاہے۔16 سے19 سال کے درمیان کی یہ لڑکیاں جو ش میں آکر احتجاج تو ضرور کررہے ہیں،اپنے مذہب اور شریعت کی پاسداری کا پُرجوش کا دعویٰ بھی کررہی ہیں،لیکن اس جوش کو اگر ہوش وحکمت کی ہوابھی مل جاتی ہے تو حجاب کامسئلہ کافی حدتک آسان ہوسکتاتھا۔جگ ظاہر بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں مسلمان اگر کم ازکم انصاف کی اُؐمید کرتے ہیں تو وہ عدالتوں سے ہی کرسکتے ہیں نہ کہ لیجلیشن اور اڈمنسٹریشن سے کوئی بھی اُمید بندھی ہوئی ہے،کیونکہ ان تمام حلقوں میں باقاعدہ سنگھ پریواراور حکومتوں کی گرفت ہے۔اب بھی مسلم لڑکیوں کے پاس اس بات کا وقت ہے کہ وہ فوری طورپر عدالت سےرجوع کریں،کیونکہ یہ معاملہ صرف اُڈپی کی کالج کا نہیں ہے بلکہ ساری ریاست کے طالبات کامعاملہ ہے،اگر ان لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے یونیفارم کوڈ بنایاجاتاہے تو اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہوگا اور اس کوڈ کو منسوخ کروانے کیلئے یا تو عدالت سے رجوع ہونا پڑیگایاپھر ایسے دورکی اُمید لگانی ہوگی جس میں کوئی سیکولر حکومت آئے او ر اس قانون کو منسوخ کرے۔برقعہ یا حجاب سات آٹھ لڑکیوں کامسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری قوم سےس جڑا ہوامسئلہ ہے،اس لئے قوم کی بھلائی کو دیکھتے ہوئے اس سمت میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اُڈپی جسےدانشوروں کا شہر بتایاجاتاہے،وہاں پر اس مسئلے پر اس قدر خاموشی کے ساتھ جھیلا جارہاہے وہ تعجب خیز بات ہے،کیونکہ اُڈپی ،منگلوروکے مسلمان ایسے بھی بے حس نہیں ہیں جوشریعت اسلامیہ پر آنچ آنے کے باوجود خاموش بیٹھے رہیں۔اسی معاملے پر مسلم سیاستدانوں اور مسلم قائدین کی خاموشی بھی قابل مذمت ہے۔جس قوم کی قیادت قومی مسئلہ پرنہ ہو اُس قوم کے قائدین پر مذمت کرنے کے علاوہ بچاہی کیاہے۔آج کرناٹک کی قائدانہ تنظیمیں جن میں مسلم متحدہ محاذ،جمعیۃ علماء ہند،جماعت اسلامی ہند،کرناٹکا مسلم جماعت،جماعت اہلسنت جیسی تنظیمیں اس معاملے پر جو خاموشی اختیارکی ہوئی ہیں وہ غورکرنے والی بات ہے۔وہیں کچھ تنظیمیں اس مدعے پر اپنا سیاسی مستقبل سنوارنے کیلئے بھی استعمال کررہی ہے۔یہاں ملّی مسئلہ سے زیادہ سیاسی مصالحہ پک رہاہے جوپوری قوم کو تباہ وبرباد کردیگا۔