
از:۔مختار خان۔ ممبئی ۔ 9867210054
انگلینڈ سے بیرسٹری کی ڈگری لیکرگاندھی ممبئی آئے۔ کچھ دن ممبئی میں وکالت کی۔ لیکن یہاں اُنکا کام چل نہیں پایا۔ واپس گجرات لوٹ آئے اسی دوران سیٹھ عبداللہ کے بلاوے پر گاندھی جی ایک سال کیلئے ساؤتھ افریقہ گئے ۔ لیکن اس کے بعد وہ یہاں لگاتار21 سال تک رہے۔
آفریقہ میں رہتے ہوئے ہی گاندھی جی نے کمیون میں رہنے کی شروعات کر دی تھی ۔ وہاں پر رہتے ہوئے انہوں نے زولو قبیلہ کی بستیوں کو دیکھا تھا جو ایک کمیون بنا کر رہتے تھے۔ یعنی کسی کی کوئی نجی پراپرٹی نہیں ہوتی سبھی کی ملکیت ایک سی ہوتی۔ سبھی ساتھ میں ملکر اپنی اپنی زمہ داری نبھاتے۔ اس طرزِ زندگی سے گاندھی بڑے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد افریقہ میں گاندھی جی نے دو بڑے آشرم بنائے ۔ ایک کا نام مشہور مصنف ٹالسٹائی کے نام پر رکھا گیا ۔ دوسرا آشرم فونکس آشرم۔ یہ دونوں آشرم آج بھی وہاں موجود ہیں۔
ساؤتھ آفریقہ سے لوٹنے کے بعد مہاتما گاندھی جب بھارت آئے تو وہ دو بارہ وطن پور بندر اپنے گھر نہیں لوٹے۔ شروعاتی کچھ دن اُنہوں نے شانتی نیکیتن میں بتائے۔ اُسکے بعد احمدآباد میں سابرمتی آشرم کی بنیاد رکھی گئی۔
کچھ برسوں بعد ایسا ہی ایک آشرم مہاراشٹر کے وردھا میں بھی بنایا گیا۔ جسکا نام سیوا گرام آشرم رکھا گیا۔ اس آشرم میں گاندھی جی نے کافی وقت بتا یا ۔
آزادی کے بعد انکی دو بڑی خواہشیں رھیں جو پوری نہ ہو سکی ایک تو پاکستان جانے کی اور دوسرے اپنے آخری دن وہ سیوا گرام آشرم میں گزارنا چاہتے تھے ۔
پچھلے سال مہاتما گاندھی پرمنعقد ایک کانفرنس کے دوران مجھے سیوا گرام آشرم میں کچھ دن گزارنے کا موقع ملا۔
جمنا لال بجاج نےاس آشرم کے لیے بطورعطیہ ۱۰۰ ایکڑ زمین دی تھی۔ آج بھی آشرم میں اسی طرح کا رکھ رکھاؤ اور نظم و نسق برقرار ہے ۔ آشرم میں صبح شام دو مرتبہ پرارتھنا ہوتی ہے۔ گاندھی جی شری رام کو اپنا آدرش مانتے تھےاُنکے پربھو رام کا واس اُنکے دل میں تھا۔
پورے آشرم میں ہمیں کہیں کسی دیوی دیوتا کا مندر یا تصویرنظر نہیں آئی۔ دن میں دو بار ہونے والی پرارتھنا میں آشرم میں مقیم لوگ شامل ہوتے ہیں۔ اس پرارتھنا سبھا میں شامل ہونے کے لیے کسی پر دباؤ نہیں بنایا جاتا۔
پرارتھنا کے لیے ایک مخصوص جگہ طئے ہے۔ ایک کھلے میدان میں پیڑوں کے نیچے زمین پر چٹائی پر سب لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔
گاندھی جی سبھی مذاہب کا احترام کرتے تھے۔شروعاتی دِنوں میں آشرم میں پرارتھنا کا کوئی ایک طریقہ کار نہیں تھا۔ بعد میں پرارتھنا سبھا کے لیے گاندھی جی اور اُنکے ساتھی کا کا کارلیکر جی نے دعا وں کی ایک کتاب تشکیل دی ۔اس کتاب میں سبھی اہم مزاہب کی چنندہ دعائیں موجود ہیں۔ اس چھوٹی سی کتاب کا نام آشرما ولی رکھا گیا تھا ۔ اپنے پسندیدہ بھجنوں کے ساتھ ساتھ آشرما ولی میں گیتا، بائبل، قرآن گوربانی کے ساتھ ساتھ سنتوں کی بانی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہم نے شام کے وقت پرارتھنا میں شامل ہونے کا ارادہ کیا۔ مقررہ وقت پر ہم عبادت کیلئے طئے مخصوص مقام پر پہنچ گئے ۔
عبادت کیلئے اس مخصوص جگہ پر کسی طرح کا کوئی اسٹرکچر یا عمارت نہیں بنائی گئی ہے۔ اُونچے اُونچے درختوں کے نیچے کھلا صاف دالان ہے۔ دالان میں فرش پر ریت بچھی ہے۔اسی ریت پرچٹائی اور درییاں بچھا دی گئی ہیں۔
ایک طرف باپو کُٹیا ہے دوسری طرف کستوربا کی کُٹیا ہے۔ تھوڑے فاصلے پر مہمانوں کیلئےبنائی گئی کُٹیا ہے۔ پاس ہی تلسی کا پودھا لگا ہوا ہے۔ کہتے ہیں یہ تلسی کا پودھا کستوربا کے انتقال کے بعد آغا خان پیلیس سے یہاں لایاگیا تھا۔
شام کو مقرہ وقت پر پرارتھنا کے لیے سب لوگ اکٹھا ہونے لگے دھیرے دھیرے قطار میں زمین پر ادب سے بیٹھ گئے۔ پچھلی قطار میں ہم بھی بیٹھ گئے ۔ جو لوگ پراتھنا میں باقاعدہ شامل ہوتے ہیں اُنہیں سبھی شلوک اور دعائیں زبانی یاد ہے۔ با آواز بلند ایک لے میں گاندھی کے مشہور بھجن ایشوراللہ تیرو نام سے پراتھنا کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ پڑھی گئی۔گیتا ، بائبل ۔ زرتشت کے کلام پڑھے گئے۔ اور آخر میں قل اللہ احد پر پرارتھنا کو ختم کیا گیا۔ ہمیں جودعائیں یاد تھیں اُنہیں ہم بھی ساتھ میں دہرانے لگے۔ قریباً آدھا گھنٹے چلی اس پرارتھنا کے بعد پاس کی
کتابوں کی دکان سے میں نے دیگر کتابوں کے ساتھ آشرام کی پرارتھنا کی یہ کتاب بھی خرید لی۔
بعد کے دِنوں میں سبھی آشرم میں اسی کتاب میں دئیے بھجنوں کو گایا جا نے لگا۔گاندھی جی اپنی زندگی میں آخر تک سیکولرزم کے علمبردار بنے رہے اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کو بھی اُنہوں نے یہی تعلیم دی۔ جب گاندھی جی نے آشرم بنائے ان اشرم میں رہنے والے زیادہ تر لوگ ہندو ہی ہوا کرتے تھے ۔
آشرم میں ا کا دکا ہی دیگر مذاہب کے لوگ تھے۔ اس کےباوجود گاندھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کے جذبات کی قدر کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ گاندھی جی نے کاکا کارلیکر جی سے مخاطب ہو کر ایک سوال پوچھا۔آج ہمارے آشرم میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہے ۔ اور ہم اپنی پرارتھنا میں میں گیتا کے پروچنوں کا کا پاٹھ کرتے ہیں ۔لیکن اگر کل کو آشرم میں اگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو ایسی صورت میں ہم کیا کریں گے۔۔؟
کاکا کارلیکر بولے "آشرما ولی میں ہم قرآن کی کچھ آیتوں کو بڑھا دیں گے”۔
یہ جواب سن کر گاندھی جی نے کہا۔
نہیں، اگر آشرم میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو آشرم کی پرارتھنا میں آج جو مقام گیتا کوحاصل ہے اس مقام پر ہم قرآن کریم کو رکھ دینگے۔
اس واقعہ سے گاندھی جی کی سیکولر فکر کی بلندی کا علم ہوتا ہے۔ایک بار جب سرحدی گاندھی، خان عبدالغفار خان کچھ مہینوں کیلئے گاندھی جی کے ساتھ اس آشرم میں مقیم رہے۔ اشرم کے قوانین کے مطابق یہاں گوشت کھانے کی ممانعت تھی۔سادہ دال چاول اور روٹی ہی بنائی جاتی۔ زیادہ تر آشرم میں ہی اگاے گئے اناج کا استعمال کیا جاتا ۔ گاندھی جی جانتے تھے کہ خان عبدالغفار خان پٹھان ہے۔ گوشت خوری انکی غذا کا اہم حصہ ہے۔
اس لیے جب تک خان عبدل غفار خان اور انکے ساتھی آشرم میں مقیم رہے تب تک باقاعدہ اُنکے لیے گوشت کے کھانے کا انتظام کیا جا تا رہا۔
آشرم میں قیام کے دوران بہت سی ایسی چیزوں پر نظر پڑی جس سے گاندھی کے فلسفہ کو اور گہرائی سے جان نے کا موقع ملا۔ گاندھی کی کُٹیا میں داخل ہوتے ہی دیوار پر سورہ فاتح اور اُسکے ترجمہ کی فریم لگی ہوئی ہے جسے گاندھی جی نے خود اپنے ہاتھوں سے دیوار پر لگایا تھا۔ اسی طرح سے ساتھ ہی کچھ اقوال زرین بھی لکھے ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ اہمیت محنت، سادگی اور انسانیت کو دی گئی ہے۔آشرم میں آج بھی طعام کے اوقات طئے ہیں۔
ڈائنگ ہال میں جلی حرفوں میں لکھے ایک چھوٹے سے بورڈ پر میری نظر پڑی اس پر لکھا تھا۔۔۔
اتنا ہی لو تھا لی میں
انّ نہ جائے نالی میں
گاندھی جی اناج کی خوب قدر کیا کرتے تھے۔اپنے ساتھیوں میں بھی ان قدروں کا اطلاق ہو اس کے لیے طرح طرح کے طریقہ اپنائے جاتے۔ اپنی پلیٹ خود ہی صاف کرنی ہوتی۔ پلیٹ صاف کرنے سے پہلے جوٹھن کو ایک ٹوکری میں ڈالنا ہے۔ جہاں جوٹھن اکٹھا ہوتی ہے اسی کے پاس آج بھی ایک بورڈ لگا ہے جس میں روزآنہ کی جوٹھن کا شام کو وزن کیا جاتا ۔ اور بورڈ پر حساب لکھا جاتا تاکہ سب کو یہ پتہ ہو کہ ہم کتنا کھانا ضائع کررہے ہیں۔
گاندھی کی زندگی صرف مجاہد آزادی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اُنہوں اپنی ذاتی زندگی میں آن تعلیمات کو بڑی دیانت داری کے ساتھ جیا بھی تھا۔۔۔
اس لیے اتنے برسوں بعد آج بھی گاندھی اپنی سادگی، سچائی، انسان دوستی کے لیے یاد کیے جا تے ہیں۔
