شیموگہ:۔ شہر کےرویندرنگر کے رہائشیوں نےبلدیہ کے ذریعہ ملنے والے پانی کے مہنگے بل کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیاہےاور پانی کی بے ضابطگی سے بچنے کیلئے نزول کی ادائیگی کے متعلق یہاں کی سرکاری ہائی اسکول میں مقامی باشندوں پر مشتمل ایک خصوصی نشست کا اہتمام کرتے ہوئے متفقہ رائے پرفیصلہ کیاہے کہ اس کے خلاف قانونی لڑائی لڑی جائےگی۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے ناگریکا ہوراٹا کمیٹی کےصدر وسنت کمار نے کہا کہ وینوبا نگر میں مہینے میں 4000 بل موصول ہوئے ہیں۔ رویندر نگر میں ماہانہ 8000 روپے کا بل آیا ہے۔مقامیوںنے الزام لگایا کہ محکمہ کو پانی کے استعمال پر ہونے والے خرچ کے بارے میں معلومات یا اعداد وشمار دینا ہوگا۔جو میٹرفکس کیا گیا ہے وہ سیفٹی میں نہیں ہے۔ ڈرانیج کے اوپر پائپ لائن دی گئی ہے۔ 2023 سے پراپرٹی ٹیکس کو متاثر کرنے والے ترمیمات کئے گئے ہیں جس کیلئے ہائی کورٹ میں ٹیکس کے خلاف دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں واٹربل کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے معیاری نوعیت والاپانی فراہم کریں، اسکی فیس کتنی ہوگی یہ بتائی جائے اور ایک سال کیلئے24×7پانی فراہم کیا جائے بعدازاں ہم اس بل کی ادائیگی کریںگے۔ کارپوریٹر ناگراج کنکاری نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے وویکا نند بڑاونے میں پائپ لائنوںمیں پانی آنے سے قبل صرف ہوا آنے پر ہی میٹر گھومتا ہوا دکھائی دیتاہے۔ اسطرح بے ضابطگی میں شامل خامیوں کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے۔ تنظیم کےوسنت کمار نے انتباہ کیا کہ پہلے اس بارے میںرکن اسمبلی سے ملاقات کی جائیگی اور بعدازاں قانونی کارروائی کے تحت ہی بل ادا کیا جائےگا۔ نشست میں پانی کی رسائی کے اوقات پر بھی بحث کی گئی۔ اس دوران بتایا گیا کہ رات کے 30:1 سے3 بجے کے قریب پانی چھوڑا جارہا ہے۔ اس وقت کون اٹھ کر پانی بھرےگا۔اسکے بعد صبح جب 45:6سے20:7 کو پانی چھوڑا جارہا ہے وہ مناسب مقدار میں تمام لوگوں کیلئے ناکافی ہوتا ہے۔ اس دوران رویندرنگرکے مقامی اسوسیشن کے صدر سوم شیکھر، کارپوریٹر رمیش ہیگڑے، آرتی، پرکاش وغیرہ موجودتھے۔
