از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ملک میں جہاں ایک طرف افراتفری کا ماحول ہے،ملک کے اقلیتوں پر کچھ اکثریت حاوی ہوکر ظلم کے پہاڑ توڑرہی ہے،اسی فہرست میں کرناٹک بھی شامل ہوتاجارہاہے،جہاں پر اقلیتوں کے عقائد،عبادت گاہیں،افراد اور جذبات کو شدید ٹھیس پہنچایاجارہاہے۔پچھلے چھ مہینوں سے کرناٹک میں مسلمانوں کا جینا محال کیاگیاہےاور اس وقت کرناٹک کے مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں،یہ سوچ متوسط اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کی ہے لیکن جو مالدارطبقہ یا قائدین کا گروہ ہے وہ اپنے آپ میں مست مگن ہوچکاہے۔بعد چاہے گدگ میں ہونے والے قتل کی ہو یاپھر گائوکشی کےمدعے کو لیکر قانون بنانے کی ہو،تبدیل مذہب کا قانون ہو یا پھر بابابڈھن گری کے معاملےکو لیکر ہندومسلم کو آپس میں الجھانا یا پھر بات اُڈپی کی مسلم طالبات کے حجاب کی ہو جنہیں پچھلے ایک مہینے سے کالج میں حجاب نہ پہن کر آنے کیلئے کہاگیاہے اور ا س کیلئے مسلم طالبات مسلسل احتجاج پرہیں۔مسئلے ہر دن بڑھتے جارہے ہیں،کہیں اوقافی مسائل ہیں تو کہیں قانونی شکنجے کستے جارہے ہیں۔ایسی دردناک اور پریشان کن صورتحال میں مسلمانوں کی قیادت،رہبری ورہنمائی پوری طرح سےمفلوج ہوچکی ہے اور دور دور تک اخلاص کے پیکر یا ہمت کے عسکر دکھائی نہیں دے رہے ہیں،پوری مسلم قیادت مانوکہ کومامیں چلی گئی ہے۔حدتویہ ہے کہ کھلے عام مسلمانوں کوذلیل وخوارکیاجارہاہے،اُن کی عبادت گاہوں میں گھس کر ظلم ڈھایاجارہاہے،لیکن یہ مسلمان کس طاقت کے منتظرہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں ہورہاہے۔ایک طرف ملی مسائل سے لوگ پریشان ہیں،دوسری طرف سیاسی وجود کو ختم کیاجارہاہے،مگر مسلمان اب بھی لاوپراہ ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ بُراتو اُس کا ہورہاہے مجھ کوکیا؟،اس وقت نہ صرف ریاست کرناٹک میں مسلمان ذلیل ہورہے ہیں بلکہ بھارت کے ہر حصے میں یہی حال ہے،مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر خاموشی کب تک ہے،کیوں اپنی مصلیحت کو حکمت کانام دیکر بزدلی کا مظاہرہ کیاجارہاہے۔یہ قوم کو مسلمانوں کی ہےا ور اس قوم نے ہر صدی میں بہادر جرنل،سپہ سالار اور سلطان پیدا کئے ہیں،یہ کونسی بات کھائی جارہی ہے کہ حق کو حق کہنے سے روک رہی ہے اور چند مٹھی بھر ظالموں کے سامنے گھٹنے ٹیکے جارہے ہیں۔یہ بات بھی درست ہے کہ جس قوم میں شہادت کا درجہ حکمت کے سامنے کم ہوجائے وہاں قومیں عروج پر نہیں آتیں،بلکہ قومیں زوال کی طرف گامزن ہوجاتی ہیں اور ان زوال شدہ قوموں کو کوئی یادنہیں رکھتا۔بڑے بڑے مسائل کیلئے آواز اٹھانے کی بات تو دور،خود اپنے اوپر ہورہے ظلم کیرودداد پیش کرنے کیلئے لوگ تیارنہیں ہورہے ہیں،وہیں پر کچھ ایسے مفاد پرست بھی ہیں جو اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیارہیں،چاہے وہ قوم کے رازوں کا سودا کریں،یا پھر وہ قوم کی قیادت کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کریں،یا پھر اپنی ذاتی مفادکیلئے لوگوں کو قربان کریں۔اگر قومِ مسلم اس وقت بھی سونے کاناٹک کرتے رہے گی تو یقیناًاس قوم کو اٹھانے کیلئے کوئی نہیں آئیگا،بیدارتو سوئے ہوئے لوگوں کو کیاجاتاہے لیکن یہاں لوگ سونے کا ناٹک کررہے ہیں جنہیں جگانا مشکل ہے۔سب سے افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ جس قوم کے نوجوان اپنی طاقتوں کے بل بوتے پر حکومتیں بنائے ہیںا ور گرائے ہیں،اُس قوم کے نوجوانوں کے سامنےاب سوائے فیشن پرستی،الحاد اور غیر ضروری چیزیں ذہنوں میں گھر بنا چکی ہیں۔نوجوانوں کے ہاتھ ظالم کے خلاف اور اللہ نزدیک اٹھنے کے بجائے دن رات اپنی ضرورتوںا ور شہوت کیلئےاٹھ رہے ہیں۔جو مسلمان قوم ہمارا مستقبل ہے،ملک کی تقدیر اور ملت کا وجود جن سے ہے وہ نوجوان اب تک اپنی ذمہ دارایوں کو سمجھنے سے قاصرہیں،جو نوجوان اس مسئلہ کو سننے ،سمجھنے سے قاصرہیں اُن سے قوموں کے عروج کیا توقع کی جاسکتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسلیں اپنےسے بڑے لوگوں کا تجربہ ضرور حاصل کریں،تاریخ کی کتابوں کامطالعہ کریں اور قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے آگے آئیں۔
