مفت ویکسین کیلئے کابینہ میں فیصلہ لیاجائیگا،ہیلتھ ایمرجنسی جاری کرنے شوبھا کا مطالبہ
بنگلورو:۔کوروناکی وجہ سے ملک بے حال ہوتاجارہاہے، مریض اسپتال میں ہیں،حکومت آئی سی یو میں جانے لگی ہے ، یوپی ،مہاراشٹر،دہلی،بہار ،گجرات اور کرناٹک میں حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں پچھلے 24 گھنوںمیں17500 کوروناکے نئے کیسس مثبت آئے ہیںجبکہ 150 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔یہ اعداد وشمارپچھلے تمام ریکارڈ س کو پیچھے چھوڑ کر لوگوںکے ذہنوںمیں ہیبت پیدا کررہے ہیں۔محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمارات کے مطابق صرف بنگلورومیں ہی حالات بدترین ہوچکے ہیں ۔یہاں پر 17500 معاملات کو مثبت پایاگیاہے، جبکہ شیموگہ میں بھی حالت بدستور خراب ہوتی جارہی ہے۔شیموگہ ضلع میں جملہ314 لوگوںمیں کورونا مثبت پایاگیا ہے ، جبکہ تین افرادکی موت درج ہوئی ہے۔شیموگہ ضلع میںجملہ131 طلباء کو بھی کورونا کا ٹیسٹ کروایاگیاتھاان میں سے24 طلباء کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔یہاں پر مرنے والوںکی تعدادتین بتائی گئی ہے ۔ ضلع میںسب سے زیادہ کیسس123 شیموگہ میں ہیں ، بھدراوتی میں79، شکاری پور میں8،تیرتھ ہلی میں7،سورب میں 26،ساگر میں29،ہوسنگر میں28 اور دوسرے اضلاع سے یہاں آنے والے14 افراد کورونا مثبت پایاگیاہے۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپانے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ویکینڈ کرفیواور ویکسین کے تعلق سے26 اپریل کو ہونےو الے کابینہ نشست میں فیصلہ لیاجائیگا ۔ریاست میں کوویڈ کی دوسری لہر کو قابومیں پانے کیلئے4مئی تک دیگر احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کے سلسلے میں ریاستی کابینہ میں فیصلہ لیاجائیگا ۔ اطلاعات کے مطابق کیرل،بہار،جھارکھنڈ، گوا، چھتیس گڑھ،یوپی، آسام،ایم پی اور سکم جیسی ریاستوںمیں جس طرح سے مفت کوروناکی ویکسین دی جارہی ہے اسی طرح سے ریاست میں بھی مفت ویکسین کے تعلق سے کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ لیاجائیگا ۔ اپوزیشن جماعتوںنے مسلسل مطالبہ کیاہے کہ ریاست میں18 سال سے زائدعمرکے ہر شہری کو مفت ویکسین کی جائے ،اس پر حکومت کی رائے ہے کہ مفت ویکسین کرنے سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ، کیونکہ کرناٹکا حکومت نے امسال بجٹ میں 400 کروڑ روپئے ویکسین کیلئے مختص کررکھے ہیں۔مزید ویکسین مفت کیا جاتاہے تو اس کیلئے 2 ہزار کروڑ روپئے خرچ ہونگے ، جبکہ ریاست کا جملہ بجٹ50.2لاکھ کروڑ روپیوں کا ہے ۔ حکومت کاکہناہے کہ ریاست میں مزید آکسیجن سلنڈر،بیڈ اور ادویات کیلئے بھی غور وفکرکی جارہی ہے۔رکن پارلیمان شوبھا کرندولاجے نے وزیر اعلیٰ یڈی یورپاسے مطالبہ کیاہے کہ ریاست میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کیاجائے۔
