
مضمون نگار:۔فوزیہ بانو شیخ- ، ہانگل شریف، ضلع:ہاویری۔7337802028
جستجو ہے گناہوں کی وہ ثواب سے ڈرتی ہے
افسوس آج بنت حوا حجاب سے ڈرتی ہے
آج کل ہمارے قوم کی لڑکیوں کو حجاب کے استعمال سے اسکولوں کا لجوں جسے اداروں پر روک لگائی دی گئی ہے یوں کہا جاسکتا ہے اسکولوں کا لجوں میں حجاب کو ممنوع کیا گیا ہے جب بھی ہم مسلمان کسی اعلیٰ اسکول یا کالج میں اپنے لڑکیوں کے داخلے کے لئے جاتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ہاتھ اس اسکول یا کالج کے قوانین یا اصول کی فہرست تھمادی جاتی ہے جس میں بہت سے چیزوں سے روک لگائی جاتی ہے اور ان میں سے ایک ہے حجاب کا ممنوع اور ہم مسلمان سب کچھ پڑھ کر جان کر اسی اسکول یا کالج میں اپنے لڑکیوں کا داخلہ کروادیتے ہیں۔
انسان چاہے دنیا کے سارے علوم سیکھ لے اگر اس نے اپنے رب کو نہیں پہچانا تو اس نے کچھ نہیں سیکھا۔
اسلام نے عورت کے لئے جو احکام اور قوانین جاری کئے ہیں ان میں سب سے زیادہ زور عورت کے پردے پر دیا گیا ہے۔ حالانکہ مردوں کو بھی پردے کا حکم دیاگیا ہے لیکن سب سے زیادہ عورت کے پردے کا حکم ہے اور اس کے کئی ساری شرائط بیان کئے گے ہیں۔تو پھر ہم کو سوچنا ہوگا کے عورتوں کے پردے پر اتنے سارے شرائط کیوں ہیں۔اس بات پر بھی ہمیں روشنی ڈالنی ہوگی کے آخر کیوں اللہ تعالی حجاب پر زور دیتا ہے؟
کیونکہ عورت ہر گھر کی زینت ہوتی ہے عربی زبان میں عورت کے معنی چھپا کر رکھنے کے ہیں تاکہ اس پر کسی غیر کی نظر نہ پڑھے اس لئے ہم اپنی انمول چیزوں کی نمائش کرنا نہیںپسند نہیں کرتے اس لئے ہم اپنی چیزوں کو پوشیدہ رکھتے ہیں اور رکھے بھی نہ کیوں؟
جب اللہ تعالیٰ اپنی سب سے انمول کتاب کو پردے میں رکھا ہے یعنی قرآن مجید اپنے گھر کو بھی پوشیدہ رکھا ہے۔
کعبہ وقرآن کودیکھا جب غلافوں میں لپٹے
تب میں سمجھی کے پردے کی فضلیت کیا ہے
اللہ تعالیٰ ہم عوروتوں کو پردے کا حکم دیا ہے تو مجھے آپ کو اور دنیا کے تمام مسلمان عورتوں کو اپنے قسمت پر رشک ہونا چاہے کے ہم سب اللہ کی پسندیدہ چیزوں میں سے ہے اس کی تمام مخلوقات میں سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے تب ہی تو ہمارا رب ہمیں پردے کا حکم دیتا ہے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے ہم تو خوش نصیب مخلوق ہیں تاکہ کوئی غیر کی نظر ہم پر نہ پڑھے وہ ہمیں پاک وصاف رکھنا چاہتا ہے۔
اپنے حجاب پر ناز کرو اے لڑکیوں
کتابیں تو بہت ہیں مگر غلاف صرف قرآن پہ ہوتا ہے
ہمیں ڈھانپ کر وہی رکھنا چاہتا ہے جس کے لئے ہم قیمتی ہوتے ہیں،چاہے وہ ہمارا رب ہویا پھر کوئی انسان۔
میرا سوال ان تمام مسلمانوں سے ہے جو حجاب کو اہمیت نہیں دیتے اپنے گھر کی عورتوں کو پردے کی پابندہونے کی تاکید نہیں کرتے وہ کیوں نہیں سمجھتے اس بات کو کے عورت گھر کی زینت ہوتی ہے۔ یہ جو دور حاضر ہے اس میں فیاشن اور بے پردگی ہے جہاں بھابی دیورمیں پردہ نہیں سالی جیجا میںپردا نہیں بہو بیٹی سب بے پردہ ہوگئی ہے آج کل جو ہمارے گھروں میں فساد بڑوں کی تمیز نہیں بیٹا شادی کرتے ہی الگ ہوجاتا ہے بیٹی ہر دوسرے دن معکے آجاتی ہے ان سب کی وجہ بے پردگی ہی تو ہے۔
ہمیں بتانا کیوں پڑتا ہے کے ہم مسلمان ہیں ہمارا کردار ہمارے مسلمان ہونے کی گوائی کیوں نہیں دیتا۔
بے شک ہمیں دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے تو ہم صرف دنیا وی تعلیم کے لئے اپنے دین کو کیوں بھول جائیں کیا ایسا نہیںہو سکتا ؟کے ہم اپنے قوانین کی فہرست کالج اور اسکول والوں کے ہاتھ میں تھمادے اور بولے کے اپنی لڑکیاں ان شرائط پر آپ کے اسکول میں داخلہ لینگے نہیں تو نہیں کیوں نہ سب مل کر اپنے نسلوں کے لئے بہتریں تعلیم کا انتظام کریں ان کو ایسی تعلیم دے جہاں پردین اور دنیا کی جانکاری ملے اسلام کے شرائط کے ساتھ ساتھ دنیا وی تعلیم بھی دی جسکے کچھ بھی نہ ممکن نہیں ہے اگر ہم سب مسلمان اپنی ذاتی دوشمنی ،حسد،جلن چھوڑ کر سب ایک ساتھ مل جائیں تو سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے ہم سب کو ایک ہونا ہوگا اپنے قوم کے لئے اپنی نسلوں کے مستقبل کے لئے۔
ہمیں اب ہی کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا ورنہ مارڈن زمانہ یہ بے حیائی یہ فیاشن ہماری نسلوں کو تبہ ہ وبرباد کر دیگا اب اس کی شروعات ہوئی ہے اگرہم یو ہی خاموش رہے اور بے حیائی عام ہوجائیگی اور اپنے بچیوں کو حجاب کے بغیر اسکول کالجوں کو جانے کی عادت پڑھ جائیگی۔ اور پھر وہ دن بھی دور نہیں ہوگا جب ہم خود اپنے قوم کا گلہ گھونٹ دینگے ہماری نسلیں بے حیائی پر راج کرنے لگے گے اور دوسرے ممالکوں کی طرح ہندوستان میں بھی قانو ن رائیج کردئے جائینگے حجاب پردہ ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دیا جائیگا اور ہر جگہ تصاویر چھپ جائینگی اور جو اللہ کی نیک بندیاں ہے ان کو بھی حجاب سے دور کیا جائیگا پھر کئی طریقوں سے ہم پر اللہ کی لعنت برسے گی۔ اب ہی صحیح وقت ہے مسلمانوں جاگ جائو اپنی قوم کے لئے جاگو۔
ائے لڑکیوں ہمیں خداپنے لئے لڑنا ہوگا اپنے حجاب کی حفاظت کرنی ہوگی ہم دیکھا دے گے دنیاکو ہم سر کٹا دینگے لیکن اپنے سرسے حجاب نہیں اتارینگے۔
میں مغرب کی بیٹی نہیں میں مشرق کی شہزادی ہوں میرا برقعہ میرا حجاب میری چادر ہی میری آبرو کا سہرا ہے۔
