’حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی‘ : امریکہ ہندوستانی وزارت داخل نے کہا بیرونی مداخلت ناقابل قبول ، کرناٹک میں اسکول وکالج کی چھٹی میں ۱۲؍ فروری تک توسیع، سپریم کورٹ میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی عرضی داخل، حجاب پر انتشار پھیلانے کی سازش ، آئی بی الرٹ،سکھ فار جسٹس کے ملوث ہونے کا اندیشہ

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

’حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی‘ : امریکہ
ہندوستانی وزارت داخل نے کہا بیرونی مداخلت ناقابل قبول ، کرناٹک میں اسکول وکالج کی چھٹی میں ۱۲؍ فروری تک توسیع، سپریم کورٹ میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی عرضی داخل، حجاب پر انتشار پھیلانے کی سازش ، آئی بی الرٹ،سکھ فار جسٹس کے ملوث ہونے کا اندیشہ
نئی دہلی۔ ۱۲؍فروری: دنیا بھر میں مذہبی آزادی پر نظر رکھنے اور رپورٹ کرنے والے امریکی حکومت کے ادارہ برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (آئی آر ایف) نے کالج کیمپس میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے مطالبہ کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ کے درمیان کرناٹک حکومت پر تنقید کی ہے۔ کہنا ہے کہ مذہب کی آزادی میں لباس کے انتخاب کی آزادی بھی شامل ہے۔آئی آر ایف کے سفیر راشد حسین نے کرناٹک تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ کرناٹک کے حکام کو مذہبی لباس کی اجازت کا تعین نہیں کرنا چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔راشد حسین نے کہا، ’’مذہبی آزادی میں کسی کو بھی مذہبی پوشاک انتخاب کرنے کا اختیار شامل ہے۔ ہندوستانی ریاست کرناٹک میں مذہبی لباس پہننے کی اجازت کا تعین نہیں کرنا چاہئے۔ اسکولوں میں حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے اور یہ خواتین اور لڑکیوں کو حاشیہ پر لانے کا کام کرتا ہے۔‘‘عالمی مذہبی آزادی کا ادارہ، جس کے حسین سفیر ہیں، امریکی دفتر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے تحت آتا ہے اور اس کی طرف سے ماضی میں بھی ہندوستان کی مذہبی کشیدگی پر تبصرے کئے گئے ہیں۔حجاب معاملے پر امریکہ اور پاکستان کے بیانوں ک بعد سنیچر کو وزارت خارجہ نے اس معاملے میں دوسرے ممالک کو دخل اندازی سے منع کیا ہے۔ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق سنیچر کو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونیفارم سے متعلق تنازع پر قانونی کارروائی جاری ہے اور اس طرح کے مسائل آئینی ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق حل کیے جاتے ہیں۔کرناٹک کے کچھ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ سے متعلق معاملے پر کرناٹک کی ہائی کورٹ میں قانونی کارروائی جاری ہے۔بیان میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’تنازعات کو ہمارے آئینی ضوابط اور طریقہ کار اور جمہوری نظام کے تحت حل کیا جاتا ہے۔ جو انڈیا کو جانتے ہیں وہ اس حقیقت کو سراہتے ہیں۔ ہمارے اندرونی تنازعات کی حوصلہ افزائی کرنے والے بیانات کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔‘ واضح رہے کہ بدھ کو پاکستان کے وزیر خارجہ اور جمعہ کو امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی شعبہ (آئی آر ایف) کی طرف سے حجاب پر پابندی کو مذہبی حقوق پر حملہ بتایا گیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغیچی نے سنیچر کو ٹوئٹ کیا جو لوگ ہندوستان کو اچھے سے سمجھتے ہیں، وہ حقیقت جانتے ہیں، ہمارے آئینی ڈھانچے اور جمہوری نظام کے تحت ایسے تمام مسائل پر غور وفکر کرکے ان کا حل نکالا جاتا ہے۔ ڈریس کوڈ سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت چل رہی ہے ایسے میں ہمارے ملک کے اندرونی مسائل پر کسی کے کمنٹ برداشت نہیں جائیں گے۔ قبل ازیں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ۹ فروری کو ٹوئٹ کرکے حجاب پر پابندی کو حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان نے بد ھ کو اسلام آباد میں تعینات ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے کرناٹک کے کالج میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پر جاری تنازعہ کو لے کر فکر ظاہر کی تھی، پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ہندوستانی سفیر کو کرناٹک میں مذہبی عدم برداشت اور بھید بھائو پر پاکستان کے رخ سے واضح کیاگیا۔ ادھر کرناٹک حکومت نے حجاب مسئلے کے پیش نظر ڈی سی ٹی آئی کے تحت آنے والے سبھی کالج یونیورسٹیوں کے لیے ۱۶ فروری تک چھٹی میں توسیع کردی ہے۔ وزیر تعلیم ڈاکٹر سی این اشویتھا نارائن نے سبھی سے نظم ونسق بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے اس توسیع کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق ۱۲ فروری سے ۱۶ فروری تک چھٹی سرکاری وغیر سرکاری ڈگری کالجوں، ڈپلومہ اور انجینئرنگ کالجوں کےلیے نافذ العمل ہوں گی۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے اس عرضی میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ کامن ڈریس کوڈ کے نفاذ سے تشدد کو کافی حد تک کم کیاجاسکے گا۔ یہی نہیں اس اقدام سے تعلیمی ماحول میں بھی بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔کامن ڈریس کوڈ کو لے کر سپریم کورٹ میں نکھل اپادھیائے نامی ایک طالب علم نے عرضی دائر کی ہے، اپادھیائے نے اپنی عرضی میں کہاکہ یکساں سول کوڈ نہ صرف مساوات، سماجی انصاف، جمہوری اقدار کو بڑھانے کےلیے ضروری ہے بلکہ ایک منصفانہ اور انسانی معاشرے کی تعمیر کے لیے بھی ضروری ہے۔عرضی گزار کا کہنا ہے کہ یکساں سول کوڈ سےذات پرستی، فرقہ پرستی، بنیاد پرستی اور علیحدگی پسندی کے سب سے بڑے خطرے کو کم کیاجاسکتا ہے۔ کرناٹک سے شروع ہوئے حجاب تنازع کو لے کر ملک کے کئی حصوں میں احتجاج ہو رہا ہے۔ ایسے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی خالصتانی دہشت گرد تنظیم کے ذریعے بھارت میں حجاب ریفرنڈم کے ذریعے انتشار پھیلانے کی سازش کر رہی ہے۔ بھارت میں حجاب ریفرنڈم کے لیے ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے۔آج تک آن لائن کی خبر میں کہا گیا ہے کہ یہی نہیں سکھ فار جسٹس کے سربراہ گروپتونت سنگھ پنوں سے آئی ایس آئی نے ویڈیو بھی جاری کروایا ہے ۔ آئی ایس آئی کی سازش کےبعد خفیہ ایجنسی بھی متحرک ہوگئی ہے۔ آئی بی نے اسے لے کرالرٹ بھی جاری کیاہے۔آج تک کی رپورٹ کے مطابق سکھ فار جسٹس کے سربراہ گروپتونت سنگھ پنوں نے ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس میں وہ بھارت کو توڑنے کے لیے حجاب ریفرنڈم جیسے ایجنڈا پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔سکھ فار جسٹس نے اپنے پروپیگنڈہ ویڈیو میں کرناٹک کی حجاب کی حمایت کرنے والی لڑکی مسکان کی تصاویر بھی استعمال کی ہیں۔ پنوں نے ہندوستانی مسلمانوں سے حجاب ریفرنڈم شروع کرنے اور ہندوستان کو اردوستان بنانے کی طرف بڑھنے کی اپیل کی ہے۔ آئی بی نے کہا ہے کہ دہلی، راجستھان، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں حجاب ریفرنڈم ایجنسیاں موجود ہیں۔