بنگلورو:۔ڈبل انجن حکومت نے ریاست کو ڈبل دھوکہ کیاہے،ریاست کے گورنرکی زبان سے جھوٹ کہلوایاگیاہے،ریاستی حکومت نے گورنر کو گمراہ کرتے ہوئے لوگوں کو بھی گمراہ کیاہے۔کرناٹک کے لوگوں کو قرض کی کھائی ڈھکیلا ہواہے،مرکزی حکومت کے چند منصوبوں کو اپنے ناموں سے جوڑکر اپنی تعریف کروائی گئی ہے۔یہ برہمی سابق وزیر اعلیٰ سدرامیانے ودھان سبھا میں ظاہرکی ہے۔انہوں نے آج گورنرکی تقریرکے بعد بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو اچھے بُرے کا علم ہی نہیں ہے،مگرجیسے گورنرنے اپنی تقریرمکمل کی تو اس تصدیق بھی ہوئی ہے کہ حکومت کے پاس کوئی مقصدہی نہیں ہے،ہر حکومت کے اپنے ترجیحات ہوتے ہیں،ترقیاتی کاموں کیلئے منصوبے ہوتے ہیں مگر موجودہ حکومت کے پاس ایسی کوئی فکرہی نہیں ہےاورنہ ہی ریاست کی بہبودی ہے۔عام طو رپر گورنر کی تقریرحکومت کے ایک سال کی کارگذاریوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اگلے سال کے منصوبوں کیلئے پیش لفظ پر مشتمل ہوتی ہے،مگر اس دفعہ حکومت نے کچھ بھی نہیں کیاہے،اس کیلئے ثبوت گورنرکی تقریرہی کافی ہے۔گورنرکی تقریرمیں 116 پیراگراف ہیں اور ان میں سے23 پیراگراف کوویڈ اورسیلاب پر مشتمل ہیں،بقیہ 30 پیراگراف سابقہ بھروسے اور ہماری حکومت کے دوران اٹھائے گئے منصوبوں کی تفصیل جسے نام بدل کر پیش کیاگیاہے۔گورنرنے اپنی تقریرمیںپسماندہ طبقا،اقلیت ،کسان اور چھوٹے اور درمیانی صنعتوں،مزدوروں کے تعلق سے کچھ بھی نہیں کہاہے،اس سے واضح ہے کہ حکومت کے پاس ان معاملات کیلئے کوئی موقع نہیں ہے۔ریاست میں بے روزگاری عروج پر ہے،لیکن اسے حل کرنے کیلئے کسی بھی طرح کی پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔
