غلط خبریں نشر کرنے والے سورنا نیوز چینل کے خلاف کرناٹکا مسلم ویلفیئر کمیٹی کا احتجاج

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔حجاب کے معاملے میں مسلم کمیونیٹی اور علماء کے خلاف "حجاب کے تنازعہ میں مولانا کی اینٹری” کے نام پر غلط خبریں نشر کرنے والے سورنا چینل کے خلاف کرناٹکا مسلم ویلفئیر کمیٹی نے آج شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ویلفیئر کمیٹی نے آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے آگے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے ذریعہ وزیر برائے اطلاعات ونشریات سے درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ چینل کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ مظاہرین نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری ریاست میں حجاب اورزعفرانی شال کے خلاف کئی جگہوں پر ناخوشگوار واقعات سامنے آچکے ہیں۔ فی الحال یہ معاملہ عدالتی تحویل میں ہے۔ 8 فروری کے روز شہر بھی جہاں اسکولوں اورکالجوں میں حجاب اور زعفرانی شالوں کے تنازعہ نے پورے شہر کا ماحول خراب کردیا تھا ، حالات اب بحالی پر آرہے ہیںایسے میں 12 فروری کی صبح 30:8 بجے” حجاب کے تنازعہ میں مولویوں کی اینٹر” کی شرانگیز سرخی کے ساتھ سورنا نیوز چینل میں مسلم کمیونٹی اور علماء کے خلاف غلط وبے بنیاد خبرشائع کی گئی ہے۔ سورنا نیوز میں باضابطہ یہ بتایا گیا ہے کہ بہار، گجرات، اُترپردیش، مدھیہ پردیش، جیسی ریاستوں سے شیموگہ کو آئے ہوئے علماء اکرام ،شہر کی مسجدوں میں حجاب کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں اورفرمان جاری کررہے ہیں۔ جمعہ کی نماز میں حجاب کی حمایت میں بیانات دئے گئے ہیں کہ مسلم لڑکیوں کو ہر حال میں حجاب پہنا لازمی ہے۔ اسکولوں ، کالجوں اورمدرسوں میں تمام جگہوں پر حجاب پہننا لازم ہے۔برقعہ، اورشریعت کوسامنے رکھتے ہوئے فرمان جاری کئے جارہے ہیں۔60 سے زائد مساجد میں حجاب پہن کر ہی باہر نکلنے پر سخت فرمان جاری کئے گئے ہیں۔ ایسی فرضی اورحقیقت سے دور خبریں نشرکرتے ہوئے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہوئی ہے کہتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ۔ اسطرح کی خبرکے ذریعہ دوسرے قوموں میں مسلم کمیونٹی کے خلاف زہر کا بیج بونے اور پہلے سے بگڑے ہوئے حالات کو مزید خراب کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ صحافت کو جمہوریتی نظام نے چوتھا ستون قراردیاہے۔ میڈیا کو حقائق پر مبنی خبریں شائع کرتے ہوئے ملک میں ہم آہنگی کو برقراررکھنے کا کام کرناچاہئے لیکن بجائے اسکے شہر میں زہر کا بیج بوتے ہوئے ہم آہنگی کو فرقہ وارانہ فسادات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہےاوراسکے ذمہ دار سورنا نیوز کے رپورٹر راجیش کامت، نیوز اینکر پرتیما اور سورنا نیوز چینل کے ایڈیٹرہیں جنہوں نے پورے منصوبے کے تحت جان بوجھ کر یہ غلط خبر نشر کی ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے پیشے کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام میں فسادات کو برپا ء کرنے اور اپنی غلط خبروں کے ذریعہ فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینےوالے سورنا نیوزچینل کے رپورٹر، اینکر اور ایڈیٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے پردبائو ڈالاگیا ۔ اس موقع پر محمد رفیع، انورخان، توصیف احمد، محمد نورحسین، عبداللہ، سمیت دیگر موجودتھے۔