ہوشیار پور:۔کانگریس کے لیڈرراہل گاندھی نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی پر بے روزگاری پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اپنی انتخابی تقریروں میں اس اور کالے دھن کے بارے میں بات نہیں کرتے ہیں۔راہل گاندھی نے نوٹ بندی اور اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) پر نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایاہے کہ اس سے صرف دو سے تین ارب پتیوں کو فائدہ ہوا۔ وہ یہاں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہاہے کہ ان کی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار چرنجیت سنگھ چنی غربت کو سمجھتے ہیں اور چنی غریبوں، کسانوں، چھوٹے اور درمیانے تاجروں کی حکومت کی قیادت کریں گے، ارب پتیوں کی نہیں۔راہل گاندھی نے کہاہے کہ پنجاب کے انتخابات ہمارے سامنے ہیں۔ یہ کوئی عام الیکشن نہیں ہے۔ آپ کو نئی حکومت کا انتخاب کرنا ہوگا۔ آج ملک کی ہر ریاست میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے وقت مودی حکومت نے کہا تھا کہ یہ کالے دھن کے خلاف جنگ ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ مودی جی اپنی تقریر میں کہتے تھے کہ وہ بینک کھاتوں میں 15 لاکھ روپے بھیجیں گے۔ وہ کہتے تھے کہ نوجوانوں کو دو کروڑ نوکریاں دیں گے۔کانگریس لیڈر نے ریلی میں لوگوں سے سوال کیا کہ کیا انہیں یہ مل گیا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ نریندر مودی روزگار کی بات کیوں نہیں کرتے، ان دنوں کالے دھن کی بات کیوں نہیں کرتے؟انہوں نے اروندکجریوال کی زیرقیادت عام آدمی پارٹی (اے اے پی) پر بھی حملہ کیا اورکہاہے کہ آپ پنجاب کو نہیں سمجھتی اور وہ ریاست کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی۔ صرف کانگریس ہی پنجاب کو سمجھتی ہے اور اسے آگے لے جا سکتی ہے۔راہل گاندھی نے کہاہے کہ ہماری حکومت دو یا تین ارب پتیوں کی نہیں ہے۔ اگر ہماری حکومت دو تین ارب پتیوں کی ہوتی تو پنجاب میں کانگریس زرعی قوانین کے خلاف کھڑی نہ ہوتی۔ ہماری حکومت کسانوں کی حامی ہے، اس لیے ہم کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
