حجاب معاملہ :حکومت نے حجاب کو نہ منع کیا ہے نہ ہی تجویزدی ہے! کالج انتظامیہ کمیٹی کے سر ڈالی ہےذمہ داری:اڈوکیٹ جنرل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
ہمارے احکامات صرف سی ڈی سی کے پی یو کالجوں کیلئے ہیں،بقیہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر لگی پابندی کے تعلق سے تفصیلات فراہم کریں:کرناٹکا ہائی کورٹ
بنگلورو:۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ میں جاری حجاب کی شنوائی کے چھٹے دن جمعہ کو حجاب کے خلاف ایڈوکیٹ جنرل  (اے جی)  پربھولنگ نوادگی نے ریاستی حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے ایک طرف یہ کہا کہ حجاب کو سرکار نے نہ تو منع کیا ہے اور نہ ہی  اس کی تجویز دی ہے، وہیں دوسری طرف انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے حکم دیا ہے کہ طلباء کو کالجوں کے ذریعہ تجویز کردہ یونیفارم پہننا چاہئے۔ سرکار کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی  جب آج سرکار کا موقف پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو  ان کی باتوں سے صاف جھلکنے لگا کہ عرضی گزاروں کے دلائل کے سامنے ان کے پاس دینے کیلئے مناسب جوابات نہیں ہیں، وہ اپنی بات پیش کرتے ہوئے  بار بار اپنا چشمہ آنکھوں سے اتارتے اور پھر اگلے ہی لمحہ چڑھاتے نظر آئے، اسی سے ظاہر ہورہا تھا کہ ان کے پاس سرکار کے جاری کئے گئے حجاب پر پابندی کے حکم کو جائز ٹہرانے کیلئے    مضبوط  دلائل نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک طرف یہ کہاکہ ریاستی حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی  وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام میں حجاب ضروری مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔ جب چیف جسٹس نے  5 فروری کے سرکاری حکم  نامہ کے بارے میں پوچھاجس میں حکومت نے کہا تھا کہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے لباس کی اجازت نہیں دی جائے گی،  ایڈوکیٹ جنرل نوادگی نے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس زیب النساء قاضی  اور جسٹس کرشنا ایم ڈکشت  کی سہ رُکنی توسیعی  بینچ  کو بتایا، کہ 5 فروری کے اس حکم کے بارے میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں تھا جس میں  مساوات، سالمیت اور امن عامہ کو متاثر کرنے والے کپڑوں پر پابندی لگائی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے کئی اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں اور جوابی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا تھا۔ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اڈپی کا گورنمنٹ پی یو کالج، جو حجاب کی جاری لڑائی کا مرکز تھا، اُس کالج میں  ایک طویل عرصے سے یونیفارم تھا اور وہاں دسمبر 2021 تک کوئی مسئلہ نہیں تھا، جیسے ہی اس  کالج کی کچھ لڑکیوں نے پرنسپل سے رابطہ کیا اور حجاب پہننے کی اجازت مانگی۔ کالج  ڈیولپمنٹ کمیٹی نے اس معاملے کی جانچ کی، جس کے لئے  یکم جنوری 2022 کو میٹنگ  بلائی گئی تھی۔ میٹنگ میں کمیٹی نے نوٹ کیا کہ 1985 سے اب تک طلبہ یونیفارم پہنتے  آرہے ہیں اس لیے کمیٹی نے سابقہ ​​نظام کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈوکیٹ جنرل کے مطابق اس میٹنگ میں حجاب کی اجازت طلب کرنے  والی  طالبات کے والدین کو بھی بلایا گیا تھا اور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ  یونیفارم کا نظام 1985 سے موجود ہے، لیکن اس میٹنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ طلباء نے احتجاج شروع کر دیا ۔ جب حکومت کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا گیا تو  حکومت نے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ۔ ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی کے مطابق  5 فروری کا سرکاری حکم آنے سے پہلے ہی موجودہ تعطل کی صورتحال شروع ہوگئی تھی اور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی۔ اے جی نوادگی کا کہنا ہے کہ حجاب کے مسئلے کا حل ڈھوندنے کے لئے ہم نے تمام اختیارات کالج ڈیولپمنٹ کونسل (سی ڈی سی) کو دے دیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ "حجاب کو منع کرنے یا تجویز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ  ریاست نے سی ڈی سی اور نجی کالجوں کے لیے نجی انتظامیہ کو مکمل خود مختاری دی ہے۔ اے جی نے اس بات کا استدلال پیش کیا کہ حکومت  نے نہ تو حجاب پر پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی  حجاب کو تجویز کیا ہے لیکن ہم نے  طلباء سے کہا ہے کہ وہ کالج ڈیولپمنٹ کونسل کے حکم پر عمل کریں۔سرکاری وکیل کے مطابق گورنمنٹ آرڈر میں حجاب کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس سے درخواست گزاروں کے حقوق متاثر نہیں ہوتے، مزید کہا کہ کلاس روم میں حجاب کی اجازت دینے کا فیصلہ  کالج انتظامیہ کرسکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کا شعوری موقف یہ ہے کہ ہم مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔البتہ ایڈوکیٹ جنرل نے مسلم طالبات کے حکومت پر آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کرنے کے الزام کو مسترد کردیا اسی طرح انہوں نے حکومتی آئین کے آرٹیکل 19 (1)  کی خلاف ورزی کرنے کے الزام کو بھی ماننے سے انکار کیا۔شام پانچ بجے تک جب  ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی کے دلائل مکمل نہیں ہوئے تو عدالت کی اگلی کاروائی پیر  21 فروری  دوپہر ڈھائی بجےکیلئے ملتوی کردی گئی۔اس موقع پر عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے احکامات صرف سی ڈی سی کےکالجوں کیلئے ہیں،بقیہ کالجوں میں اگر حجاب پر پابندی لگائی ہے تو اس کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کرنے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے احکامات دئیے ہیں۔انہوں نے آج اڈوکیٹ طاہرکی جانب سے پیش کی گئی دلیل پر تبصرہ کیاہے۔اڈوکیٹ طاہرنے عدالت کو بتایاتھاکہ ریاست میں کالجوں کے گیٹ پر پولیس تعیناتی کی گئی ہے اور طالبات کو گیٹ پر سے ہی واپس بھیجاجارہاہے،اس پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہارکرتےہوئے کہاکہ ہم نے صرف پی یو کالجوں کیلئے احکامات جاری کئے ہیں،اگر آپ کے کہنے کے مطابق کہیں ایسے مسائل درپیش ہوں تو عدالت کو اس کی تفصیل دیں۔مزید انہوں نے محکمہ اقلیتی بہبودی کے حکمنامے کو ٹھکرانے کی ہدایت برزبانی دی اور کہاکہ عدالت کے احکامات کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیاجائے۔اس سلسلے میں اگلی کارروائی پیر کو ہوگی۔