شریعت وقانون سے انجان خواتین کو ٹی وی چینلس مسلمانوں کے خلاف کررہے ہیں استعمال،یہ عمل مسلمانوں کو کرسکتاہے پریشان

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ایک طرف نیوز چینلوں میں مسلمانوں کوبدنام کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے تو دوسری طرف یہ چینل مسلم لڑکیوں و عورتوں کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے خلاف ہی بات کرنے کی مواقع فراہم کررہے ہیں جو کہ مسلمانوں کیلئے خطرناک بات ثابت ہوسکتی ہے ۔ جب سے حجاب کا معاملہ زیر بحث ہے،اس کے بعد سے کئی چینلس کئی ایسی مسلم عورتوں کو زبردستی ڈبیٹ کیلئے،بائٹ کیلئے اور ٹی وی چینل میں بات کرنے کیلئے مدعو کررہے ہیں جنہیں نہ دستور ہندکی بنیادوں کا علم ہے،نہ ہی شریعہ قانون سے یہ واقف ہیں۔ایسی عورتوں کو کیمرے سامنے بٹھا کر ایسے سوال پوچھے جارہے ہیں جس کیلئے اچھے ماہرین بھی جواب دینے کیلئے تیارنہیں رہتے۔لاعلمی کی وجہ سے یہ خواتین ولڑکیاں کچھ بھی کہہ دیتی ہیں یا پھر اپنے آپ کوبچانے کی خاطر غلط جوابات دیکر مطمئن ہوجاتی ہیں،مگر یہی غلط جوابات کو پکڑ کر ٹی وی چینلس مسلمانوں کا مذاق کررہے ہیں۔بہت سارے تعلیم یافتہ خواتین ہیں،قانون کا علم رکھنے والی ہیں،کئی خواتین مذہب اسلام کے مبلغہ ہیں،مگر ان خواتین کو ٹی وی چینلس مدعونہیں کرتے،اس کی یہی وجہ ہے کہ یہ خواتین ڈٹ کر معاملات کی صفائی دیتی ہیں اور سوال پوچھنے والوں کولاجواب کردیتی ہیں ۔ اس سے بچنے کیلئے ہی لاعلم،ناخواندہ یا پھر دینی علوم سے ناواقف خواتین و لڑکیوں کو چینلس پوری سازش کے تحت استعمال کررہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین ایسے بحث ومباحثوں سے گریز کریں،کیونکہ ان بحث ومباحثوں سے معاملات کو مزید بگاڑاجارہاہےنہ کہ اس سے عدالتی کارروائی میں کوئی فائدہ ہونے والاہے۔طلاق ثلاثہ کی مدعی سائرہ بانو کوبھی شروعات میں اسی طرح کے بحث ومباحثوں کیلئے استعمال کیا گیا تھا ،بعدمیں اسی خاتون کو استعمال کرتے ہوئےطلاق ثلاثہ کا قانون بنوایا ،کہیں ایسانہ ہوکہ حجاب کے معاملے میں بھی مسلم لڑکیوں کو ہی حجاب کے خلاف کھڑاکیاجائے۔