دہلی:۔یہ مسئلہ مذہبی ہو یا سماجی یا دستوری ،یہ ہندوستان کا مسئلہ ہے جس میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ،یہ ہندوستانی مسلمانوں کا معاملہ ہے ،جنہوں نے کبھی بھی اپنے کسی معاملہ کو بین الاقوامی رنگ نہیں دیا،کبھی بھی کسی سے فریاد نہیں کی،بلاشبہ حجاب کے استعمال کو دستوری حق مانا جاتا ہے ،اس کو قانونی طور پر حل کیا جائے، مگر یاد رہے کہ یہ حجاب ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔یہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کا نہیں ملک میں اس کا استعمال ہر مذہب کے لوگ کرتے ہیں ،صرف ان کا انداز بدلا ہوا ہوتا ہے۔ حجاب کے استعمال کا دارومدار پسند پر ہے۔ لڑکیاں سر کو ڈھکتی ہیں یا نہیں یہ ان کی پسند پر منحصر ہے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز علما اور دانشورو ں نے کیا۔جنہوں نے مانا کہ یہ مسئلہ دستوری ہے، سماجی ہے ،اس میں بنیادی حقوق کا سوال ہے،جس کو دستورکی روشنی میں حل کیا جانا بہتر ہوگا جو ہر ہندوستانی کو اس کی مرضی اور پسند کا حق دیتا ہے۔ حجاب تنازعہ پر ممتاز اسلامی اسکالر پدم شری پروفیسر اختر الوسع کا کہنا تھا کہ کرناٹک میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ حجاب اچانک کیسے موضوع اور تنازعہ بن گیا؟جو لڑکیاں ان اسکولوں میں با حجاب آتی ہیں ان کی بڑی بہنیں اور مائیں بھی ان اسکولوں سے پڑھ کر نکلیں تھیں۔اب اچانک کیا ہوگیا جو حجاب پر انگشت نمائی کی گئی۔ یہ ملک کا دستور ہے جو اس کی اجازت دیتا ہے کہ کیا پہنے اور کیا کھائے اس کا فیصلہ ذاتی ہوتا ہے۔کوئی بھی کسی پر اپنی پسند تھوپ نہیں سکتا ہے۔کسی کو کوئی حق نہیں کہ کسی اور بتائے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ اس میں مذہبی شناخت اور لباس کا کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکھوں میں خواتین کیا مرد بھی سر کھلا نہیں رکھ سکتے۔آپ اندرا گاندھی سے مینکا گاندھی تک سب کو دیکھیں کہ ساڑی کا پلو سر پر رہتا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ ہمیں ملک میں سماجی و تہذیبی رنگا رنگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ پروفیسر اختر الوسع نے مزید کہا کہ یہ ہندوستا ن اور ہندوستانی مسلمانوں کا معاملہ ہے اس میں کسی ملک کو بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب وزیر اعظم مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے نعرے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اس نعرے کی ہوا نکالنے پر آمادہ ہیں،’بیٹی بچاو بیٹی پڑھاؤ‘کا نعرہ ہے، لیکن جب مسلمان لڑکیوں کو حجاب کے نام پر روکا جائے گا، تو پھر یہ نعرہ کیسے حقیقت میں بدل سکے گا۔دہلی کی مسجد فتح پوری کے امام مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مکرم احمد نے حجاب کے معاملہ پر کہا کہ یہ سیاسی مسئلہ بن گیا ہے یا بنا دیا گیا ہے۔ یہ مذہبی ،سماجی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ اس قسم کا پردہ کوئی صرف مسلمانوں میں نہیں ہے،صرف اسلام میں نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر مذاہب میں اس کا چلن ہے۔یہ ملک کی تہذیب کا حصہ ہے۔اس کے لیے مسلمانوں کیا ہر مذہب کے ماننے والوں کو دستور ی حق حاصل ہے۔مولانا مفتی مکرم نے کہا کہ اس معاملہ میں احتجاج یا مظاہرہ کرنا مسلمانوں کا جمہوری حق ہے ،اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے،بس اتنا ضروری ہے کہ کوئی بھی احتجاج ہو تو پر امن ہو کیونکہ اس قسم کی زیادتیوں پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی ہے۔دراصل عدالت کو اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ بنیادی حقوں اور مذہبی آزادی میں کیا شامل ہے۔انہوں نے اس معاملہ پر بیرونی ممالک سے آوازوں کے بارے میں کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی کسی ملک سے نہیں کہا کہ ہماری حمایت میں بیان دے۔ جبکہ سماجی کارکن ظفر سریش والا کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹا سا معاملہ طول پکڑ گیا۔میں لڑکیوں کے مظاہرے پر کچھ نہیں کہنا چاہوں گا ،مگر میرا ماننا ہے کہ در اصل اس سلسلے میں پہلے والدین کو اسکول انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تھی۔بات چیت کوئی نہ کوئی راستہ نکال دیتی ہے،اس سے ہوسکتا تھا کہ بات ڈوپٹہ کے استعمال پر آجاتی ،مسئلہ حل ہوجاتا۔ اب حالات ایسے ہیں کہ دونوں جانب سے مقابلہ آرائی جاری ہے ،ماحول خراب ہوگیا ہے۔ ظفر سریش والا کہتے ہیں کہ اب اس تنازعہ میں دوسرے ممالک سے آواز سنائی دے رہی ہے ،جو بالکل غیر ضروری ہے۔ ممبئی کے ممتاز عالم دین مولانا ظہیر عباس رضوی نے اس معاملہ پر کہا کہ آج سے قبل یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا،یہ بنیادی حق ہے جو دستور نے ہر کسی کو دیا ہے۔بات صرف مسلمانوں کی نہیں ہے۔کوئی حکومت ہو تنظیم یا پھر فرد وہ کسی پر اپنی پسند تھوپ نہیں سکتا ہے۔اگر کوئی ایسا کررہا ہے تو دستور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی بہت پریشان کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک بات تو سب کو معلوم ہے کہ الیکشن کا ماحول ہے اور پولرائزیشن کیا جارہا ہے ،اس لیے مسلمانوں کو ذرا ہوشیاری سے کام لینا چاہیے۔مولانا ظہیر عباس رضوی نے کشمیر میں ایک طالبہ کے حجاب نہ پہننے پر نشانہ بنائے جانے کے واقعہ پر کہا کہ ایک جانب کچھ طاقتیں جبراً حجاب اتارنے کی بات کررہی ہیں، تو دوسری جانب کوئی جبرا حجاب پہنانے کی کوشش کررہا ہے ،یہ دونوں حرکتیں غلط ہے۔ کولکاتہ کی تاریخی ناخدا مسجد کے امام مولانا شفیق قاسمی نے حجاب تنازعہ پر کہا کہ کوئی مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے ،پردہ ہر مذہب میں ہے ،کیا ہندو ،کیا عیسائی اور کیا یہودی۔ اس کو ہم ہندوستانی تہذیب کا حصہ مانتے ہیں ،یہ حیا کی علامت مانا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لڑکیاں ہمیشہ سے حجاب کا استعمال کرتی تھیں ،کوئی اچانک پہن کر نہیں آگئیں۔اب معاملہ عدالت میں ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کے دستور پر پورا بھروسہ ہے۔یہ بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کا سوال ہے۔ ہمارے ملک کی سیکولر بنیادوں کی یہی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنا احتجاج پر امن اور شائستہ انداز میں کرنا چاہیے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پوری دنیا ہندوستان کو دیکھ رہی ہے، لیکن ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی اس بات کو پسند نہیں کیاکہ کوئی اور ملک ان کے معاملہ میں دخل دے۔
