جھوٹ کی بنیاد پر مدارس کا چندہ کرنے والو ںسے رہیں ہوشیار ;  زکوٰۃ و چندوں کو نہ کریں بیکار!

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
شیموگہ :(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔ رمضان المبارک کے آتے ہی روزوں اور دیگر عبادات کے تعلق سے مسلمان سنجید ہ ہوجاتے ہیں وہیں زکوٰۃ ، صدقات ، فطرے اور خیرات کے لئے بھی مسلمان ترجیح دیتے ہیں لیکن پچھلے کئی سالوں سے امت مسلمہ کو ٹھگنے کے لئے کئی موجودہ اور غیرموجودہ مدارس مسلمانوں کے زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات کی بڑی رقم کوحاصل کررہے ہیں اور مسلمان ان ٹھگوں کی تصدیق ، شہادت اور پہچان کے بغیر ہی بڑی رقومات ثواب کے مقصد سے خرچ کردیتے ہیں ، ایسا کرنے والے صرف بیرونی علاقوں کے لو گ ہی نہیں ہیں بلکہ مقامی سطح پر چار پانچ بچوں کو ساتھ رکھ کرسینکڑوں بچوں کے اعداد بتاکر لاکھوں کا چندہ وصول کررہے ہیں جس سے ملت میں زکوٰۃ کا جو مقصد ہے وہ فوت ہورہاہے ۔ کئی ایک مدارس جو اپنے آپ کو مرکزی کہلاتے ہیں وہاں پر دوسری ریاستوں سے چند بچوں کو کرایے پر لاکر انکے نام پر چندہ کرتے ہیں اور یہ سب آمدنی کمیٹیاںچٹ کررہی ہیں ۔ دراصل بھارت میں جہاں کئی مدارس نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتے ہوئے دین اسلام کو بچانے کا کام کررہے ہیں وہیں بیشتر مدارس غریب علاقوں سے بچوں کے والدین کو کچھ رقم دے کر اپنے ساتھ لاتے ہیں اور اس کام کی ذمہ داری کچھ سفیر یا علماء کو دی جاتی ہے ، جسطرح سے انشورینس کمپنیوں میں ٹارگیٹ دیا جاتاہے اسی طرح سے مدارس میں بچوں کو لانے کا ٹارگیٹ  دیا جاتاہے اور جو عالم جتنے بچوں کو لا تا ہے اسکی تنخواہ یا عہدہ اتنا ہی بڑاہوتا ہے ۔ اس خبر کے ذریعے سے مدارس کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں ہورہی ہے بلکہ مدارس کے نام پر جو لوگ مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں ان کے تعلق سے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کئی ایسے مدارس بھی ہیں جہاں پر طلباء کی تعداد تین ، چار پانچ ہوتی ہے اور اس سلسلے میں جو شہادت نامہ یا اشتہار جاری ہوتاہے اس میں سینکڑوں بچے ہونے کا تذکرہ کیا جاتاہے جس کا سالانہ خرچ لاکھوں میں بتایا جاتاہے ۔ بہت کم ایسے مدارس ہیں جو اپنی حقیقی تعداد بتاکر چندہ وصول کرتے ہیں ورنہ بیشتر مدارس میں جھوٹ ہی کہا جاتاہے ۔ ملک میں دینی مدارس کا نیٹورک منظم طریقے سے نہ ہونے کی وجہ سے صرف رمضان کے لئے بھی کچھ مدرسے شروع کئے جاتے ہیں ۔ جس طرح سے الیکشن کے موقع پر اخبارات بنتے ہیں ، سیاسی پارٹیاں جنم لیتے ہیں ایسے ہی رمضان میں کچھ مدرسوں کے نام سامنے آتے ہیں پھر وہ کہاں چلے جاتے ہیں ، کس حال میں ہیں ، وہاں کے ذمہ داران کون ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم ہوتاہے ۔ بھارت میںجس طرح سے مسلم پرسنل لاء بورڈ دینی امور کی نگرانی کرتا ہے اسی طرح سے اگر مدارس کی نگرانی کرنے اور انکی تصدیق کرنے کے لئے بھی ایک ادارہ قائم کرتے ہوئے شہادت اور تصدیق نامہ دینے کا سلسلہ شروع کیاجائے تو جھوٹے مدرسوں کا مافیا خودبخود ختم ہوجائے گا ، اس طرح کے ادارے الگ الگ مسلکوں کو بنیاد پر بنائے جائیں تب بھی حرج نہیں ہے لیکن لاکھوں کروڑوں کا مال ضائع نہ ہوگا ۔ ایک طرف دوسرے علاقوں سے آنے والے جھوٹے چندہ خوروں کا دربار عام ہے تو دوسری طرف گائوں کا مدرسہ کہہ کر لوگوں سے چندے وصول کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے ۔ گائوں کا مدرسہ میں کیا حالات ہیں ، گائوں کے کتنے بچے ہیں ؟، گائوں کے کتنے مدرسین ہیں ؟، گائوں کے لوگوں کو مدرسے میں کس حد تک شامل کیاجارہاہے یہ سب کوئی سوال نہیں کرتا، بس چند ہ دے کر خاموشی اختیار کرلینا ہی اپنی ذمہ داری سمجھی گئی ہے۔ مسلمان جب تک صحیح و غلط کی نشاندہی نہیں کرتے اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے اور لاکھوں کروڑوں روپئے ضائع ہوتے رہیں گے ۔