مریضوں کیلئےفوجی اسپتال کا استعمال کرنے کیلئے ہائی کورٹ نے دی رائے
بنگلورو:۔ کرناٹک میں کورونا وائرس کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے حکومت کرناٹک کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو کرناٹک ہائی کورٹ نے انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے ان کا سخت نوٹس لیا۔ چیف جسٹس ابھئے سرینواس اوکا اور جسٹس اروند کمار پر مشتمل بنچ نے کرناٹک میں کورونا کی صورتحال کو کافی سنگین قرار دیتے ہوئے بدنظمی کے لئے حکومت کرناٹک اور بروہت بنگلور مہانگر پالیکے کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ کورونا وبا کے بعد اسپتالوں میں بستروں، آکسیجن، وینٹی لیٹر اور دواؤں کی کمی خاص طور پر شہر بنگلور کی خراب صورتحال کے لئے عدالت نے حکومت اور بی بی ایم پی کو خوب لتاڑا ہے۔کرناٹک میں دو ہفتوں پر مشتمل لاک ڈاؤن شروع ہونے سے چند گھنٹوں پہلے ہوئی سماعت میں چیف جسٹس اے ایس اوکا نے تبصرہ کیا کہ عدالت کے سامنے جو حقائق پیش کئے گئے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ لاک ڈاؤن سے قبل بعض شہریان بنگلور کی طرف سے دائر کی گئی مفاد عامہ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ریاست بھر میں خاص طور پر شہر بنگلور میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کے لئے بستروں کی کمی، آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ اور اسپتالوں میں وینٹلی لیٹرس کی قلت پر تبصرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو یہ ہدایت جاری کی کہ فوری طور پر کرناٹک کو روزانہ 802 میٹرک ٹن آکسیجن کی فراہمی کا انتظام کرے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت 29اپریل تک ملتوی کرنے سے پہلے شہر بنگلور سمیت کرناٹک کی صورتحال پر متعدد تبصرے کئے۔عدالت نے کہاکہ شہر بنگلور میں مریضوں کی تعداد جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس کے مقابل حکومت کی طرف سے بستروں کو جو انتظام کیاگیا ہے وہ معمولی ہے۔ججوں نے بتایاکہ بنگلور میں صرف 74ہچ ڈی یو اور14آئی سی یو بستر دستیاب ہیں۔ ریاستی حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ بنگلور سمیت ریاست بھر میں کورونا مریضوں کے علاج کیلئے بستروں کی تعداد بڑھانے کیلئےانتظام کرے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل کو ہدایت دی کہ بنگلوراور ریاست کے فوجی یونٹوں کے کمانڈ اسپتالوں میں شہریوں کیلئے کووڈ بستر مہیا کروانے کا انتظام کرنے کی کمانڈنگ آفسروں کو اطلاع دی جائے۔مرکزی حکومت کے وکیل نے اس مرحلے میں عدالت کو بتایاکہ اگلی سماعت تک عدالت کو مطلع کیا جائے گا کہ دفاعی کمانڈ کے تحت آنے والے اسپتالوں میں عام شہریوں کا علاج کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ بنگلور میں روزانہ 1471میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اس میں سے مرکزی حکومت کو روزانہ 802میٹرک ٹن آکسیجن فراہم کرنے کا انتظام فوراً کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس کے باوجود کرناٹک میں 600/ میٹرک ٹن سے زیادہ آکسیجن کی قلت رہے گی۔ اس کا انتظام ریاستی حکومت کو اپنے طور پر کرنا ہوگا۔عدالت نے تبصرہ کیا کہ ریاستی حکومت اور بی بی ایم پی کو پہلے ہی ہائی کورٹ کی طرف سے 22اپریل کو ہدایت دی گئی تھی کہ کورونا وائرس سے بچنے کی دوا ریمڈیسیور کی دستیابی کے مطابق ڈاٹا عوامی طور پر شائع کرایا جائے۔ لیکن اس میں یہ دونوں ناکام رہی ہیں۔ کل سے لاک ڈاؤن شروع ہونے جارہا ہے ان حالات میں اگر جن کورونا مریضوں کی حالت سنگین ہے ان کے رشتہ داروں سے اگر کہاجائے گا کہ وہ ریمڈیسیور فراہم کریں تو وہ کہاں جائیں گے۔ ریاستی حکومت کو اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے فوراً قدم اٹھانا ہوگا۔ اسپتالوں میں بستروں اور آکسیجن کی قلت کے علاوہ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ لاک ڈاؤن کے سبب جو لوگ متاثر ہوں گے ان کی غذا کے انتظامات پر بھی توجہ دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تمام معاملات آئین کی دفعہ 21کے تحت حق زندگی کا حصہ ہے۔ ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پرائیویٹ اسپتال اینڈ نرسنگ ہومس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ہچ ایم پرسنا نے عدالت کو بتایاکہ شہر میں جتنی دواؤں کی مانگ ہے اس کے مقابل دستیابی صرف 25فیصد ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مریضوں کو آکسیجن مہیا کروانے کی جتنی مانگ ہے اس کے مقابل 50فیصد میسر نہیں ہے۔ حکومت نے صورتحال سے نپٹنے کے لئے صوبائی وار روم بنائی ہے لیکن اس سے بھی کوئی مدد نہیں مل پائی۔ بنگلورمیں روزانہ 300میٹرک ٹن آکسیجن کی قلت درپیش ہے۔ ریاست کے اڈوکیٹ جنرل پربھو لنگا نوادگی نے عدالت کو یقین دلایا کہ اس کے بعد حکومت متعلقہ فریقوں سے بات کرکے جلد از جلد آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائے گی۔
