کونساسانپ سونگھ گیاہے مسلم ایم ایل ایز کو؟ شیموگہ میں فسادات میں ہوئے تین دن بیت گئے،دورہ کرنے کی بات تو دورنہ فون کیا نہ خبر لی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔پچھلے دنوں اسمبلی میں جب ایشورپانے ڈی کے شیوکمار کوصیغہ واحد میں بات کی تو کانگریس کے تمام ایم ایل ایز ڈی کے شیوکمارکی دفعہ میں آگے آئے،خصوصاً مسلم ایم ایل ایز نے دفعہ میں آکر ایسا مظاہرہ کیاکہ مانوکہ وہ ڈی کے شیوکمارکیلئے اپنی جان دے دینگے۔اُسی دن سے شیموگہ میں ایک ہندو نوجوان کے قتل کی واردات کے بعد حالات خراب ہوچکے ہیں،مسلمان خوف کے ماحول میں جینے کیلئے مجبورہیں اور اپنے بل بوتے پر حالات سے مقابلہ کر رہے ہیں،جو نقصان ہوا تھا اُس کی بھرپائی خود سے کرنے کی کوشش ہورہی ہے،مکانات کی تو  ر پھوڑ کیلئے معاوضہ کس سے طلب کرناہے اس پر غوروفکر ہورہی ہے،اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ آنے والے دنوں میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو لیکرہے جس کا مطالبہ سنگھ پریوارکے لوگ کررہے ہیں۔ان تمام حالات کے باوجود مسلم قائدین خصوصاً7/ایم ایل ایز،درجنوں سابق ایم ایل ایز اور ایم ایل اے کی ٹکٹ کے دعویدار پوری طرح سے شیموگہ کے مسلمانوں کو نظراندازکرچکے ہیں اور کوئی اس تعلق سے کوئی منہ کھولنا بھی نہیں چاہ رہا ہے ، یہاں تک کہ شیموگہ سے تعلق رکھنے والے سی ایم ابراہیم اور این اے حارث نے بھی اس تعلق سے اب تک نہ مقامی لیڈروں سے رجوع کیاہے نہ ہی ا س بارے میں کوئی بیان بنگلورومیں بیٹھ کر دیاہے۔حدتویہ ہے کہ سلیم احمد،یوٹی قادر اور تنویر سیٹھ جیسے مسلم لیڈروں کا یہاں آناجانا ہے اور یہاں کے مقامی لیڈروں کے ساتھ ان کے روابط ہیں ، انہوں نے بھی شیموگہ کے مسلمانوں کو نظراندازکرتے ہوئے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ مسلمانوں کے کس طرح کے قائدین ہیں اور انہیں مسلمانوں کی کتنی فکرہے۔ضمیر احمد جنہیں شیموگہ کے لوگ اپنا قائد مانتے ہیں اور ان کے حامیوں نے یہاں ضمیر احمد ابھیمانی گلابلگا( مداحوں کی تنظیم)بھی بنا رکھی ہے،وہ بھی ان حالات پر اب تک اپنی زبان کو جنبش نہیں دی ہے۔شیموگہ میں اب تک حالات سے نمٹنے کیلئے مقامی سطح پرہی جدوجہد ہورہی ہے،مگراعلیٰ سیاسی قائدین کی بے راہ روی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیڈران نہیں بلکہ کانگریس پارٹی کے ہی لیڈران ہیں،جنہیں قوم سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ دوسری طرف شیموگہ میں کانگریس کے اعلیٰ لیڈروں میں شمار ہونے والے اسماعیل خان بھی اس سنگین وقت میں اپنے گھرکی چوکھٹ چھوڑ کرباہرنہیں آئے ہیں ۔ سال 2010 کے فسادات میں بھی ان کی کوئی قیادت نہیں ہے،سال2015 کے فسادات میں بھی یہ مسلمانوں کے درمیان دکھائی نہیں دئیے،سال2022 میں بھی ان کا کوئی پتہ نہیں ہے،باوجوداس کے وہ کانگریس میں ایم ایل اے کی ٹکٹ کی دعویدارہیں،سابق اسٹیٹ چیرمین رہے ہیں،سابق سوڈا صدررہے ہیں اور اب وہ کے پی سی سی میں موجودہیں۔ان سب کے ہوتے ہوئے بھی ان کی طرف سے قیادت کیلئے کوئی ہلچل نہیں ہوئی ہے ۔ وہیں شیموگہ کے کئی لیڈروں کاکہناہے کہ ہمیں قیادت کیلئے کسی نے نہیں بلایا،ہمیں قیادت کاموقع نہیں دیا جارہا ہے ،ہم اپنا کام گھرمیں بیٹھ کررہے ہیں(ورک فرم ہوم)،ہم فون پر اطلاع دے چکے ہیں(آن لائن ورک)کررہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں کی قیادت کیلئے کون آئیگا ؟ ان سب کے علاوہ کانگریس پارتی نے پچھلے تین دنوں میں ایک لفظ مسلمانوں کی دفعہ میں نہیں کہاہے اورنہ ہی کانگریس پارٹی کے ضلعی صدرنے بھی اس تعلق سے کوئی بیان نہیں دیاہے۔بس ان حالات میں مسلمان اپنے آپ پر ہی بھروسہ کرسکتے ہیں باقی سب سےاُمید کرنا بے وقوفی ہی ہے۔