حجاب پر اب بھی نہیں ملی راحت؛عبوری حکم طلبا ءکیلئے ہے اساتذہ کیلئے نہیں:ہائی کورٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
حجاب کے تعلق سے سی ا یف آئی ہی ڈھول بجارہی ہے : اڈوکیٹ ناگانند
بنگلورو:۔حجاب معاملہ کو لیکر کرناٹک ہائی کورٹ میں بدھ کو بھی سماعت مکمل نہ ہوسکی اور کارروائی پھرآج یعنی جمعرات کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔ البتہ آج کی سماعت کے دوران باحجاب طالبات کو  راحت ملنے کے بجائے جھٹکا ضرور ملا ہوگا جس میں عدالت کی توسیعی بینچ نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ نے حجاب کو لیکر 10  فروری کو جو  عبوری حکم دیا تھا وہ اُن کالجوں کیلئے تھا جہاں پہلے سے یونیفارم لاگو ہیں بھلے وہ پی یو کالج ہو یا پھر ڈگری کالج ہو۔عدالت نے آج اس بات کی بھی وضاحت کی کہ جو عبوری حکم دیا گیا تھا وہ صرف طلبہ و طالبات کیلئے ہے، اُس میں ٹیچرس یا لیکچررس نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ عدالت کے عبوری حکم کے بعد کرناٹک کے مختلف کالجوں میں ٹیچروں اور لیکچروں کو بھی کالج کے گیٹ کے باہر ہی اپنا حجاب اُتار کرکیمپس میں داخل ہونا پڑا تھا اس دوران ٹمکور کی ایک پرائیویٹ کالج میں  ایک انگریزی پڑھانے والی لیکچرر کو حجاب اُتارنے کیلئے کہنے پر استعفیٰ بھی دینا پڑا تھا۔یاد رہے کہ منگل کو سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی صرف کلاسز کے اندر اور صرف تعلیمی اوقات کے دوران  ہے۔ تعلیمی اداروں کے احاطے میں حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے۔مگر بدھ کو پی یو کالج اُڈپی کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایس ایس ناگانند نے ججاب کی مخالفت کرتے ہوئے  ہائی کورٹ کو بتایا کہ پی یو کالج میں 2004 سے ہی یونیفارم کا قانون لاگو ہے اور اُس وقت سے لیکر دسمبر 2021 تک یعنی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔، مگر 21 دسمبر 2021 کو، کچھ والدین نے کالج کے حکام سے ملاقات کی اور اصرار کیا کہ لڑکیوں کو حجاب پہننے کی اجازت ہونی چاہیے، عرضی گزار طالبات کے آدھار کارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے  ایڈوکیٹ ناگانند نے کہا کہ ان طالبات نے اپنے آدھار کارڈ پر بغیر حجاب کے ہی تصویریں ہیں۔اُڈپی پی یو کالج کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ ناگانند نے طلبہ تنظیم کیمپس فرنٹ آف انڈیا کو ایک بنیاد پرست تنظیم قرار دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اسی تنظیم نے حجاب کو لےکر ڈھول پیٹا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تنظیم کسی اسکول یا کالج کی طرف سے تسلیم شدہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف وہاں ہنگامہ برپا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ سی ایف آئی کے نمائندے کالج کے حکام سے ملے تھے اور طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی جس کے بعد ہی ہنگامہ شروع ہو گیا تھا  اور طلباء نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ سڑک پر ڈھول بجانے والوں کو سماج کو دھمکی دینے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔حجاب کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ناگانند نے عدالت کو بتایا کہ اُڈپی پی یو کالج میں کالج ڈیولپمنٹ کونسل (سی ڈی سی) ہے جو کالج کی ترقی کیلئے کام کرتا ہے، یہ ایک نمائندہ ادارہ ہے۔ اور اسی کونسل نے20 سال پہلے یونیفارم تجویز کی تھی۔ ناگانند کے مطابق کیمپس فرنٹ آف انڈیا اور دیگر اداروں نے طالبات اور ان کے والدین کو اُکسایا جس کے بعد حجاب کو لے کر ہنگامہ شروع ہوا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے کالج کے لئے  یونیفارم تجویز نہیں کیا تھا۔ حکومت نے کونسل کو اختیار دیا تھا جس کے بعد کونسل نے یونیفارم لاگو کیا تھا۔کالج ڈیولپمنٹ کونسل کی طرف سے سنئیر ایڈوکیٹ ساجن پوویّا نے پیروی کی انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 25(2) مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ شعور کی آزادی مطلق ہے، لیکن مذہب پر عمل کرنے، اس کا دعویٰ کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق آرٹیکل 25(2) کے تابع ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 25(2) کے تحت، ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ریاست کو قانون بنانے یا مذہبی عمل سے منسلک کسی بھی سرگرمی کو منظم کرنے سے روک سکے۔توسیعی بینچ کے نویں دن بھی آج عدالتی کارروائی مکمل نہ ہوسکی اور اگلی سنوائی آج یعنی جمعرات کیلئے ملتوی کی گئی۔کل جمعرات کو غالباً پھر ایک بار ایڈوکیٹ دیودت کامتھ عدالت کو با حجاب طالبات کی طرف سے وضاحت پیش کرینگے۔