تفریق اندازی یا بھائی چارہ

مضامین

 

انیکتا میں ایکتا اس دیش کی شان ہے
اس لئے میرا بھارت مہان ہے
بھارت جب یہ نام میرے کانوں سے گزرتا ہے تو مجھے ان تمام بہادر شہیدوں کی یاد آتی ہے جن لوگوں نے بناتفریق کئےاس ملک کوآزاد کروانے کیلئے کئی ساری قربانیاں دئے۔ جس میں پہلےشہید اشفاق اللہ خان تھے جن کی موت 19 دسمبر1927 میں بھارت کی پہلی جنگ آزادی کے دوران ہوئی تھی ہرسال جب 13 اپریل آتا ہے ، تو میری روح کانپ جاتی ہے جلیان والاباغ (امرتسر) حادثے کو یاد کرکے جہاں پر انگریز افسروںنے گولیاں برسائی تھی۔ بہت سے لوگوں کو موت ہوئی اورکئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ لالہ لجپت رائے کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ جن کی موت 17 نومبر 1928 کوسائمن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران انگریزافسروں پرلاٹھی برسانے پر ہوئی تھی۔
جنگ لڑے وہ ویروں کی طرح
جب خون کھول کرفولاد ہوا
مرتے دم تک وٹے رہے وہ
دیش تبھی تو یارو آزاد ہوا
اگرہم حال اورماضی کے حالات پر ایک نظرثانی کریںگے ہمیں احساس ہوگا کے ہم اپنے بزرگوںکی محنت کو خاک میں ملارہے ہیں۔ کیا ہمارے بزرگوں نے اسی دن کیلئے ہندوستان کو اتنی تکلیفوں سے آزادکروایاتھا؟ کہ ہم تفریق پیداکریں؟ہندومسلم کرے؟ ہمارے طلباء کالجوں میں تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے کے پہناوے پر بحث کریں؟ اسلئے آزادی دلائی تھی کہ ہم مسجد ، مندر ، چرچ ، گورودوارا پر گھنٹوں ٹیلی ویژنوں پر لمبی لمبی چرچہ کرے اوریہ فیصلہ کرے کہ کون کیسے مذہب کا استعمال کررہا ہے کونسا مذہب صحیح ہے اورکونسا غلط اورکس کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اورکس کو نہیں۔ بھارت میں ٹیلی ویژنوں پر بحث کیلئے اوربھی کئی مسئلے ہیں جیسے بھارت کے کئی اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہے ، طلباء کو اسکول جانے کیلئے بہت سے پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ بھارت میں ایسے بہت سے بچے ہیں جو بچہ مزدوری کا شکارہورہے ہیں اورکچھ بچوں کو ایک وقت کا کھانا نصیب نہیں ہورہا ہے۔ مسجد ، مندر، مارکیٹ ، وغیرہ جیسی جگہوں پر بچے بھیک مانگتے ہوئے نظرآتے ہیں ان کے پاس پہننے کیلئے لباس مہیا نہیں ہے۔ وغیرہ ان سب سے ہٹ کر ہم سب مذہبوں پر بحث کرنے میں اپنا وقت برباد کررہے ہیں۔ ہم سب اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو بھول بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف وہ طلباء ہیں جو تعلیم پر توجہ نہ مرکوز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لباس کو لیکر اسکولوں اور کالجوں میں مہم چلارہے ہیں۔ انکی مہم اتنی آگے بڑھ گئی ہے کہ ہماری سرکار کوکچھ دن کیلئے کالجوں اوراسکولوں کو بندکرنا پڑا ہے۔ جس کا گہرا اثر طلباء کی تعلیم پر پڑا میں تمام طلباء سے کہنا چاہوںگی اپنی تعلیم پر توجہ دیں امتحانوں میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کریں ، جس سے بھارت اورآپکا مستقبل روشن ہوگا۔
چلو پھر سے وہ نظارہ یاد کرلے
شہیدوں کے دل میں تھاوہ جلواہ یاد کرلے
جس میں بہہ کرآزادی پہنچی تھی کنارے
دیش بھکتوں خون کی وہ دھارا یاد کرلے
ہم سب ہندومسلم سکھ عیسائی جیسے الگ الگ مذہب سے جڑے ہوئے بیشک ہم سب کا مذہب، رہن سہن، عبادت بھی جداہے، الگ الگ مذہبوں سے ہوتے ہوئے ہم سب کی ایک پہچان ہے۔وہ بھارتی ہے۔ ہم سب کو بھارت کا شہری کہا جاتا ہے تو ہم سب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم بھارتی ہیں اورانسان ہیں ہمیں ہروقت انسان بن کراپنی انسانیت دکھانی چاہئے۔ ہم سب اپنی انا، حسد، ضد، نفرت میں انسانیت بھول بیٹھے ہیں تو ہم کیوں اوروں (لیڈروں) پر الزام لگائے جبکہ ہم اوروں کو موقع دے رہے ہیں ۔ ہم ہروقت ایک دوسرے کے خلاف بھڑکے ہوئے رہتے ہیں اور بھڑکے ہوئے کو اورراستہ بھڑکانہ کونسا مشکل کام ہے ہم سب کے دلوںمیںایک دوسرے کیلئے اتنی نفرت بھر ی ہوئی ہے کہ ہمیں آگ لگانے کیلئے صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے اوراس چنگاری کو ہوا الیکشن کے دوران ہمارے لیڈراورانکے چیلے دیتے ہیں ۔ مختلف بیانات دیکر پھر آگ لگنا ظاہرسی بات ہے اورہم سب اسی آگ میں اپنی بچی ہوئی انسانیت کو خاک کرکے ہنگامہ مچادیتے ہیں پھر آزاد بھارت کے آزاد بھارتی ایک دوسرے کی دہجیاں اڑادیتے ہیں ۔ آخرکیوں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے مذہب کیلئے اتنی نفرت بھری ہوئی ہے ۔ قرآن شریف جو مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے قرآن شریف کو تمام مسلمان مانتے ہیں ،قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر انسان سے محبت کرو چھوٹا ہویا بڑا کسی بھی مذہب سے ےتعلق کیوں نہ رکھتا ہو سب کی عزت کرو، تم زمین والوں پررحم کرو آسمان والاتم پر رحم کریگا اچھے اخلاق کا برتائو کروچاہے کافروں کے ساتھ کیوں نہ ہوں جنت میں نیک لوگوں کے ساتھ داخل ہوجائوگے وغیرہ ۔
ہندو عقیدہ مکمل طورپر غیر مخصوص ہے اوردوسرے تمام عقائد اورمذہبی راستوں کو قبول کرتا ہے۔ سکھ دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں ، گرونانک نے اپنے انتھولوجی میں ہندواورمسلم مقدس مردوں کی آیات شامل کئے ہیں۔
خداوند یسوع مسیح نے عیسائیوں کو 2اصول دئے (1) خداسے محبت کرو(2) اپنے پڑوسی سے پیار کرو جیسا کہ تم اپنے آپ سے پیارکرتے ہو۔ قائدہ 2کے ذریعہ لارڈ یسوع نے ہم سب کو اس دنیا کے ہر انسان سے محبت احترام اوررحم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔جس میں تمام مذاہب کے ارکان شامل ہیں۔ جب لارڈیسوع نے ہمیںخدا سے دعاکرنا سکھایا تو انہوں نے دعا کا آغاز ان الفاظوں سے کیا۔ ہمارے باپ دادا آپ میں بھائی بھائی ہیں جس میں تمام مذاہب کے افراد شامل ہیں۔ (مندرجہ بالاچیزیں بائبل میں لکھی ہوئی ہیں) جس کسی مذہب کے مقدس کتاب میںنہیں ہے کہ تفریق کرو۔بھائی چارہ بھول جائو ایک دوسرے پر تہمت لگائو تو ہم سب کو سوچنا چاہئے کہ ہم سب کیا کررہے ہیں؟کیوں؟ ہم سب مذہب کے نام پر آپس میں لڑکیوں رہے ہیں۔اس کی صرف دو وجوہات ہوسکتے ہیں یا تو ہم تمام بھارتی اپنے ہی مذہب کو ٹھیک سے نہیں جانتے۔ یاپھر سب کچھ جان کر انجان بن رہے ہیں۔ یہ فیصلہ میں آپ بھارتیوں پر چھوڑتی ہوں کہ آپکی ایک دوسرے کے مذہب کے خلاف رائے دینے کی وجہ کیاہے۔ ہاں! ہم سب آزاد بھارت کے آزاد بھارتی ہیں ، ہم سب کو اپنی اپنی رائے دینے کا پوراحق دستور میں دیاگیا ہے ۔لیکن جس کسی کوکسی بھی مذہب کے بارے میں اپنی رائے دینا ہے تو وہ اس مذہب سے متعلق معلومات حاصل کریں اوراسکو سجھے پھر اپنی رائے لوگوں کے سامنے رکھیے
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
ہم سب بھارتیوں کو ایک بارسوچنا چاہئے۔جوہم حال میں کررہے ہیں اگروہی ہمارے بزرگوں نے ماضی میں کیا ہوتاتو کیا ہمیں آزادی ملتی؟ کیا ہم آزاد بھارت کے آزاد شہری کہلاتے؟ آج ہم سب جو یہ شاندار زندگی جی رہے ہیں کیا وہ جی پاتے؟ کبھی نہیں جی پاتے غلامی میں پیداہوکر غلامی میں ہی مرجاتے۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ اگر ہم سب ایک ہوںگے تو بھارت کے حالات بدل سکتے ہیں ہم سب کو آپسی رنجش بھول کر ایک دوسرے سے معافی مانگ کریا معا ف کرکے بھائی چارہ کو عام کرناہوگا۔
متحد ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
منتشر ہو تو مرجائو گے نفرت اور حسد سے
بھارت میں کئی مدعہ ہیں جس پرہم سب کو ایک ساتھ مل کر توجہ دینی چاہئے۔ جیسے بے روزگاری، تعلیم، ماحول کی آلودگی، بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی بیماریاں ، کسانوں کے ساتھ بارش کی جوابازی، فاقہ کشی ، طوفان وسیلاب ،بیرونی ممالک کے حملے، ہرسال بڑھتا ہوالگان وغیرہ۔ آج اسی وقت ہم سب بھارتیوں کو عہد کرنا چاہئے کہ ہم سب مل کر اپنے بھارت کو ترقی کی طرف گامزن کریںگے اوراپنے بزرگوں کو قربانیوں کو یادرکھیںگےاوران کا خواب کامیاب بھارت کیلئے کوشش کرینگے اوربھارت کا نام دنیا کے کامیاب ممالک کی فہرست میں شامل کرینگے اوربھارت کے ہرشہری کا احترام کرینگے ۔ مل جھل کر بھارت کا نام روشن کریںگے بھارت پر ہونے والے ہر حملے کا سب مل کر سامنا کرینگے او ر دشمن کو ایسا جواب دینگےکہ وہ ہمارے اوپر نظر ڈالنے سے پہلے دس بار سوچیئے گا۔
اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جائے
تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں

از:۔:۔فوزیہ بانو شیخ ۔ ہانگل۔7337802028