شیموگہ:۔جمعیت علماء ہند (مولانا ارشد مدنی) ضلع شیموگہ کا ایک وفد شہر کے نازک حالات کے تحت سدِ فساد و امن بحالی کیلئے مختصر تعارف و اہم مطالبات کے ساتھ ضلع شیموگہ کے ڈی سی اور یس پی سے ملاقات کیا اور محکمہ پولیس نے بغور سننے کے بعد تسلی بخش جواب دیا۔جمعیت علماء ضلع شیموگہ نے اپنی یادداشت میں کہاکہ جمعیت علماء ہند سن 1919ء سے ملکِ عزیز ہندوستان میں مسلسل جد و جہد کرہی ہے، یہ ایک قومی تنظیم ہے جو کئی سالوں سے ملک میں آپسی محبت و بھائی چارے کو باقی و بحال کرنے کی کوشش میں لگی ہے، چند دنوں سے شہر شیموگہ میں ہورہے مقتول ہرشا سمیت بیشتر امن مخالف و فساد انگیز حالات کو دیکھ رہی ہے اور پرزور مذمت کرتی ہے20 فروری کی رات پولیس کی تعینات و نگرانی کے باوجود آزاد نگر میں 500 سے 600 افراد گھس کر فتنا و فساد کو مزید گرماتے ہوئے گھروں میں تک داخل ہوجاتے ہیں، اسی طرح لال بند کیرے میں مکانات و مساکن پر دھاوا حملہ کرتے ہیں وہاں موجود سواریوں کو نذرِ آتش کردیتے ہیں، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں لوگ اکھٹا ہوئے پر ضلع انتظامیہ کوئی کاروائی نہیں کی اور حقیقت میں یہ پولیس انتظامیہ کی ناکامی ہے، جبکہ امن و سلامتی کی حفاظت کرنا ضلعہ انتظامیہ کا اولین فریضہ ہے، جمیعت علماء ہند اس واقعے کے بعد کے اقدامات کو سراہتی ہے، شہر میں امن و سکون بحال کرنے کیلئے جمعیت علماء ہر گھڑی تیار ہے، اس فساد کو مذہب کا نام دینا یا مذہب سے جوڑنا غلط بات ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، جمعیت علماء ہند ضلع انتظامیہ و امن محافظ محکمے سے ایسے نازک حالات میں فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، ان حادثات و واقعات ہمارے شہر کا نام پورے ملک و صوبہ جات میں خراب ہورہا ہے لہٰذا ان پر پابندی لگانی چاہیے، شہر میں اس طرح ماحول خراب کرنے والوں کی جلد نشاندہی ہونی چاہئے اور ان پر سخت کاروائی بھی، ہرشہ کی موت پر مضبوط تحقیقات ہونی چاہئے ، نیز عوام کی املاک و جائیداد کو نقصان پہنچانے والوں پر بھی سخت اقدامات ہونے چاہئیں اور نقصان زدہ افراد کے نقصان کی بھرپائی ہونی چاہئے اور جمعیت علماء ہند بھی حتی المقدور نقصان کے بھرپائی کی کوشش کریگی ۔جمعیت علماء کے اس وفد میں جمعیت علماء ہند (مولانا ارشد مدنی) ضلع شیموگہ کے صدر مولانا سید مذکر قاسمی ،نائب صدر مولانا ارشاد احمد خان قاسمی ،سکریٹری حافظ عمرمظہری اور اراکین میں محمد مختار ندیم ، محمد اسلم اور محمد صدام حسین الیاس نگر شامل رہے۔
