
از: حامد عمری۔شیموگہ
ہرشا قتل کے بعد شہر شیموگہ میں مسلم سماج پر ڈھائے گئے مختلف قسم کے خوفناک مظالم اور مسلم سماج میں برپا دہشت و خوف کی کیفیت درحقیقت سنگھ پریوار کے لیڈران کی جانب سے دیے جانے والے گمراہ کن اور دھمکی آمیز بھڑکاو بیانات کا شاخسانہ ہے بلکہ شیموگہ میں اس وقت اپنی لگائی گئی فرقہ وارانہ آگ کو بجھانے کے بجائے نہ صرف تیل چھڑکنے کا کام کیا جا رہا ہے بلکہ ہرشا قتل کو بنیاد بنا کر سنگھ پریوار اور بھاجپا کی چوٹی کے لیڈر جان بوجھ کر تابڑ توڑ اپنے زہر آلود بیانات کے ذریعہ پوری ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ سرکار اور پولیس بہ یک وقت دونوں غیر ذمہ دارانہ روش اختیار کرتے ہوئے خاموش تماشائی بن کر سنگھیوں کو اپنے مقاصد کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں بھرپور مدد کررہی ہیں کہیں بھی کسی سنگھی کی گرفتاری ہو رہی اور نہ ہی شکایت درج ہو رہی ہے۔ جس کی مسلم متحدہ محاذ نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے بلکہ مطالبہ کرتا ہے کہ سنگھی غنڈوں کے خلاف دی جانے والی شکایتوں کو قبول کرتے ہوئے قانونی کاروائی کریں ۔
ہرشا قتل کو لیکر پولیس چند ملزموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب تو ہوئی ہے مگر ابھی بھی پکچر باقی ہے یعنی قتل کے پس پردہ اور بہت ساری سازشیں ہیں جن کا پردہ فاش ہونا باقی ہے جن کے چہرے باہر لائے بغیر تفتیش نامکمل ہوگی ایسا لگ رہا ہے کہ بشمول بعض ملکی ریاستی میڈیا تمام سنگھی قوتیں اپنی آوارہ چیخ و پکار اور دہشت گردانہ روش سے ہرشا قتل کے پیچھے خفیہ سازشوں کو ثبوثاڑ کرنا چاہتی ہیں درحقیقت ہرشا قتل اور اسکے انتم سنسکار کے درمیان ابتدائی طور پر ہرشا کے والد والدہ بہن و بہنوی وغیرہ کی جانب سے الیکٹرانک و سوشیل میڈیا کے ذریعے قتل کو لیکر جو بھی گفتگو منظر عام ہوئی ہے اسکی تفتیش کے بغیر تحقیقات مکمل نہیں ہونگے مصدقہ رپورٹ کے مطابق سنگھ پریوار کی جانب سے مقتول کی فیملی کو ایک کروڑ سے زیادہ رقم فراہم کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں ان کی فطرت پر مبنی آوازیں بجھی بجھی سی نظر آنے لگی ہیں مگر سنگھ پریوار کے علم ہونا چاہیے کہ ڈھیر ساری رقم دیکر ریکارڈ میں موجود کسی دستاویزات کو مٹانے اور خریدنے کی کوشش بھی ایک بہت بڑا جرم ہوگا دراصل مذکورہ بالاقریبی رشتہ داروں کی ساری گفتگو و باتیں ابھی بھی محفوظ ہیں چنانچہ حکومت عدالت اور پولیس عدل و انصاف کے تقاضوں کو یکسر نظرانداز نہیں کر سکتی بلکہ اس قتل کے پس پردہ جو بھی چھوٹی بڑی قوتیں یا ماسٹر مائنڈ ہیں انہیں منظر عام کریں ورنہ عدل انصاف پر سے عوام کا بھروسا اٹھ جائیگا ۔
ابتدائی طور پر اجاگر ہونے والی رپورٹ کے مطابق دو چار سال قبل ہی ہرشا بجرنگ دل سے کنارہ کشی کر لی تھی اس کو بعض بجرنگیوں کے ساتھ شدید قسم کا اختلاف تھا بقول اس کے بہنوئی کے اس کی زندگی کو پہلے ہی سے سنگھیوں سے خطرہ تھا بلکہ اس کی موت پر سنگھ پریوار نے دس لاکھ کی سپیاری دے رکھی تھی جبکہ اسکی بہن نے کہا تھا کہ ہندوتوا کے نام پر میرے بھائی کا قتل ہوا ہے جب کہ ہندوتوا وغیرہ کچھ نہیں ہے بعدازاں اس نے درد بھری آواز میں ہندو اور مسلمانوں نوجوانوں کو اخوت و بھائی چارگی کے ساتھ زندگی کرنے کی انمول نصیحت بھی دی تھی ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ہرشا بھی ایک سماجی مجرم تھا اس پر بھی پانچ سے زائد کیسس درج تھے بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ رہنے کی شکایت باقاعدہ پولیس میں کی گئی تھی جس پر پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی چنانچہ اس بات کی تصدیق باقاعدہ اسکے والدین خود ایشوریا نے بھی اپنی پرس میٹ میں کی ہے اسکے علاوہ مقتول بھی کئی قسم کے جرائم کے ارتکاب میں کئی مرتبہ جیل بھی گیا تھا حتیٰ کہ مقتول اور قاتل دونوں بہ یک وقت جیل میں روم میٹ بھی رہے ہیں آپس میں لڑائی بھی ہوئی ہے سماج میں بھی ہرشا کے متعلق مثبت منفی دونوں رائے دکھائی دے رہے ہیں ایک طبقہ میں قتل کی مذمت ہورہی ہے تو کہیں دوسرے طبقہ میں اطمینان کا اظہار ہو رہا ہے باوجود اس کے ہرشا کا قتل انتہائی قابل مذمت ہے لیکن اسکے ردعمل میں وزیر پنچایت ایشوریا اور ممبر پارلیمان کی سربراہی میں سنگھی و بجرنگی غنڈوں نے جس طرح درندگی کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی انسانیت سوز اور قابلِ مذمت ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہی ہے سینکڑوں گھر دکانوں گاڑیوں کو پتھر بازی اور آتش زنی کے ذریعے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے سینکڑوں غرباء اور مزدوروں کی روز مرہ زندگیاں تباہ و برباد کر دی گئی ہیں پولیس سے پر زور بمطالبہ ہے کہ ایشوریا کو اس تباہی و بربادی کا راست ذمہ دار ٹہرایا جائے اور تمام نقصانات کی بھرپائی خود ایشوریا ہو مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے خلاف جب محکمہ پولیس میں نچلی سطح سے لے کر اوپری سطح تک شکایت درج کروانے کے لیے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے مگر کوئی بھی شکایت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے سب کے سب اپنے حدود کا بہانہ بنا کر معذرت چاہنے لگے ہیں گویا ایشوریا کی سیاسی قوت سے پولیس ہیبت کا شکار ہے حالانکہ روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہے کہ مسلم سماج کے خلاف دی گئی ان کی توہین آمیز متعصبانہ بیان بازی”مسلمان غنڈوں” کے نتیجہ میں ہی طیش میں آکر سنگھیوں نے شہر کے اندر بربادی مچائی ہے۔ مسلم متحدہ محاذ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد وزیر ایشوریا کے خلاف شکایت لیکر آئی جی پروین سود کے پاس گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر شکایت لینے سے انکار کر دیا کہ وہ مجبور ہیں ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں دوسری طرف ریاست کے گورنر نے تو حد کر دی کہ جب مسلم قیادت کا ایک وفد ایشوریا کے خلاف شکایت لے گیا تو وہ تو کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں تھے بلکہ انہوں نے تو کلی طور پر مسلم وفد کی ان دیکھی کر دی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ سرکار اس کیس کو مزید تفتیش کے بہانے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی( NIA ) کے حوالے کرنے کا سوچ رہی ہے مگر اس پورے معاملے میں حکومت کا رویہ بھی انتہائی غیر منصفانہ متعصبانہ اور مایوس کن ہے جان بوجھ کر اپنی کمزوریوں پر پردہ پوشی کرنے کیلئےسب مل کر آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس درمیان بعض متعصب حلقوں کی جانب سے گرفتار شدہ ملزموں کو حیدرآباد ینکونٹر کے طرز پر بغیر تفتیش کے ینکوٹر کرنے کی بھی مانگ ہو رہی ہے خدا نہ کرے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ ملزموں کے خلاف سراسر نا انصافی ہوگی بلکہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہوگی ایشوریا اور پولیس کے ساتھ ساتھ خود سرکار بھی شکوک کے دائرے میں آجائیگی امید ہے کہ ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوگی جس سے دنیا بھر میں سماج اور دیش کا منہ کالا ہو۔
ویسے مسلمانوں کے حالیہ مالی نقصانات کی بھرپائی کیلئے بہت ساری مسلم جماعتیں ، تنظیمیں اور ادارے اپنی بساط سے بھرپور کوشش کر رہی ہیں بعض سروے کا کام کر رہی ہیں تو بعض قانونی کاموں کی طرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں بالخصوص اس وقت متاثرین میں جو بھی غرباء مساکین مزدور ہیں انہیں فوری راحت پہنچانے کی ضرورت ہے چونکہ نقصانات متعین ہیں اور بہت ساری تنظمیں متحرک ہو کر کام کر رہے ہیں لہذا مسلم متحدہ محاذ شیموگہ الگ سے کوئی کام کرنے کے بجائے اس وقت جوتنظیمیں متحرک رول ادا کر رہی ہیں وہ اگر مناسب سمجھیں تو ان کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہے البتہ محاذ کی کوشش جاری رہے گی کہ بنگلور کے لیگل اداروں کے تعاون سے سنگھیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو ۔
