چنگیری:۔ ملک کے بڑے تالاب سولے کیرے (شانتی ساگر ) کی باندھ پر موجود تنگ راستہ کی وجہ بار بار ہونے والے حادثات کو روکنے راستہ کی کشادگی کےترقیاتی کام سے ماحولیات اور تالاب کو عدم تحفظ لاحق ہونے سے کڈگاسنگھا کی جانب سے 27 فروری کو سولےکیرے تالاب کی باندھ پر احتجاج بلایا گیا ،جس کی تعلق انتظامیہ نے اجازت نہیں دی باوجود اس کے سنگھا کے افراد احتجاج کرنے اور ضرورت پڑنے پر گرفتاریاں پیش کرنے سولے پہنچنے ،اس دوران گربسواسوامی ویرکتا مٹھ پانڈو مٹھ موقع پر پہنچ کر محکمہء ‘پی ڈبیلوڈی ‘ کے افسران اے ای ای روئی کمار اور انجینئر شیوکمار کے ساتھ کڈگا سنگھا کے اراکین کو سولے کیرے میں واقع یاتری نواس میں بٹھا کرآپسی تبادلہ خیال کرتے ہوئے معاملہ کو سلجھایا اور افسران کو تاکید کی کہ سولے کیرے تالاب جو ہے وہ اس ملک کا وزحد بڑا تالاب ہے اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہونے کی وجہ حفاظت ضروری ہے ،افسران کو چاہیے کہ تالاب میں کسی صورت باہر کی مٹی نہیں نا ڈالی جائے راستہ کی کشادگی کے ترقیاتی کام کے نام پر کسی صورت پہاڑ کو بلاسٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے جس سے پہاڑ کھسکنے کے اثار پیدا ہوسکتے ہیں جو کچھ بھی پہاڑ کی تالاب میں پڑی ہوئی ہے اُس کو فوری نکال کر آگے کام کیا جائے جس پر افسران نے حامی بھری اور کڈگا سنگھا کے اراکین کو تاکید کہ وہ افسران کا تعاؤن کرے ،اس پر معاملہ احتجاج کی بجائے آپسی تبادلہ خیال کے ذریعہ حل ہوا ،اس موقع پر کیدار لنگا شانت ویرا مٹھ کے شانت ویرا سوامی،کڈگا سنگھا کے ریاستی صدر بی آر رگھو،کُبیندرو سوامی،سید نیاز ،امراواتی محمد شبیر کیرے بلچی،نوین چنگیری،وغیرہ شریک رہے۔
