مختلف مذاہب کے پیشوائوں کی جانب سے امن کانفرنس کااہتمام; بھارت ایک مختلف مذاہب پر مشتمل سب سے بڑا جمہوری ملک ہے:ڈی سی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:بجرنگ دل کارکن ہرشا کے قتل کی واردات کے بعد شہر بھر میںپیش آنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں بڑے پیمانے پر تباہی عوامی اثاثوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس فرقہ وارانہ تنازعات کو خاموش کرنے اورماحول میںامن بحال کرنے کیلئےآج مختلف مذاہب کے پیشوائوں اوردانشوران افراد کی جانب سے امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور اس نشست کے ذریعہ عوام کو امن کا پیغام دیاگیا ہے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئےڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیلوامنی نےکہا کہ سب سے پہلے تو بھارت ایک مختلف مذاہب پر مشتمل سب سے بڑا جمہوری ملک ہےجس میں ہم تمام کو ساتھ لیکر چلناہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی شاعر کوئمپو کے یہ الفاظ کبھی نہیں بھولنا چاہئے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا ملک متعدد مذاہب والاامن وسکون کا باغ ہے۔ کچھ غنڈوں کی شرمسار حرکتوں کو اہمیت دئے بغیر ہم سب کو چاہئے کہ ایک دوسرے میںہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔اس موقع پر یوگاچاریہ ڈاکٹر مہنت گرو نے 5 انگلیوں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسطرح 5 انگلیاں برابر نہیں ہوتی سبھی ایک دوسرے کی مخالفت کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی تمام انگلیاں ساتھ ساتھ رہتی ہیں اوروقت آنے پر یہی انگلیاں مٹھی بن کر اپنا دفاع بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہمیں یہ سوچے بغیر کہ ہم الگ الگ ہیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے بجائے ایک ساتھ، اتحاد کے ساتھ ، ایک ہوکر زندگی گذارنا چاہئے۔ ایس پی ڈاکٹر بی ایم لکشمی پرساد نے اس موقع پربات کرتے ہوئے کہا کہ 20 فروری کو ہونے والی واردات کی وجہ سے شیموگہ آج بھی جلتے کوئلے کی طرح سلگ رہا ہے جس کی خبریں میڈیا میں گردش کررہی ہیں لیکن ہمیں چاہئے کہ تمام کو ایک دوسرے کے تعاون سے جلتے کوئلے کے بجائے ہمیں پھلتا پھولتا ہوا پودا بننا چاہئے۔ وی ایچ پی کے رمیش بابو نے بات کرتے ہوئےکہاکہ پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، اپنے مذہب سے محبت اوردوسرے مذاہب کا احترام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کےفعل اورفعال میں تضاد ہوتا ہے ، اگر "میں دل میں زہر گھول کر زبان کو شریں کرتاہوں تو میرے پیغامات یا میری ہدایت کا کوئی فائدہ نہیں "، ہمیں یہ بدلنا چاہئے۔ مولاناشاہ الحمید مصلیارنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب کسی کو قتل کرنے کی ہدایت نہیں دیتاہےاور قتل کرنے والوں کا کوئی دھرم ، یا مذہب نہیںہوتا۔باربار رونما ہونے والے قومی تشدد کی وجہ سے عام لوگوں کو ہی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پروگرام کا آغاز سب سے پہلے زعفرانی، سفید اور سبز رنگ والے کپڑے کو ایک دوسرے سےگانٹھ باندھ کر کیا گیا ۔ گانٹھ کا مطلب اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ پروگرام کی صدارت کررہے بسوا مرکز کے مرولوسدھا بسوا کیندریا شری گرو نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان مزدوری کرنے والے غریب خاندانوں کو ہوتا ہے۔ دن بھر کی کڑی محنت کے بعدجب ایک غریب شام کو اپنے گھر پکوان کا سامان لے جاتا ہے تو اسکے گھروالوں کا پیٹ بھرتا ہےلیکن ان لوگوں کی زندگیاں فساد کی زد میں آکر جہنم بن جاتی ہے۔لیکن اسطرح کے حالات سے بچنے کیلئے ہم نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں اس غفلت سے باہر آنا چاہئے اور تما م کو ایک ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ محبت اوراتحادواتفاق کے ساتھ زندگی گذارنا ہے۔ اس موقع پر، ادوکیٹ کے پی شریپال، گرو مورتی،اڈوکیٹ شہراز مجاہد صدیقی، مولانا ارشاداحمد خان ،فادر اسٹفین،کے ٹی گنگادھر سمیت دیگر افراد موجودتھے۔