شیموگہ :۔منگلوروکےپروین نیٹارو کے قتل کے بعد ریاستی بی جے پی اور بی جے پی حکومت دونوں ہی عوام کے غم و غصے کی زد میں آگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوام کاغم و غصہ عروج پر پہنچ گیاہے۔زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیں اور وہ اپنی کامیابیوں کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہیں۔ نفع و نقصان کی بحث جاری رہتی ہے۔ لیکن پچھلے دنوں ہندو بی جے پی رہنماء کے قتل کی واردات کو لیکر لوگوں میں غصہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وزیر داخلہ کے ٹویٹ میں سے کسی ایک نے بھی انکے ٹویٹ کی حمایت نہیں کی۔وزیر داخلہ نے آج سہ پہر پروین نیٹارو کے قتل کے حوالے سے ٹویٹ کیاہے۔جس میں انہوں نے کہا کہ "کیرالہ سےمنسلک اس ساحلی علاقے میں ماضی میں بھی ایسے ہی واقعات ہو چکے ہیں”۔یہ ممکن ہے کہ پروین نیٹارو کے قتل کیس میں قاتل کیرالہ سے جرم کرنے کیلئے تھے اور واردات کو انجام دینے کے بعد کیرالہ واپس لوٹ گئے ہیں۔ پولیس پہلے سے ہی تفتیش کر رہی ہے۔اسطرح کے ٹویٹ پر حامیوں نےاپناغصہ نکالاہے۔پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی تنظیموں کے ملوث ہونے کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ایک ٹویٹ جس میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے اور مجرموں کو جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا”، یہ ٹویٹ بھی لوگوں کو ناراض کر دیا ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔زیادہ تر لوگ وزیر داخلہ سے استعفیٰ چاہ رہے ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ ریاست کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کا استعفیٰ بھی مانگ رہےہیں۔ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ قاتلوں کے فرار ہونے تک آپ کیا کررہے تھے؟۔کئی لوگوں نے توہرش کی بڑی بہن کو دی جانے والی عزت کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہرشا کی بہن کی عزت کو دیکھ کر سب جان چکے تھےکہ یہ سب ڈرامہ ہے۔صرف 5 گھنٹوںمیں 700 کارکنوں کےعہدوں سے استعفیٰ ملنا ایک بے حس حکومت کیلئے اس سے برا کچھ نہیں ہے۔کچھ لوگوں نے تو اس حدتک کہہ دیا کہ "کمزور وزیر اعلیٰ اوربزدل وزیر داخلہ "۔
