ریاض:۔سعودی عرب کے ولی عہد نے کہا ہے کہ مملکت اورایران ہمیشہ کے لیے ہمسائے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔اس کا حل یہ ہے کہ دونوں کو بقائے باہمی سے رہنا چاہیے۔ولی عہد نے امریکی میگزین دی اٹلانٹک میں شائع شدہ ایک تفصیلی انٹرویو میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات پرروشنی ڈالی ہے اور اسرائیل سے مستقبل میں تعلقات کے بارے میں بھی اظہارخیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہیں اورہم اس تعلق سے ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور وہ ہم سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔اس لیے بہتر ہے کہ ہم دونوں مل کرکام کریں اور ایسے طریقوں کی تلاش کریں جن سے ہم ایک ساتھ رہ سکیں۔دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے چارادوار پر روشنی ڈالتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ ایرانی رہ نماؤں کے جو بیانات ہم نے سنے ہیں، ان کا سعودی عرب میں خیرمقدم کیا گیا ہے ۔ انھوں نے واضح کیا کہ مملکت مذاکرات کی تفصیل کے ذریعے پیش رفت جاری رکھے گی ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایک ایسا سمجھوتاطے پاجائے گا جو دونوں ممالک کے لیے بہترہواور جودونوں کے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرے ۔یادرہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پرحملے کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے لیکن دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ سال عراق کی میزبانی میں مذاکرات شروع ہوئے تھے جبکہ عالمی طاقتیں بھی تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش میں بات چیت کررہی ہیں۔ولی عہد سے جب ایران کے جوہری پروگرام اوراس کے ساتھ نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کا جوہری بم رکھنا ’خطرناک‘ہے۔مجھے یقین ہے کہ دنیا بھرمیں کوئی بھی ایسا ملک جس کے پاس جوہری بم ہے،وہ خطرناک ہے، چاہے وہ ایران ہو یا کوئی اور ملک۔ تو، ہم یہ نہیں دیکھنا چاہتے۔اور یہ بھی کہ ہم ایران سے کوئی کمزورجوہری معاہدہ نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اس کا اختتام بھی بالآخر اسی طرح کے نتیجے پرہوگا۔فلسطین اسرائیل تنازع اور اسرائیل کے ساتھ کھلے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق سوال پر ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کو ایک ممکنہ اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔تاہم اس سے پہلے متعدد متنازع امورکو حل کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع حل ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کو دشمن کے طور پرنہیں دیکھتے، ہم اس کوایک ممکنہ اتحادی کے طور پردیکھتے ہیں، بہت سے مفادات کے حصول کے لیے ہم مل کرکام کرسکتے ہیں۔ لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے ہمیں کچھ مسائل حل کرنا ہونگے۔
