شیموگہ:۔کوویڈکی دوسری لہر پر قابو پانے کیلئے ریاستی حکومت نے 12 مئی تک جنتا کرفیو نافذ کیا ہے۔ فوٹوگرافروں کا پیشہ جو پہلے ہی حکومت کے احکامات کی پابندی کرتا آرہا ہے۔ انہیں اسٹوڈیو کھول کر کام کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ فوٹوگرافر اسوسیشن نے اڈیشنل ڈپٹی کمشنر کویادداشت پیش کرتے ہوئے کیا ہے۔ شیموگہ ڈسٹرکٹ فوٹوگرافر اسوسیشن نے آج اڈیشنل ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ضلع میں پچھلے 25سالوں سے ضلع کے فوٹوگرافروں کی ترقی و فروغ کیلئے کام کرنے والی اسوسیشن ہے۔ ضلع میں قریب 3 ہزار سے زیادہ فوٹوگرافراس پیشے سے جڑے ہیں جن کے 350 سے زائد اسٹوڈیو موجود ہیں۔ کچھ فوٹوگرافر پرنٹ میڈیا، شادی بیاہ اور چھوٹے پیمانے والے پروگرام میں کام کررہے ہیں۔سال میں 6 مہینے ہی شادی بیاہ اوردیگر اچھےپروگرام ہوتے ہیں ، بقیہ دنوں میں فوٹو گرافروں کو مشکل سے گذارا کرنا پڑتا ہے، کہتے ہوئے غیر اطمینانی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مطالبے میں بتایا گیاکہ گذشتہ سال کوویڈ کے دوران پورے سال سے ضلع کے تمام فوٹوگرافرمختلف طرح کی تکلیفوں سےدوچار ہوئےہیں۔ اسی مقصدسے اسوسیشن نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ، ضلعی نگران کار وزیر اور ضلع رکن پارلیمان سے مالی معاوضہ دینے کی گذارش کی تھی لیکن آج تک کسی بھی طرح کی مالی مدد حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اب جبکہ کورونا کی دوسری لہر شروع ہوچکی ہے، حکومت نے جنتا کرفیونافذ کردیا ہے، ایسے میں فوٹوگرافروں کی زندگی مزید مشکلات میں گھر جائیںگی،انہوں نے ضلع انتظامیہ سے گذارش کی ہے کہ انہیں فوٹو اسٹوڈیو کھول کر کام کرنے کا موقع دیا جائےیا نہیں تو فوٹوگرافروں کے اہل خانہ کو زندگی گذارنے کیلئے اس مشکل وقت میں حکومت معاوضہ فراہم کریں۔ اس موقع پر شری دھر، یوگراج، موہن، جی ایم لنگراجو، سومناتھ، ناگراج، سومو وغیرہ موجودتھے۔
