مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا ہمارا آئینی حق ہے:یوسف اسلم
بنگلورو:۔اردوزبان کی اہمیت وافادیت، اسکی بقااور اردو زبان کو مٹانے کی سازشیں روزبروز پروان چڑھ رہی ہیں اورعرصہ دراز سے اردو زبان کے خاتمہ کی سازشیں اورتنازعات چلے آرہے ہیں۔ انہیں سازشوں کی ایک کڑی سرکاری اردو مدارس میں انگریزی میڈیم کھولنا ہے۔ سال رواں 22-2021 میں ریاست بھر کے 400 سرکاری اردو مدارس میں انگلش میڈیم کو کھولنے کا سرکاری حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن کرناٹک ایس ڈی ایم سی میڈریشن کے صدر یوسف اسلم کی صدارت میں کروٹا ، کے ایس جی میوا۔ مختلف مدارس کے ایس ڈی ایم سی کے صدر اوردیگرتنظیموں کی جانب سےکمشنر محکمہ تعلیمات، میناریٹی ڈائریکٹر، میناریٹی چیرمین اورڈائریکٹر فارمیناریٹی فار لنگوسٹیک کو میمورنڈم پیش کیا گیا ہے ۔یوسف اسلم نے یادداشت پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف ہماری ہی کمیونٹی کا ایک طبقہ انگریزی میڈیم کے حق میں اپنا گلا آپ کاٹ رہا ہے۔ ہمارا دستور ہند آرٹیکل 29 اور30 کے تحت یہ حق دیتا ہے کہ مینارٹی طبقے کو اپنی مادری زبان میں تعلیمی ادارے کھولنے اورتعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اورنئی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی 1تا5 ویں جماعت تک تعلیم مادری زبان میں حاصل کرنے کی اہمیت بتلادی گئی ہے تو ہمارےمعاشرے کا یہ طبقہ خود سرکار سے یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں ہماری مادری زبان سے کوئی لگائو نہیں ۔میمورنڈم پیش کرتے ہوئے ایس ڈی ایم سی فیڈریشن کے صدر یوسف اسلم نے اعلیٰ افسران سے انگریزی میڈیم کے آغاز سے اردو زبان ، اردو مدارس اوراردو اساتذہ کو مستقبل میں درپیش نقصانات کے متعلق بحث ومباحثہ کیا۔ موصوف نے یہ بھی بتایا کہ انگریزی میڈیم کھولنے کی وجہ سے جہاں ایک طرف ہماری تہذیب، اخلاقی اقدار، تمدن کو ایک بڑا دھکا پہنچے گا وہیں ایک طرف مسلم کمیونٹی کا ایک بڑا حصہ جو تدریسی پیشے سے منسلک ہے اس میدان میں ان کی تقرر ی نہ کہ برابر ہوجائیگی۔ اعلیٰ افسران نے بھی ان نکات کی حامی بھرتے ہوئے آئندہ دنوں میں اسے روکنے کیلئے جوبھی ضروری اقدامات ہونگے اسے اٹھانے کا بھروسہ دیا ہے۔ یوسف اسلم نے مزیدکہاکہ اردو میڈیم کی حمایت اسلئے بھی کی جارہی ہے کیونکہ بچے کی ابتدائی تعلیم اگر اسکی مادری زبان میں دی جائے تو بچہ میں اسکی ذہنی، مذہبی، تنقیدی، سماجی، تخلیقی، غوروفکر ، استدال کی قابلیتیں،جتنی اچھی طرح مادری زبان میں نشوونما پاسکتی ہیں اتنی اچھی طرح کسی غیر ملکی زبان میں پروان نہیں چڑھ سکتیں ۔ اگر کسی کو اردوزبان اتنی ہی تکلیف اور ہمارے مدارس میں انگریزی زبان کو تیسری زبان کی حیثیت سے پڑھایا جارہا ہے۔دوسرے معنوں میں یہ طبقہ انگریزی میڈیم کی حمایت کرکے بالو اسطہ ہمارے اردو اساتذہ کی قابلیت پر انگلی اٹھارہا ہے ۔ ہم انگریزی زبان کے خلاف نہیں ہیں ہم اردو مدارس میں انگریزی میڈیم کے مخالف ہیں۔ اسلئے ہمارے تمام مسلمان تنظیمات، ادباء، شعراء ، علماء، مختلف غیر سرکاری تنظیمات ہماری اس مہم سے جڑیں اور مادری زبان کی بقاءکیلئے تگ ودوکریں۔ اس موقع پر ضمیر احمد،غالب رضا، اسماعیل پاشاہ، فائزہ تبسم، سنجیدہ شمائلہ، شبانہ ، احمدی، مہ جبین ، رحمت اللہ، ایس ڈی ایم سی صدر حضرات رفیع الدین ، فاروق ، انصرپاشاہ وغیرہ شامل تھے۔
