دہلی:۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکزی حکومت کی طرف سے داخل کی گئی اس رپورٹ کا نوٹس لیا جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہوئے 17,000 ہندوستانیوں کو اب تک نکالا جا چکا ہے۔چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ہیما کوہلیکی بنچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کے بنگلور کی رہنے والی فاطمہ آہانہ اور کئی دیگر میڈیکل طالب علموں کو نکالنے کے لیے کی گئی کوششوں کی تعریف کی۔ یہ لوگ 24 فروری کو روس کی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد رومانیہ کی سرحد کے قریب پھنسے ہوئے تھے۔وینوگوپال نے بنچ کو بتایا کہ جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہوئے 17,000 ہندوستانیوں کو اب تک نکالا جا چکا ہے۔بنچ نے کہاکہ ہم مرکز کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کرتے ہیں۔ اس پر ابھی کچھ نہیں کہہ رہے ہیں، لیکن ہم بھی پریشان ہیں۔بنچ نے ہندوستانی طلباء اور دیگر کو یوکرین سے نکالنے کی مانگ کرنے والی دو عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے مرکز سے کہا کہ وہ پھنسے ہوئے لوگوں کے اہل خانہ کے لئے ایک ’ہیلپ ڈیسک‘ قائم کرنے پر غور کرے۔اہم بات یہ ہے کہ روس کی فوجی کارروائی سے بری طرح متاثر یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے مرکزی حکومت ’آپریشن گنگا‘ چلا رہی ہے۔
