شیموگہ:۔روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران رانی بینور تعلقے چلگیری گائوں کے نوجوان نوین کی موت ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت کو فوری طور پرنوین کے اہل خانہ کو امداد فراہم کرنی چاہئے۔ اسکے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ جنگ زدہ علاقے میں ابھی کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیںاور ان کی زندگیوں کو نقصان نہ پہنچےاس کیلئے کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس بات کا مطالبہ شیموگہ ضلع این ایس یوآئی نے کیا ہے ۔ یوکرین میں پھنسے ہوئے تمام ہندوستانیوں کو بحفاظت ہندوستان لانے کا کام ہورہاہے لیکن مکمل طور پر نہیں ہورہا ہے ۔ مرکزی حکومت کو فوری طور پر یوکرین میں موجود تمام ہندوستانیوں کو بحفاظت واپس لانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام ہندوستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئےکارروائی کی جانی چاہئے۔یوکرین سے ہندوستان آنے والے تقریباً سبھی طلباء ہیں اور انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کو تمام طلبہ کی تعلیم مکمل کرنے کیلئے بھی کارروائی کرنی چاہئے۔ این ایس یوآئی کا اصرار ہے کہ اس معاملے میں صدر ہندکو فوری مداخلت کرنی چاہئے اور مرکزی حکومت کو اس سے آگاہ کرنا چاہئے۔مزید بتایا کہ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے 15-20 لاکھ روپئے خرچ ہوتے ہیں ، لیکن ہمارے ملک میں میڈیکل سیٹ حاصل کرنے کی قیمت کروڑوںروپے سے زیادہ ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ ڈونیشن مافیا میں اضافے کیلئے مرکزی حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔طبی تعلیمی اداروں کے ڈونیشن مافیا کو روکنے میں مرکزی حکومت ناکام رہی ہے۔ جو طلباء یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم کیلئے روانہ ہوئے تھے اگرانکی تعلیمی معیاد مکمل نہیں ہوتی ہے تو ان لوگوں نے اتنے سالوں تک جو مشکلیں اٹھاکر تعلیم حاصل کی ہیں وہ تمام ضائع ہوجائےگا۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کی تعلیم کیلئے آرہی دشواریوںکو حل کرنے کیلئے فوری اقدام کریں۔اس موقع پر این ایس یوآئی کے ضلعی صدر وجئے کمار ایس این، ریاستی سکریٹری نتن، روی، چندروجی رائو، کرن وغیرہ موجودتھے۔
