کیا کرناٹک میں قبل از وقت انتخابات ہونگے؟ بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس اور جے ڈی ایس بھی کررہی ہیں تیاریاں،یوپی کے نتائج پر منحصر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کرناٹک کی سیاسی پارٹیاں 2023 کے اسمبلی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کرچکی ہیں ،اس سے اندازہ لگایاجارہاہے کہ ریاست میں اس دفعہ انتخابات قبل ازوقت ہونگے،حالانکہ بی جے پی خود ہی معیاد سے قبل انتخابات میں جانے کیلئے پُر جوش نظرآرہی ہے۔اگر اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت آتی ہے توکرناٹک میں بھی بی جے پی دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے انتخابات نہ جائیگی اس کا انکارنہیں کیاجاسکتا۔اترپردیش ،پنجاب،اتراکھنڈ،منی پور اور گواکے نتائج کل یعنی جمعرات کو واضح ہونگے،اگر یو پی میں بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو قبل از وقت کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہونے کے قومی امکانات ہیں۔اس تعلق سے بی جے پی کی ہائی کمان کے لیڈران نےکرناٹک کے بھاجپائی لیڈروں کو اشارہ دیاہے۔اسی ضمن میں پارٹی کے سینئرلیڈران مسلسل دہلی کے دورے بھی کررہے ہیں،سابق ریاستی وزیر اعلیٰ بی ایس یڈ ی یورپا،ڈی وی سدانندگوڈا،نلین کمارکٹیل اور جگدیش شٹر کی قیادت میں ٹیمیں الگ الگ مرحلوں میں کام کررہی ہیں۔حالانکہ ابتداء میں یڈی یورپا اکیلے ہی ریاست بھر کا دورہ کرنے کی تیاری کررہے تھے،لیکن پارٹی نے انہیں ایساکرنے سے روکاتھا۔اس درمیان اگلے اتوار کو پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی نشست ہونے جارہی ہے جس میں اہم مدعوں پر بحث ہونے والی ہے ۔ سال 2022 کے اواخرمیں گجرات اور ہماچل پردیش میں ودھان سبھا انتخابات ہونے جارہے ہیں،اسی درمیان کرناٹک میں بھی انتخابات کرنے کی تیاری ہورہی ہے ۔سال 2018 میں کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے،اس لحاظ سے کرناٹک میں ودھان سبھا انتخابات کی معیاد24 مئی2023 تک ہے،لیکن گجرات اسمبلی کی معیاد2022 کے ڈسمبرمیں مکمل ہونے جارہی ہے،اس لحاظ سے اسمبلی انتخابات کو معیاد ختم ہونے کے چھ ماہ کے درمیان ہی انتخابات کروانے کی بات کہی جارہی ہے۔کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ بی بی ایم پی،ضلع پنچایت،تعلقہ پنچایت کے بھی انتخابات ہونے والے ہیں،جیسے ہی یہ انتخابات ختم ہونگے تو فوری طو رپر اسمبلی انتخابات کی تیاری ہوگی۔اس دفعہ کرناٹک میں بی جے پی اقتدارمیں ہونے کے باوجود کانگریس دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، ماہرین کا کہناہے کہ بی جے پی کیلئے اس دفعہ اقتدار حاصل کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ بی جے پی نے بی ایس یڈی یورپا کو ان کے عہدےسے برطرف کیا ہے ، بسوراج بومئی کی ان کی ہی پارٹی میں شدید مخالفت کے باوجود انہیں وزیر اعلیٰ بنایاگیا،ریاست میں حجاب کا مسئلہ بڑھایاگیا،گائوکشی قانون لاگو کیاگیا،ہندوتوا مسائل کو لیکر سیاست کی جارہی ہے،ترقیاتی کام محدود ہوچکے ہیں۔اس وجہ سے کانگریس پارٹی کا بھی مانناہے کہ اگر انتخابات قبل ازوقت چلائے جائیں تو بہتر ہوگا۔ریاست میں قبل از وقت انتخابات کروانے کیلئے صرف بی جے پی ہی نہیں تیاری کررہی ہے بلکہ اپوزیشن جماعتیں اس کی تائیدمیں ہیں،کانگریس پارٹی میکے داٹو کی پدیاترا کے ذریعے سے انتخابی تیاریوں کا بگل بجا چکی ہے،جبکہ جن آکروش یاتراکے ذریعے پٹرول ڈیزل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کئے جانے کوبھی مدعہ بنایاگیاہے،جبکہ جے ڈی ایس اپنے اراکین اسمبلی اور لیڈروں کو ایک جگہ جمع کرکےکارگاہوں کا اہتمام کررہی ہے اور کئی مقامات پر بالمشافہ اُمیدواروں کا اعلان بھی کررہی ہے۔