شیموگہ:۔بھارت کی آزادی کےابتدائی چار عشروں میں کانگریس پارٹی نے پورے بھارت پر قبضہ جما رکھا تھا اور شائدہی کوئی ایسی ریاست تھی جہاں کانگریس کی حکومت نہیں تھی۔لیکن آج سوائے چھتیس گڑھ اور راجستھان کے اور کسی بھی ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت نہیں بچی ہے۔خصوصاً اترپردیش کا کانگریس پارٹی سے پُرانا ناطہ ہے اور اس ریاست کا ہر ضلع کانگریس پارٹی کی نمائندگی کرتارہاہے۔مگر اب 403 اسمبلی حلقوں میں صرف دو اسمبلی حلقوں میں کانگریس پارٹی کاوجود باقی رہاہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اترپردیش میں کانگریس پارٹی آخری سانسیں لے رہی ہے اور اسے وینٹی لیٹر پررکھاگیاہے۔پارٹی میں حد سے زیادہ بھروسہ،اقلیتوں کو درکنارکرنا،پسماندہ طبقات کو نرم ہندوتواکیلئے اُکسانا اور غلط پالیسیوں کواپنانا کانگریس کی شکست کی اہم وجوہات رہے ہیں۔پچھلے کچھ سالوں سے بھارت کے مختلف ریاستوں میں کانگریس پارٹی مسلسل شکست کا سامنا کررہی ہے،اس دفعہ569 امیدواروں میں سے محض52 امیدوار ہی ریاستوں میں کامیاب ہوسکے ہیں۔دراصل کانگریس پارٹی میں قیادت کی کمی ہے،کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے پاس نہ سیاسی بصیرت ہے اور نہ ہی سیاسی پکڑ ہے،سوائے ان کے پاس یہ لقب کہ وہ گاندھی پریوارکی بہو ہیں۔سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کے پاس بھی سیاسی تجربہ کی کمی ہے اور ان کی سرپرستی قابل سیاستدانوں کے ماتحت نہیں ہے،انہیں بھی سوائے گاندھی پریوارکے ہونے سے اورکوئی صلاحیت نہیں ہے۔کانگریس پارٹی میں کئی ایسے رہنماء بھی ہیں جنہوں نے کئی حکومتوں کو بنایااور بنانے میں کارگر ثابت رہے،لیکن ان تمام سینئرلیڈروں کو گاندھی پریوارنے دور کردیاجس کی وجہ سےانہیں شکست کا سامنا کرناپڑرہاہے۔اسی طرح سے کانگریس پارٹی نہ پوری طرح سے سیکولر رہی ہے اور نہ ہی وہ کمیونل کہلاسکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی فرقہ پرستی کوروکنے میں کانگریس پارٹی ہمیشہ سے ہی ناکام رہی ہے اور خود اپنے وجود کو بچانے میں بھی انہیں ناکامی رہی ہے۔بھارت کا بڑا حصہ جو سیکولر کہلاتاہے اُس کی سیکولر بنیادوں کو بچائے رکھنے میں کانگریس پارٹی ناکام رہی ہے۔خصوصاً اقلیتوں کے ساتھ دو رُخی برتائو نے انہیں نقصان پہنچایاہے جبکہ کچھ ایسے فیصلے جس میں گھمنڈاور تکبرکے علاوہ کچھ نہیں تھا،اُس سے کانگریس پارٹی کے سینئرلیڈران پارٹی سے دور ہوتے گئے ہیں۔غلام نبی آزاد،کپل سبل،سچن پائلٹ،جیوتی رادھیاسندھیا جیسے لیڈران دورہوچکے ہیں۔سینئرلیڈروں کی کسی بھی طرح کی بات ماننے کیلئے راہول گاندھی تیارنہیں ہیں جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میںکانگریس پارٹی مزید نقصانات کاسامنا کرسکتی ہے اور یہی رفتارجاری رہی تو کانگریس پارٹی ملک کے سیاسی نقشے سے ہمیشہ سے مٹ جائیگی،رفتہ رفتہ اس پارٹی کے نشان کی انگلیاں کٹ کر صرف ہتھیلی رہے جائیگی،اسی طرح سے کانگریس سےجڑے ہوئے مسلم لیڈروں کو بھی چاہیے کہ وہ مزید کانگریس کے ہی بل بوتے پر رہنے کی فکر چھوڑیں،کیونکہ کٹی ہوئی انگلیوں کی ہتھیلی نہ کھانے کے کام آتی ہے نہ پنجہ مارنے کے کام آتی ہے۔
