از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اتر پردیش ،اتراکھنڈ،گوا،پنجاب اور منی پور کے اسمبلی انتخابات کے تنائج منظرعام آچکے ہیں اور توقع اور غیر توقع کے مطابق اس وقت بی جے پی نے ان ریاستوں میں بازی مارلی ہے،جہاں سیکولر طاقتیں انیک تھیں وہیں کمیونل بی جے پی ایک ہوکر انتخابات میں تختہ ہی پلٹ دیا اور ہرجگہ پر بی جے پی نے یہ ثابت کردیاکہ تمہارے سیکولرزم کے سامنے ہماری کمیونلزم زیادہ موثرہےاور تم سیکولرزم کے نام پر ووٹ کاٹتے رہواور ہم ہندوتواکے نام پر دیش کو بانٹتے رہیں گے۔اتر پردیش میں اکثریت واقلیت سیکولرپارٹیوں کے ساتھ ہونے کے باوجود بی جے پی نے بازی مارلی اور ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ دوبارہ اقتدارپر قابض ہونے کی تیاری مکمل کرچکاہے،وہیں سیکولر پارٹیاں اپنی شکست کا سہرا ایک دوسرے پر باندھنے کی ناکام کوششیں کررہےہیں۔ایک طرف ای وی ایم کو موردِ الزام ٹھہرایاجارہاہے تو دوسری طرف اویسی کوشکست کا فیکٹر ماناجارہاہے۔403 اسمبلی حلقوں میں اویسی نے100 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور یہ علاقے مسلم اکثریتی علاقے تھے۔یہاںپر اویسی کے امیدواروں کے جیتنے کے امکانات زیادہ تھے،لیکن نام نہاد سیکولر پارٹیاں وہاں بھی کھڑے ہوئے پانی میں انگلی ڈال کر پانی کو گندہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔دراصل یوپی،منی پور،گوا،اتراکھنڈ اور پنجاب کے نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں اویسی یا ای وی ایم مشینیں بی جے پی کی فتح کیلئے کام نہیں کی ہیں بلکہ بھارت میں ہندوتواکے نام پرجو زہر فشانی ہورہی ہے اُس کے نتائج کا اثرہے۔بھارت کے شہریوں کو ہندو اور مسلمانوں میں بانٹا جارہاہے،ہندوراشٹرکی طرف یہ نتائج اہم قدم مانے جاسکتے ہیں۔اس وقت مسلمان اپنے آپ کو یا اپنوں پر الزام تراشیاں کرنے کے بجائے اُن حالات پر نظرڈالیں جو ہندوراشٹرکو روکنے کیلئے کارآمد اور موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔مسلمان اپنوں پر الزام تراشیاں نہ کریں کہ اپنوں کی پشت پناہی کریں،چھوٹے پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو اپنے قائدین تیارکریں،یہ نہ دیکھیں کہ وہ کس مسلک یا مکتب فکر کا ہے،یہ نہ دیکھیں کہ اُس کا کاروبارکیاہے،یہ نہ دیکھیں کہ اُس کی آمدنی کیا ہے،اُس کا خرچ کیا ہے،کیونکہ ہمیں اپنا قائد کا انتخاب کرناہے نہ کہ جیجاجی یا دامادکا،ہماری قیادت کیلئے 210،420،840 کے لوگ بھی ملیں گے نہ کہ سلطان صلاح الدین ایوبی،محمد بن قاسم یا پھراورنگ زیب کا جنم دوبارہ ہوگا اور نہ ہی آسمان کے فرشتے زمین پر آکر مسلمانوں کی قیادت کا بیڑااٹھائینگے!۔اب وقت آگیاہے کہ مسلمان اپنی قیادت کو مضبوط کریں اور قائدین مسلمانوں کی قیادت کیلئے آگے آئیں،جہاں کہیں بھی مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ اتحاد قائم کرسکتے ہیں وہاں شرائط کی بنیاد پر اتحاد قائم کریں،بھارت کو برہمن واد،منوواد اور شدت پسندوں سے بچانے کیلئے جئے بھیم،جئے میم،جئے مول نیواسی کا فارمولہ ہی کارآمد ہوسکتاہے،ورنہ بی جے پی کی شدت پسندی ،کانگریس کا میٹھا ہندوتوا اور،یادو ،گوڈا،جاٹ اور برہمن ولنگایت اپنے اپنے بل پر بھارت کو تباہ وبرباد کردینگے۔
