بنگلورو:موجود حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس ملک اورریاست کے انتخابی نظام میں سدھار لانے کی اشدضرورت ہے۔ اس بات کا اظہار ودھان سبھا اسپیکر وشویشوریاہیگڑے کاگیری نے کیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ عوام کا ماننا ہے کہ انتخابات،ذات اورپیسوں کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیںاور کن کن امور پر اس میں سدھارلانی چاہئے اسکا بھی خیال ممکن نہیں ہے۔ یہ مدع زیر بحث لانا چاہئے اوراس پر ایک طویل بحث ہوناضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام انتخابی پارٹیوں کو لیکر بھی غیر اطمینا ن اورناامیدہوچکی ہے۔ جمہوریت میں انتخابی نظام کے بارے میں بحث شروع ہونی ضروری ہے۔انہوں نےکہا کہ میں نے بہت سے انتخابات دیکھیں ہیں ، حال ہی میں ہونے والے ودھان پریشد انتخابات کسطرح ہوئے ہیں اسکا بھی تجربہ مجھے ہوچکا ہے۔ اگر انتخابی نظام میں درستگی نہیں آتی ہے تو عوامی زندگیوں کو ہمیشہ مسائل میں ہی گھیر ا ہوا پائیںگے۔ لہٰذا انتخابی نظام میں تبدیلی لانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ اسپیکر کاگیری نے سماج کے سینئراوردانشمند افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑیںاور جمہوری نظام پر یقین رکھنے والوں کو اس نظام میں سدھار لانے پر اپنی آواز بلند کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ سماج کے دانشمند افراد کو سب کچھ عوامی نمائندوں پر ڈال کر خود کو محفوظ کرنے کاکام نہیں کرنا چاہئے۔سماج میں کیا ہورہا ہے اس سے واقف رہنے کے باوجود ہمارے سینئروں کی خاموشی اچھی نہیں ہےانہیں اپنی خاموشی توڑ کر اپنی ذاتی ذمہ داریوںسمجھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت منتخب شدہ عوامی نمائندوںکی کیا کیا مشکلات رہی ہیں یہ ہم نے ودھان پریشد انتخابات کے دوران محسوس کیا ہے۔ کم ازکم اب تو انتخابی نظام میں سدھارلانے کے بارے میں بحث شروع ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوبھی اپنی ذمہ داری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ محض تکنیکی سطح پر انتخابات منعقد کرنے سے الیکشن کمیشن کو محدود نہیں رہنا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کی اپنی آزادانہ سوچ اورآئینی اقدار پر کئی ساری ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اس پر کمیشن اپنا کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے انتخابی نظام میں سدھارلانے کے بارے میں بھی میں نے حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے اور ودھان سبھا میں بھی اس پر بحث ہونی چاہئے ۔
