یوکرین کے مفتی اعظم سعید اسماگلو میدان جنگ میں ؛ فوجی وردی پہن کر روس سے لڑنے کا اعلان

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
کیف:۔ روس کا یوکرین پر حملے کا آج ۱۹واں دن ہے، دارالحکومت کیف کے اطراف میں شدید جنگ جاری ہے ۔ یوکرین کے مغربی علاقوں میں لڑائی شدید ہوگئی ہے، جو اب تک محفوظ ٹھکانہ تصور کیاجارہا تھا اب وہاں کشت و خوں کا بازار گرم ہے۔دوسری جانب بڑی تعداد میں یوکرین سے شہری یوروپی ممالک کی جانب ہجرت کررہے ہیں جس سے یوروپ میں کورونا کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ دریں اثناء یوکرین کے مفتی اعظم بھی میدان جنگ میں آگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین کے مفتی اعظم سعید اسماگیلوو بھی فوجی وردی پہن کر روسی فوج کے خلاف جنگ کے لیے میدان میں آ گئے۔روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد صدر ولودومیر زیلینسکی نے ملک چھوڑنے کی امریکی پیشکش مسترد کرتے ہوئے عوام سے روس کے خلاف لڑنے کی اپیل کی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی مسلم کمیونٹی میں اہم شخصیت کے طور پر مانے جانے والے امام سعید اسماگیلوو بھی روس کی جانب سے حملے کے فوری بعد یوکرین کی فوج کا ساتھ دینے کے لیے سامنے آئے تھے اور اس حوالے سے فوجی وردی میں ان کی متعدد تصاویر بھی زیر گردش ہیں۔امام سعید اسماگیلوو نے روسی جارحیت کے خلاف ناصرف خود فوجی وردی پہنی بلکہ یوکرین کے مسلمانوں سے بھی اپنے ملک کے دفاع کے لیے سامنے آنے کا کہا۔یوکرین کے گرانڈ مفتی نے جنگ میں روس کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تمام یوکرین کے تمام مسلمانوں کو روسی جارحیت کے خلاف لڑنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ روس کے جن مسلمان رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف جنگ کی منظوری دی انہوں نے دراصل ہماری ماؤں بہنوں اور بچوں کے قتل کی منظوری دی اس لیے میں کبھی بھی انہیں معاف نہیں کروں گا، انہیں چاہیے کہ اپنی پگڑیاں اتار کر کچرے میں پھینک دیں کیونکہ انہیں مذہبی رہنما کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔اس کے علاوہ مفتی سعید اسماگیلوو نے روس کے خلاف جنگ میں برسرپیکار مسلمان لڑکے اور لڑکی کا نکاح بھی پڑھایا اور دونوں کو ملکی دفاع کے لیے سامنے آنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ادھر روسی فوج کے  ماریوپول شہر پر حملوں میں ۲۵۰۰سے زائد شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔یوکرین کے صدر کے دفتر کے سینئر مشیر اولیکسی آریسٹووچ نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ ماریوپول میں کشیدگی برقرار ہے اور یوکرین کی فوج نے روسیوں کے حملوں کو روک دیا۔انہوں نے کہا کہ  کہ شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام  روسی افواج  نے شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایایا ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی اس شہر کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ مقامی حکام کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2500 سے زیادہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھےہیں ۔یوکرین میں روسی فوجیوں کی جانب سے کیے گئے حملے میں دارالحکومت کیف میں 9 منزلہ اپارٹمنٹ کی عمارت سے توپ کا گولہ لگنے کے نتیجے میں 2 شہری جان کی بازی ہار گئےہیں ۔یوکرین کی ہنگامی صورتحال سروس کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے مطابق، روسیوں کی طرف سے مقامی وقت کے مطابق 05:09 پر کیے گئے حملے میں، توپ کا گولہ دارالحکومت کیف کے ضلع اوبولونسکی میں واقع اپارٹمنٹ پر گرا۔حملے کے نتیجے میں 9 منزلہ اپارٹمنٹ کی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔امدادی کارکنوں نے اپارٹمنٹ میں موجود 63 افراد کو باہر نکالا اور 2 افراد کی لاشیں نکالیں۔روسی فوجیوں نے کیف میں انتونوف فیکٹری پر بھی حملہ کیا ہے ۔دوسری جانب اطلاع ملی ہے کہ صوبہ سمیع کا شہر اہترکا بھی رات کے وقت شدید فضائی حملے کی زد میں رہا۔اہترکا کے گورنر پاول کزمینکو کی جانب سے  فیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تصویر میں علاقے کے مکانات پر رات بماری کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے کم از کم 3 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ میری پشت پر گھر جلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔